اپریل 5, 2025 12:27 صبح

English / Urdu

سونے کی قیمت میں آج پھر بڑا اضافہ، فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟

پاکستان بھر میں سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا۔ آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر میں سونے کی فی تولہ قیمت 1620 روپے اضافے کے بعد 3 لاکھ 25 ہزار روپے ہوگئی۔ 10 گرام سونے کی قیمت 1389 روپے اضافے سے 2 لاکھ 78 ہزار 635 روپے ہے۔ مزید پڑھیں: پٹرول کی نئی قیمتوں کا اعلان، کیا ردوبدل ہوا؟ دوسری جانب عالمی بازار میں سونے کی قیمت 10 ڈالر اضافے سے 3084 ڈالر فی اونس ہے۔ واضح رہے کہ سونا خریدنا روایتی طور پر محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، جس کی قیمت افراط زر، سیاسی اور معاشی عدم استحکام کے اوقات میں بڑھ جاتی ہے۔ اسے صدیوں سے کرنسی اور دولت کی شکل کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے، جب سرمایہ کار دوسرے اثاثوں کے بارے میں غیر یقینی محسوس کرتے ہیں، تو وہ اکثر سونا خریدتے ہیں۔

” سندھ میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں” حافظ نعیم الرحمان

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہاں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں، کراچی لاوارث ہو چکا ہے،عوام نے جن لوگوں کو مسترد کیا تھا، انہیں اسٹیبلشمنٹ نے فارم 47 کے ذریعے مسلط کر دیا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے ملیر ہالٹ پر ٹینکر کی ٹکر سے جاں بحق ہونے والی فیملی  کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور ان سے تعزیت کا اظہار کیا،جس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ملیر ہالٹ کا اندوہناک واقعہ پورے پاکستان کو ہلا کر رکھ دینے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کو پورے پاکستان میں امتیازی حیثیت حاصل ہے، لیکن شہریوں کو بنیادی حقوق تک نہیں دیے جاتے۔ انہوں نے کراچی میں مافیاز کے راج کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ روزانہ ٹینکر، ٹرالے اور ڈمپر دندناتے پھرتے ہیں، جبکہ حکومت بے بس نظر آتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حادثات دنیا بھر میں ہوتے ہیں، لیکن کراچی وہ بدقسمت شہر ہے جہاں شہری جاں بحق ہو جائیں تو انصاف نہیں ملتا اور مافیاز حکومتی نمائندوں کے ساتھ بیٹھے ہوتے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ کراچی میں ترقیاتی منصوبے انتہائی سست روی کا شکار ہیں۔ دیگر شہروں میں نو ماہ میں مکمل ہونے والے منصوبے کراچی میں کئی سالوں سے تعطل کا شکار ہیں۔ انہوں نے مثال دی کہ گرین لائن کو آٹھ سال، جبکہ ریڈ لائن کو چار سال ہو چکے، لیکن ابھی تک یہ منصوبے مکمل نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں ساڑھے تین ہزار ٹینکر، ڈمپر اور ٹرالر کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے کہ وہ دن دہاڑے سڑکوں پر دندناتے پھریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹینکر اور ڈمپر مالکان کو معلوم ہے کہ واقعے کے بعد ان سے کوئی باز پرس نہیں ہوگی، اس لیے وہ بلا خوف و خطر اپنی سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں۔ انہوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ سی ایم ہاؤس اور گورنر ہاؤس مافیاز کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملیر ہالٹ کے حادثے کے متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان نے کہا کہ کراچی کے عوام کو مافیاز کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 5 اپریل کو آئی جی آفس کا گھیراؤ کیا جائے گا اور پورا پاکستان اس احتجاج کی حمایت کرے گا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر یہ ٹینکر پانی کی فراہمی کے لیے ہیں تو پیپلز پارٹی کو جواب دینا ہوگا کہ وہ 17 سال سے کیا کر رہی ہے؟ حافظ نعیم الرحمن نے مزید اعلان کیا کہ 27 اپریل کو شاہراہِ فیصل پر عظیم الشان اور تاریخی حقوق ملین مارچ ہوگا، جس میں عوام کے اربوں روپے کے ٹیکس ان مافیاز سے چھین کر عوام پر خرچ کرنے اور ظالموں کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا عزم کیا جائے گا۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان، سیکریٹری کراچی توفیق الدین صدیقی، اور امیر ضلع ائیرپورٹ محمد اشرف بھی موجود تھے۔

’’ہمارے پاس وفاقی حکومت گرانے کی طاقت ہے‘‘ وزیراعلیٰ سندھ کی دھمکی

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے چولستان کینال منصوبے پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس وفاقی حکومت گرانے کی طاقت ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی اپنے اختیارات کا استعمال کرے گی۔ کراچی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ پانی کی کمی سندھ کے لیے سب سے اہم مسئلہ ہے۔ انہوں نے انڈس ریور سسٹم میں پانی کی کمی کا مکمل ریکارڈ موجود ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ نگران حکومت کی واپڈا اسٹڈی ناقص اور متنازع ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دیامیر بھاشا ڈیم کے بعد 60 لاکھ ایکڑ فٹ پانی دستیاب ہوگا، تاہم اس پر بھی اعتراضات موجود ہیں۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ پنجاب حکومت چناب دریا سے پانی لینے کے لیے چولستان کینال بنانے کی تجویز دے رہی ہے، جس پر سندھ کو سخت اعتراض ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر 27 ایم ایف پانی ڈیلٹا میں جا رہا ہے تو ڈیلٹا سرسبز کیوں نہیں؟ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) میں اٹھایا جائے گا اور سندھ اس کی بھرپور مخالفت کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری کو بتایا گیا تھا کہ اضافی زمین آباد کرنے کا منصوبہ ہے، جس پر انہوں نے شرط رکھی تھی کہ صوبے متفق ہوں۔ تاہم، اجلاس کے منٹس میں غلط بیانی کی گئی اور منصوبے کو آگے بڑھایا گیا۔ مراد علی شاہ نے الزام لگایا کہ پنجاب حکومت نے گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت زمین دی اور وہاں سولر سسٹم اور ٹیوب ویلز لگا کر کارپوریٹ فارمنگ شروع کی، جبکہ سندھ کو اس منصوبے سے مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ اسمبلی نے چولستان کینال کے خلاف قرارداد منظور کی ہے اور یہ معاملہ اقتصادی کمیٹی (ایکنک) میں بھی زیر بحث آئے گا، جہاں سندھ بھرپور مخالفت کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اپنے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور یہ وفاقی حکومت پاکستان پیپلز پارٹی کے بغیر نہیں چل سکتی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ چولستان کینال منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے اور سندھ حکومت نے مارچ میں اپنی ٹیم بھیجی تو معلوم ہوا کہ وہاں کینال کی تعمیر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیٹلائٹ امیجز سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ جولائی اور اگست میں وہاں کام شروع کیا گیا۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ منصوبہ 218 ارب روپے کا تھا جو اب 225 ارب تک پہنچ چکا ہے، اور اس کا اصل تخمینہ ایک ٹریلین روپے سے زائد ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے پی سی ون میں پہلے سال 45 ارب روپے خرچ کرنے کی تفصیلات دی تھیں، جبکہ سندھ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دریائے سندھ ہماری زندگی ہے، اور وفاق کو سندھ کی بات ماننی پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن وفاقی حکومت کے خاتمے کی خواہشمند ہے، لیکن ہم اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہیں گے اور آئینی و قانونی طریقے سے اس منصوبے کی راہ روکیں گے۔

علی امین گنڈا پور نے ضم شدہ اضلاع کے مالی اخراجات پر صدرمملکت کو خط لکھ دیا

خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے صدر آصف علی زرداری کو خط لکھا ہے جس میں ان پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ضم شدہ اضلاع کے مالیاتی اخراجات پر 10ویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کا اجلاس بلائیں۔ گنڈا پور نے اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ 2018 میں 25ویں آئینی ترمیم، جس نے سابقہ ​​وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کو کے پی کے ساتھ ضم کر دیا، ضم ہونے والے اضلاع کے 57 لاکھ باشندے مالی طور پر پسماندہ اور اپنے جائز حصے سے محروم ہیں۔ وزیراعلیٰ کا خط کے پی اسمبلی کی جنوری میں منظور کی گئی قرارداد کے بعد ہے، جس میں ایک نئے این ایف سی ایوارڈ کا مطالبہ کیا گیا ہے جہاں وفاقی حکومت اور صوبوں کو صوبے کے ضم شدہ اضلاع کے لیے اضافی 3 فیصد حصہ مختص کرنا ہوگا۔ واضح رہے کہ قبائلی علاقوں کے کے پی میں انضمام کے بعد صوبے کو 2024 تک 360 ارب روپے ادا کیے جانے چاہیے تھے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ سابق فاٹا کا شیئر وفاقی حکومت کو مل رہا ہے جوغیر آئینی ہے، مالی وسائل کی تقسیم کے لیے 10 واں این ایف سی اجلاس جلد بلایا جائے

کراچی کنگز نے پی ایس ایل 10 کے لیے روی بوپارا کو ہیڈ کوچ مقرر کر دیا

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے دسویں ایڈیشن کی تیاریوں کے لیے کراچی کنگز نے ایک فیصلہ کیا ہے۔ کراچی نے جمعہ کے روز انگلینڈ کے سابق پلیئر ‘روی بوپارا’ کو پی ایس ایل 10 کے لیے اپنے ہیڈ کوچ کے طور پر مقرر کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے ساتھ ہی ‘محمد مسرور’ کو ہائی پرفارمنس کوچ کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔ روی بوپارا، جو کراچی کنگز کے ساتھ طویل عرصے سے وابستہ ہیں انہوں نے اپنے کرکٹنگ کیریئر میں کئی اہم کردار ادا کیے ہیں۔ وہ 2016 سے 2019 تک کراچی کنگز کے کھلاڑی رہے ہیں اور 2016 میں کپتان بھی رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ 2023 میں بیٹنگ کوچ اور 2024 میں اسسٹنٹ کوچ کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ روی بوپارا کا ٹیم کی گہرائی میں سمجھ بوجھ اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں وسیع تجربہ انہیں پی ایس ایل 10 میں ٹیم کی قیادت کے لیے بہترین انتخاب بناتا ہے۔ اس کے علاوہ محمد مسرور، جو کراچی کنگز کے ساتھ طویل عرصے سے فیلڈنگ کوچ اور اسسٹنٹ کوچ کے طور پر وابستہ ہیں اور اب ہائی پرفارمنس کوچ کے طور پر اپنی ذمہ داریوں کا آغاز کریں گے۔ ان کی مہارت اور کھلاڑیوں کی ترقی میں تجربہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ کراچی کنگز کے کھلاڑیوں کی کارکردگی میں مزید بہتری آئے گی۔ کراچی کنگز کے مالک سلمان اقبال نے ان تقرریوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ “ہم روی بوپارا کو پی ایس ایل 10 کے لیے اپنے ہیڈ کوچ کے طور پر خوش آمدید کہتے ہیں، ان کا کراچی کنگز کے ساتھ سفر بطور کھلاڑی اور پھر کوچنگ اسٹاف کا حصہ بننا ان کی اس فرنچائز کے لیے گہری وابستگی کو ظاہر کرتا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ ان کی قیادت میں ٹیم میں نئی توانائی آئے گی۔” انہوں نے مزید کہا ہے کہ “محمد مسرور کی ہائی پرفارمنس کوچ کے طور پر ترقی ان کی محنت اور لگن کا اعتراف ہے۔ ان دونوں کی قیادت میں کراچی کنگز ایک مضبوط اور کامیاب ٹیم کے طور پر سامنے آئے گی۔” کراچی کنگز کی ٹیم پی ایس ایل 10 کا آغاز 11 اپریل سے کرے گی اور ان کا پہلا میچ 12 اپریل کو اپنے ہوم گراؤنڈ نیشنل بینک اسٹیڈیم کراچی میں ملتان سلطانز کے خلاف ہوگا۔ مزید پڑھیں: پی ایس ایل 10: پی سی بی نے ٹکٹوں کی فروخت کا اعلان کردیا، کب اور کیسے ہوگی؟

مستونگ: دھرنے کے قریب خودکش دھماکا، اختر مینگل بال بال بچ گئے

بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ سردار اختر مینگل کی قیادت میں جاری دھرنے کے قریب مستونگ کے علاقے لک پاس میں مبینہ خودکش دھماکہ ہوا، خوش قسمتی سے سردار اختر مینگل اور دیگر قائدین محفوظ رہے اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پولیس کے مطابق خودکش بمبار نے بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے احتجاج کے قریب دھماکہ کیا۔ عینی شاہدین نے کا کہنا ہے کہ ایک زوردار دھماکے کی آواز سنی گئی، جس نے قریبی علاقے کو ہلا کر رکھ دیا۔ پولیس حکام نے کہا ہے کہ دھماکے کی نوعیت کی تحقیقات جاری ہیں۔ بی این پی کے ترجمان غلام نبی مری کے مطابق خودکش حملہ آور اسٹیج کے قریب جانا چاہتا تھا، لیکن سردار اختر مینگل کے ذاتی محافظوں نے اسے مشکوک جان کر روک لیا اور دھرنے کے پنڈال سے باہر نکال دیا، جس پر حملہ آور نے خود کو وہاں دھماکے سے اڑا لیا۔ سردار اختر مینگل نے میڈیا کو بتایا ہے کہ حملہ آور نے دھرنے سے تقریباً 400 گز کے فاصلے پر خود کو دھماکے سے اڑا دیا، جس کے نتیجے میں بی این پی کے چار کارکن زخمی ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں کسی تنظیم سے کوئی خطرہ نہیں، اگر کسی سے خطرہ ہے تو وہ سرکار سے ہے۔ حکومت جان بوجھ کر حالات کو خراب کرنا چاہتی ہے۔ واضح رہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر خواتین کی گرفتاری کے خلاف بی این پی نے 28 مارچ کو وڈھ خضدار سے لانگ مارچ کا آغاز کیا تھا۔ یہ مارچ مختلف شہروں سے گزرتا ہوا لک پاس پہنچا، جہاں سیکیورٹی فورسز نے ٹینل کے قریب کنٹینرز لگا کر راستہ بند کر دیا۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جس کے بعد بی این پی نے لک پاس میں دھرنا دیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ کوئٹہ ضرور جائیں گے اور جب تک گرفتار خواتین کو رہا نہیں کیا جاتا، احتجاج جاری رہے گا۔ بی این پی نے کوئٹہ میں دھرنے کی اجازت کے لیے ڈپٹی کمشنر کو درخواست دی تھی، لیکن سیکیورٹی خدشات کے باعث درخواست مسترد کر دی گئی۔

کراچی کی آئل ریفائنری میں لگی آگ کئی گھنٹے بعد بھی نہ بجھائی جا سکی

کراچی کے علاقے کورنگی میں آئل ریفائنری کے قریب لگنے والی شدید آگ کئی گھنٹوں بعد بھی قابو میں نہیں آ سکی۔ فائر بریگیڈ کی دس گاڑیاں آگ بجھانے میں مصروف ہیں۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق آگ مبینہ طور پر گیس پائپ لائن میں لگنے کے بعد پھیلی، تاہم اس کی حتمی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ خوش قسمتی سے تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، مگر آگ کے دھوئیں سے قریبی علاقوں کے مکینوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ فائر بریگیڈ حکام نے آگ کو تیسرے درجے کی آگ قرار دیا ہے، جبکہ پولیس نے تصدیق کی ہے کہ آگ آئل ریفائنری سے دور لگی ہے۔ سوئی سدرن گیس کمپنی کا عملہ بھی موقع پر پہنچ گیا ہے۔ فائر آفیسر محمد ظفر کے مطابق شہر بھر سے فائر ٹینڈرز طلب کر لیے گئے ہیں۔ پانی کی پائپ لائن کی بورنگ کے دوران گیس لائن کو نقصان پہنچا، جس سے آگ بھڑکی۔ ان کا کہنا ہے کہ آگ پر پانی ڈالنے کے باوجود وہ دوبارہ بھڑک رہی ہے، جس سے قابو پانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آگ بجھانے کے لیے کسی ڈمپر یا ہیلی کاپٹر کے ذریعے مٹی ڈالنے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے چیف فائر آفیسر سے رابطہ کر کے ہدایت دی ہے کہ آگ پر فوری قابو پایا جائے۔ فائر فائٹنگ آپریشن مکمل ہونے کے بعد ہی نقصان کا درست اندازہ لگایا جا سکے گا۔

امریکی نائب صدر کی ڈنمارک پر تنقید، گرین لینڈ میں چین اور روس سے مقابلہ کرنے کا دعویٰ

امریکی نائب صدر جی ڈی وینس نے ڈنمارک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ گرین لینڈ کی حفاظت کے معاملے میں ناکام ہو چکے ہیں اور امریکا اس نیم خودمختار ڈنمارکی علاقے کی زیادہ بہتر طریقے سے حفاظت کرے گا۔ وینس کا کہنا تھا کہ گرین لینڈ میں موجود امریکی فوجی بیس، پٹوفک، میں امریکا کی فوجی موجودگی میں فوری طور پر کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا تاہم امریکا اس خطے میں مزید وسائل اور بحری جہاز شامل کرے گا تاکہ چین اور روس جیسے ممالک کی بڑھتی ہوئی مداخلت کا مقابلہ کیا جا سکے۔ وینس نے اس موقع پر گرین لینڈ کے لوگوں کی خودمختاری کے احترام کا عہد کیا مگر ساتھ ہی یہ دعویٰ کیا کہ گرین لینڈ کو امریکا کے ساتھ تعاون میں اپنی حفاظت اور معیشت کے لیے بہت فائدہ ہوگا۔ ان کے مطابق روس اور چین جیسے ممالک گرین لینڈ کے ارد گرد کے سمندری راستوں، آرکٹک میں موجود معدنیات، اور نیوی گیشن کے لیے غیر معمولی دلچسپی دکھا رہے ہیں۔ جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ “ڈنمارک نے وسائل کی کمی کے سبب گرین لینڈ کی حفاظت میں ناکامی دکھائی ہے“۔ یہ بھی پڑھیں: نیپال میں بادشاہت کی بحالی کے لیے احتجاج: پولیس کے تشدد سے صحافی سمیت دو افراد ہلاک وینس نے ڈنمارک کی حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ “ڈنمارک نے اس کی فوجی بیس اور ہمارے فوجیوں کی حفاظت کے لیے درکار وسائل مہیا نہیں کیے ہیں۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ “اسی وجہ سے گرین لینڈ کو روس، چین اور دیگر ممالک کی جارحانہ سرگرمیوں کا سامنا ہے”۔ تاہم انہوں نے ان جارحانہ کارروائیوں کی تفصیل نہیں بتائی۔ امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ خواہش ہمیشہ سے رہی ہے کہ امریکا گرین لینڈ کو اپنے زیر کنٹرول لے گا اور وینس نے اس بات کا عندیہ بھی دیا ہے کہ امریکا اس علاقے کی حفاظت میں زیادہ اہم کردار ادا کرے گا۔ وینس کی اس سخت بیان بازی پر ڈنمارک اور گرین لینڈ کے حکام میں غم و غصہ پایا گیا۔ گرین لینڈ کے نئے وزیرِ اعظم، جینس-فریڈرک نیلسن نے اس دورے کو ‘عدم احترام’ کا مظاہرہ قرار دیا جبکہ ڈنمارک کی وزیر اعظم ‘میٹ فریڈرکسن’ نے کہا کہ “امریکی نائب صدر کا ڈنمارک کے بارے میں بیان غیر منصفانہ ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ “ڈنمارک اور امریکا نے ہمیشہ مشکل حالات میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے اور وینس کا یہ بیان ہمارے طویل تعلقات کے برعکس ہے۔” لازمی پڑھیں: اسرائیل کا لبنان پر سب سے بڑا فضائی حملہ، حزب اللہ کے ڈرون اسٹور کو نشانہ بنایا گیا وینس کے دورے کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایک بیان دیا ہے جس میں کہا کہ امریکا کو گرین لینڈ کی ضرورت ہے تاکہ دنیا بھر میں امن برقرار رکھا جا سکے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ “گرین لینڈ کے آبی راستوں میں چین اور روس کی بہت زیادہ موجودگی ہے اور امریکا اس صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے کسی بھی دوسرے ملک پر انحصار نہیں کر سکتا۔” ڈنمارک کے وزیر خارجہ ‘لارس لوک’ نے کہا کہ وینس نے اس بات پر کچھ حد تک درست موقف اپنایا ہے کہ “ڈنمارک نے کافی وسائل نہیں فراہم کیے مگر اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ امریکا نے خود بھی اس معاملے میں کافی کمی کی ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ سرد جنگ کے دوران جب امریکا نے گرین لینڈ میں 17 فوجی اڈے قائم کیے تھے اور ان میں 10,000 فوجی موجود تھے جبکہ آج امریکا کے پاس 200 فوجی ہیں۔ امریکا کی اس بڑھتی ہوئی دلچسپی اور وینس کے تنقیدی بیانات کے بعد گرین لینڈ اور ڈنمارک کی حکومتوں کی جانب سے محتاط ردعمل سامنے آیا ہے۔ تاہم، امریکا کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور روس و چین کے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیش نظر یہ ممکنہ طور پر ایک سیاسی اور فوجی محاذ کھول سکتا ہے جس کا عالمی سطح پر گہرا اثر پڑے گا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب گرین لینڈ میں ایک نئی وسیع حکومت تشکیل پائی ہے جس کا مقصد ڈنمارک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط رکھنا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گرین لینڈ کی حکومت کو امریکا کی بڑھتی ہوئی فوجی موجودگی اور اس کے اثرات پر گہری تشویش ہے۔ وینس کا یہ دورہ اور اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ عالمی طاقتوں کی اقتصادی، فوجی اور جغرافیائی سیاست میں گرین لینڈ کی اہمیت دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔ مزید پڑھیں: یوکرین پر روسی ڈرون حملے میں چار افراد ہلاک، 19 زخمی، کئی گھروں کو آگ لگ گئی

عید سے پہلے عیدی: الخدمت نے زیرکفالت بچوں کو بڑے مال میں شاپنگ کرادی

الخدمت فاؤنڈیشن نے یتیم بچوں کے چہروں پر خوشیاں بکھیرنے کے لیے ایک خوبصورت قدم اٹھایا۔ عید کی خوشیوں میں انہیں شامل کرنے کے لیے لاہور کے ڈولمن مال لے جایا گیا، جہاں انہوں نے اپنی پسند کے نئے کپڑے اور جوتے خریدے۔ یہ صرف خریداری کا موقع نہیں تھا بلکہ ان بچوں کے لیے ایک یادگار دن بھی تھا۔ مال میں گھومنے پھرنے، تفریحی سرگرمیوں اور مزیدار کھانوں سے انہوں نے بھرپور لطف اٹھایا۔ الخدمت فاؤنڈیشن کا یہ اقدام ان بچوں کے لیے کسی تحفے سے کم نہیں، جو والدین کے سائے سے محروم ہیں۔ یہ خوشیاں بانٹنے کا خوبصورت انداز تھا، جس نے بچوں کے دل میں محبت اور اپنائیت کا احساس پیدا کیا۔ ایسے اقدامات معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں اور دوسروں کو بھی نیکی کے اس سفر میں شامل ہونے کی ترغیب دیتے ہیں۔

‘ایران کو یا تو ہمارے ساتھ بات کرنی ہوگی یا پھر اس کے لئے برا وقت آئے گا’ امریکی صدر

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو دھمکی دی ہے کہ اگر وہ جوہری معاہدہ نہیں کرتا تو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ یہ دھمکی ٹرمپ نے ایران کی جانب سے جوہری معاہدے پر مذاکرات کے حوالے سے بھیجے گئے خط کے جواب میں دی ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق امریکی صدر نے ‘اوول آفس’ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے حال ہی میں ایران کو ایک خط بھیجا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ایران کو فیصلہ کرنا ہوگا۔ ٹرمپ نے کہا کہ “ایران کو یا تو ہمارے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کرنی ہوگی یا پھر اس کے لئے برا وقت آئے گا۔” ٹرمپ نے اپنے بیان میں واضح کہا ہے کہ ان کی سب سے بڑی ترجیح یہ ہے کہ ایران کے ساتھ مسئلہ حل کیا جائے لیکن اگر ایسا نہ ہو سکا تو ایران کے لئے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔ امریکی صدر نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنائی کو مارچ کے آغاز میں ایک خط بھیجا تھا جس میں جوہری معاہدے پر مذاکرات کی پیشکش کی گئی تھی۔ ٹرمپ نے اس موقع پر کہا کہ ایران کے ساتھ دو طریقوں سے نمٹا جا سکتا ہے۔ ایک طریقہ عسکری ہے اور دوسرا معاہدے کے ذریعے، جسے وہ ترجیح دیتے ہیں کیونکہ ان کے مطابق ایران کے ساتھ تصادم سے بچنا ضروری ہے۔ یہ بھی پڑھیں: یوکرین پر روسی ڈرون حملے میں چار افراد ہلاک، 19 زخمی، کئی گھروں کو آگ لگ گئی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ “ہم ایک اور جوہری بم نہیں بننے دے سکتے”۔ ایران نے اس تمام صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے امکان کو رد کر دیا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ وہ ملک عمان کے ذریعے ٹرمپ کے خط کا جواب دے چکا ہے جس میں ایران کے موقف کو واضح کیا گیا ہے۔ عراقچی نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات نہیں کرے گا تاہم بالواسطہ مذاکرات کا امکان برقرار ہے۔ ایران نے امریکی صدر کی دھمکیوں کے باوجود مذاکرات کے دروازے کو بند نہیں کیا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ماضی میں بھی ایران نے امریکا کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کیے ہیں اور یہ طریقہ اب بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ ٹرمپ نے اپنے خط میں ایران کو جوہری معاہدے پر مذاکرات کے لئے دو ماہ کی مہلت دی تھی۔ ایران کے ساتھ امریکی تعلقات میں کشیدگی اس وقت بڑھ گئی تھی جب ٹرمپ نے 2018 میں ایران کے ساتھ طے شدہ جوہری معاہدے سے یکطرفہ طور پر امریکا کو نکال لیا تھا اور ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ اب، جبکہ ایران نے امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات سے انکار کیا ہے تو دنیا بھر میں اس بات کا تجزیہ کیا جا رہا ہے کہ آیا ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ مذاکرات سے کسی معاہدے کا امکان پیدا ہو سکے گا یا نہیں۔ مزید پڑھیں: نیپال میں بادشاہت کی بحالی کے لیے احتجاج: پولیس کے تشدد سے صحافی سمیت دو افراد ہلاک