اپریل 4, 2025 3:58 شام

English / Urdu

فیصل چودھری عمران خان بیانیے کی جنگ جیت رہے تھے، پیغام باہر نہ آنے دینے کا منصوبہ بنایا گیا

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی لیگل ٹیم کے سابق رکن فیصل چوہدری نے کہا ہے کہ سابق وزیرِاعظم عمران خان بیانیے کی جنگ جیت رہے تھے، اسی لیے ان کا پیغام باہر نہ آنے دینے کا منصوبہ بنایا گیا۔ نجی نشریاتی ادارے سماء نیوز کے مطابق میڈیا سے گفتگو میں فیصل چوہدری نے واضح کیا کہ ان کا پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ وہ عمران خان کے ساتھ ہیں اور جب وہ کہیں گے، وکالت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملاقاتیں ہونا یا نہ ہونا ایک معمول کی بات ہے، لیکن آج بھی جن افراد نے ملاقاتیں کی ہیں، ان کے ذریعے عمران خان کا پیغام باہر نہیں آیا۔ فیصل چوہدری نے کہا کہ ضلعی جنرل سیکریٹری کی عمران خان سے بات کرنا ان کے لیول کی بات نہیں، ان سے تو قومی یا بین الاقوامی امور پر گفتگو ہونی چاہیے۔ فیصل چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ جب وہ یا علیمہ بی بی عمران خان سے بات کرتے تھے تو ان کا پیغام باہر آتا تھا، جس کے بعد تیزی سے سیاسی صورتحال میں تبدیلی آتی تھی، لیکن حالیہ ملاقاتوں میں عمران خان کا مؤقف سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ کچھ لوگوں کی اسٹیبلشمنٹ سے ملاقات ہوئی ہے، مگر ان ملاقاتوں میں عمران خان کا مؤقف کیوں سامنے نہیں آیا، یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ فیصل چوہدری نے مزید کہا کہ اس بار دوبارہ اے پی سی بلائی جا رہی ہے، لیکن اس میں عمران خان کا مؤقف سامنے نہ لایا جانا باعثِ تشویش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جیل کے باہر عام شہری ہم سے پوچھتے ہیں کہ عمران خان کب رہا ہوں گے، لیکن ہمارے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں۔ “گرینڈ پوزیشن الائنس” کے حوالے سے بات کرتے ہوئے فیصل چوہدری نے کہا کہ اس میں اب تک کامیابی نہیں مل سکی۔ ان کے بقول اگر مولانا فضل الرحمان اتحاد کا حصہ نہیں بنتے تو یہ سب “چوں چوں کا مربہ” ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو انقلاب لانا چاہتے ہیں، وہ پنجاب میں ایک مضبوط تنظیم کے بغیر ممکن نہیں۔ عالیہ حمزہ اور اعظم سواتی بھرپور کوشش کر رہے ہیں، لیکن ان کا راستہ روکا جا رہا ہے، حالانکہ وہ پی ٹی آئی کے بہادر کارکنان ہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ پرانی تنظیم تو ختم ہو چکی ہے، اب ایک نئی تنظیم سازی کی ضرورت ہے جو پارٹی کو آگے لے کر جائے، کیونکہ عمران خان تو جیل میں ہیں۔ تاہم، عمران خان اندر صحت مند اور مضبوط ہیں، وہ لڑ رہے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں رہا نہیں ہونا چاہیے۔ فیصل چوہدری نے خبردار کیا کہ عمران خان کی رہائی میں جتنی تاخیر ہوگی، اتنا ہی زیادہ نقصان ہوگا۔

لاہور سے جدہ جانے والی پرواز کی ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ، انتظامی نااہلی یا تکنیکی خرابی؟

لاہور سے جدہ جانے والی سیرین ایئر کی پرواز ER-821 بڑے حادثے سے بچ گئی، طیارے کے انجن میں خرابی کے باعث ٹیک آف کے فوراً بعد ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔ ذرائع کے مطابق طیارہ آٹھ گھنٹے کی تاخیر کے بعد لاہور ایئرپورٹ سے روانہ ہوا، لیکن جیسے ہی پرواز نے اڑان بھری، کاک پٹ کریو نے انجن میں شدید وائبریشن محسوس کی۔ پائلٹ نے فوری طور پر ایئر ٹریفک کنٹرول (ATC) سے رابطہ کیا اور ہنگامی لینڈنگ کی اجازت طلب کی۔ ایئر ٹریفک کنٹرول کی جانب سے فوری اجازت دی گئی، جس کے بعد طیارے کو بحفاظت لاہور ایئرپورٹ پر اتار لیا گیا۔ طیارے میں موجود 200 سے زائد مسافروں کو بحفاظت اتار کر ویٹنگ ایریا منتقل کر دیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رن وے پر طیارے کا ابتدائی معائنہ کیا گیا، جس میں انجن میں خرابی کی تصدیق ہوئی۔ انجینئرز کی ٹیم نے طیارے کے انجن کا تفصیلی معائنہ شروع کر دیا ہے تاکہ خرابی کی اصل وجوہات معلوم کی جا سکیں۔ واضح رہے کہ ائیرلائن انتظامیہ نے مسافروں کو متبادل پرواز کے ذریعے جدہ روانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ریسکیو 1122 ماہانہ رپورٹ: پنجاب میں 42 ہزار سے زائد ٹریفک حادثات، 422 افراد جاں بحق

پنجاب ایمرجنسی سروس نے ماہِ مارچ کے دوران صوبے بھر میں 1 لاکھ 84 ہزار 837 ایمرجنسیز پر بروقت رسپانس کرتے ہوئے 1 لاکھ 90 ہزار 104 متاثرین کو ریسکیو سروسز فراہم کیں۔ ترجمان ریسکیو پنجاب کے مطابق گزشتہ ماہ صوبے میں 42,549 ٹریفک حادثات پیش آئے، جن میں 422 افراد جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہوئے۔ ریسکیو 1122 کے اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں پیش آنے والے 42,549 ٹریفک حادثات میں سے سب سے زیادہ 8,289 حادثات لاہور میں رپورٹ ہوئے، جن میں 41 افراد جاں بحق ہوئے۔ دیگر شہروں میں فیصل آباد میں 2,982، ملتان میں 2,528، گوجرانوالہ میں 2,363، شیخوپورہ میں 1,551 اور راولپنڈی میں 1,363 حادثات پیش آئے، جب کہ باقی 23,453 حادثات دیگر اضلاع میں ہوئے۔ پنجاب ایمرجنسی سروس نے گزشتہ ماہ مجموعی طور پر 1,48,837 ایمرجنسیز پر فوری رسپانس دیا، جن میں 1,19,312 میڈیکل ایمرجنسیز، 4,893 گرنے/سلپ ہونے کے واقعات، 4,356 ڈلیوری کیسز، 3,635 جرائم سے متعلقہ واقعات، 2,146 آتشزدگی کے واقعات، 1,864 پیشہ ورانہ حادثات، 762 جانوروں کو ریسکیو کرنے، 543 کرنٹ لگنے، 389 جھلسنے، 56 ڈوبنے، 36 عمارتیں گرنے اور 4,296 متفرق ریسکیو کیسز شامل تھے۔ پنجاب بھر میں آتشزدگی کے 2,146 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں سب سے زیادہ 382 واقعات لاہور میں پیش آئے۔ دیگر شہروں میں فیصل آباد میں 180، راولپنڈی میں 145، ملتان میں 100، گوجرانوالہ میں 79 اور سیالکوٹ میں 79 آتشزدگی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ ریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق پنجاب میں حادثات کی بڑی وجوہات میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی، تیز رفتاری اور لاپرواہی شامل ہیں۔ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دورانِ ڈرائیونگ احتیاط برتیں اور حادثات سے بچاؤ کے لیے حفاظتی تدابیر اپنائیں۔

کون، کیوں اور کیسے؟ پاکستانی صحافیوں کے اسرائیلی دورے پر سوالات اٹھ گئے

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) نے بعض پاکستانی صحافیوں کے حالیہ اسرائیل کے مبینہ دورے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے صحافتی اخلاقیات اور ملکی خارجہ پالیسی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ نجی خبررساں ادارے انڈیپینڈنٹ اردو کے مطابق پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ اور سیکریٹری جنرل ارشد انصاری نے ایک بیان میں اس دورے کو انسانی حقوق کی عالمی جدوجہد کے خلاف قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ حکام اس معاملے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کریں۔ صحافیوں کی نمائندہ تنظیم نے تشویش کا اظہار کیا کہ جب پاکستان کی پالیسی واضح طور پر اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی ہے اور وہاں سفر پر پابندی ہے، تو یہ صحافی کیسے وہاں پہنچے؟ پی ایف یو جے نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سفر کی تفصیلات سامنے لائے اور اس کے پس پردہ عناصر کو بے نقاب کرے۔ بیان میں کہا گیا کہ ایسے وقت میں جب اسرائیل اب تک 150 سے زائد صحافیوں کو قتل کر چکا ہے اور عالمی سطح پر آزادیٔ صحافت کے لیے ایک خطرناک مقام تصور کیا جاتا ہے۔ پاکستانی صحافیوں کا وہاں جانا اُن بے شمار صحافیوں کی قربانیوں کو کمزور کرنے کے مترادف ہے، جو جنگ زدہ علاقوں میں سچ اور انصاف کے لیے اپنی جانیں قربان کر چکے ہیں۔ دوسری جانب کراچی پریس کلب کی مشترکہ ایکشن کمیٹی نے بھی اس دورے پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اس کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان کا کہنا ہے کہ پاکستانی پاسپورٹ واضح طور پر اسرائیل کے لیے کارآمد نہیں اور اگر کوئی پاکستانی اسرائیل گیا ہے تو ممکنہ طور پر اس نے دوسری شہریت کا استعمال کیا ہوگا۔” اسرائیلی میڈیا کے مطابق مارچ کے وسط میں 10 رکنی پاکستانی وفد نے تل ابیب اور مقبوضہ بیت المقدس کا دورہ کیا، جس میں صحافیوں، محققین اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے۔ پی ایف یو جے نے پاکستانی میڈیا برادری پر زور دیا کہ وہ آزادیٔ صحافت اور اصولی صحافت کے عزم پر قائم رہیں اور سچ کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کریں۔

صدر آصف زرداری ناساز طبیعت کے سبب اسپتال منتقل کردیے گئے

صدر مملکت آصف علی زرداری کی طبعیت ناساز ہوگئی اور وہ کراچی میں کلفٹن کے نجی اسپتال ایڈمٹ کردیے گئے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق صدر پاکستان کو رات4 بجے اچانک صحت خراب ہونے پر اسپتال لایا گیا۔ صدرزرداری اسپتال کے چھٹے فلور پر ایگزیکٹو وارڈ میں زیرعلاج ہیں۔ اسپتال کے باہر سیکیورٹی، ایس آئی یو اور پولیس کی بھاری نفری تعینات ہیں، پیپلز پارٹی کے کئی رہنما بھی نجی اسپتال میں موجود ہیں۔ واضح رہے کہ صدر مملکت اسلام آباد سے اپنے آبائی علاقے نواب شاہ عید منانے آئے تھے، آصف زرداری کو انفیکشن اور بخار کے باعث اسپتال میں داخل کیا گیا ہے، جہاں ان کے مختلف ٹیسٹ کیے جائیں گے۔

اڈیالہ جیل میں نیا تنازعہ، سلمان اکرم راجا کو عمران خان سے ملاقات کرنے سے روک دیا گیا

اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان سے ملاقات کے دوران نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا، جب پی ٹی آئی کے نامزد کوآرڈینیٹر سلمان اکرم راجا کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، جب کہ اعظم سواتی، نادیہ خٹک، تابش فاروق، مبشر اعوان اور انصر کیانی کو ملاقات کی اجازت مل گئی۔ نجی نشریاتی ادارے ڈان نیوز کے مطابق جیل کے گیٹ نمبر 5 پر سلمان اکرم راجا اور دیگر افراد کو روک لیا گیا، جس پر انہوں نے جیل کے عملے سے احتجاج کیا۔ سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ انہوں نے جو نام دیے تھے، ان میں سے انہیں ملاقات کی اجازت کیوں نہیں دی گئی؟ انہوں نے عملے سے کہا کہ اگر ہمیں ملاقات کے لیے اندر نہیں بھیجا گیا تو کوئی بھی شخص ملاقات نہیں کرے گا۔ پی ٹی آئی کوارڈینیٹر کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے مطابق صرف وہ افراد ملاقات کر سکتے ہیں جن کے نام دیے گئے ہیں اور اگر ان کے نام پر عمل نہیں کیا جاتا تو یہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہوگی۔ انہوں نے عملے سے درخواست کی کہ انہیں اور نیاز اللہ نیازی کو بھی ملاقات کے لیے بھیجا جائے۔ واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی جیل ملاقاتوں سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے ان سے منگل اور جمعرات کو ملاقات کی اجازت دی تھی اور حکم دیا تھا کہ ملاقات کے دوران میڈیا سے گفتگو نہیں کی جائے گی۔ مگر دوسری جانب آج جیل کے عملے نے سلمان اکرم راجا، شعیب شاہین اور نیاز اللہ نیازی کو ملاقات کی اجازت نہیں دی۔

پاکستان: رمضان 2025 میں ایک دہائی کے سب سے زیادہ حملے ریکارڈ، کیا حکمت عملی ناکام رہی؟

پاکستان میں رواں سال رمضان کے دوران عسکریت پسندوں کے حملوں میں شدید اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، جو کہ گزشتہ دس سالوں میں سب سے زیادہ ہیں۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق 2025 کے رمضان میں کم از کم 84 حملے ریکارڈ کیے گئے ہیں، جب کہ 2024 کے رمضان میں یہ تعداد 26 تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی میں بعض عسکریت پسند گروہ رمضان کے دوران حملے روک دیتے تھے، لیکن حالیہ برسوں میں ملک میں تشدد میں مجموعی طور پر اضافہ ہوا ہے۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے نومبر 2022 میں حکومت کے ساتھ یک طرفہ جنگ بندی ختم کرنے کے بعد عسکریت پسند سرگرم ہو گئے ہیں، جب کہ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے بھی اپنے حملوں کی شدت بڑھا دی ہے۔ 28 فروری 2025 کو خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ کے شہر اکوڑہ خٹک میں دارالعلوم حقانیہ میں خودکش دھماکے کے بعد سکیورٹی فورسز نے مدرسے کی حفاظت بڑھا دی تھی۔ 11 مارچ 2025 کو بلوچستان کے جنوب مغربی علاقے میں بی ایل اے نے ٹرین ہائی جیکنگ کی، جس میں کم از کم 25 افراد ہلاک ہوئے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کے مطابق رمضان کے پہلے تین ہفتوں میں 61 حملے ریکارڈ کیے گئے، جب کہ گزشتہ سال رمضان میں مجموعی طور پر 60 حملے ہوئے تھے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ یہ رمضان سکیورٹی اہلکاروں کے لیے ایک دہائی میں سب سے زیادہ مہلک ثابت ہوا، جس میں 2 مارچ سے 20 مارچ کے دوران 56 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کے مینیجنگ ڈائریکٹر عبداللہ خان نے کہا کہ ملک میں عسکریت پسند گروہوں کے درمیان اتحاد بڑھ رہا ہے اور شمال مغربی علاقوں میں حافظ گل بہادر گروپ پاکستانی طالبان سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لشکرِ اسلام جیسے گروہ بھی دوبارہ فعال ہو گئے ہیں۔ خیال رہے کہ پاکستان نے افغانستان میں طالبان حکومت پر ان عسکریت پسندوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کیا ہے، تاہم کابل نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

فرانس: عدالتی فیصلہ یا سیاسی انتقام؟ اپوزیشن رہنما میرین لی پین غبن کیس میں نااہل قرار

فرانس کی عدالت نے معروف اپوزیشن سیاست دان اور ‘ریسمبلمنٹ نیشنل’ پارٹی کی سابق رہنما میرین لی پین کو یورپی عوامی فنڈز کے غبن کے مقدمے میں مجرم قرار دیتے ہوئے انہیں چار سال قید، ایک لاکھ یورو جرمانہ اور پانچ سال کے لیے انتخابی نااہلی کی سزا سنا دی ہے۔ عدالت کے مطابق 2004 سے 2016 کے دوران ‘ریسمبلمنٹ نیشنل پارٹی’ نے یورپی پارلیمنٹ کے تقریباً 2.9 ملین یورو کے فنڈز کو غلط طریقے سے قومی سیاسی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا۔ عدالت کے صدر بینیڈیکٹ ڈی پرتھوئس نے کہا کہ لی پین 2009 سے اس “نظام” کا مرکز رہی ہیں اور پارٹی کے معاونین نے یورپی پارلیمنٹ کے بجائے قومی سطح پر پارٹی کے لیے کام کیا۔ عدالتی فیصلے پر لی پین کی پارٹی کے صدر اردن بارڈیلا نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صرف میرین لی پین کی نہیں، بلکہ فرانسیسی جمہوریت کی بھی سزا ہے۔ ان کے مطابق یہ سیاسی انتقام ہے، جس کے ذریعے لی پین کو انتخابی دوڑ سے باہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس فیصلے پر عالمی سطح پر بھی ردعمل آیا ہے۔ ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان نے سوشل میڈیا پر “Je suis Marine” (میں میرین ہوں) کا نعرہ بلند کیا، جب کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ترجمان دمتری پیکوکوف نے بھی اس فیصلے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یورپی سیاست میں جمہوری اصولوں کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ عدالتی فیصلے کے بعد اردن بارڈیلا کو ریسمبلمنٹ نیشنل پارٹی کے آئندہ صدارتی امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ حالیہ سروے کے مطابق اگر آج انتخابات ہوں تو لی پین کو 34% سے 37% ووٹ ملنے کی توقع تھی، لیکن نااہلی کے باعث وہ انتخابی دوڑ سے باہر ہو چکی ہیں۔ واضح رہے کہ اس عدالتی فیصلے کے بعد لی پین 2027 کے صدارتی انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گی، جسے ان کے سیاسی کیریئر کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

عید پر ادھوری خوشیاں: اولڈ ایج ہوم میں اپنوں کے انتظار میں آبدیدہ آنکھیں

عیدالفطر کی خوشیاں ہر کسی کے لیے مسرت اور محبت کا پیغام لاتی ہیں، لیکن بعض افراد کے لیے یہ دن تنہائی اور ماضی کی یادوں میں ڈوبے ہوتے ہیں۔ کراچی کے علاقے کورنگی میں واقع المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی کے اولڈ ایج ہوم میں مقیم بزرگ شہریوں کی عید بھی کچھ ایسی ہی تھی، جہاں انہوں نے اپنے جذبات اور تجربات کا اظہار کیا۔ اس ادارے میں مقیم ایک 68 سالہ بزرگ کا کہنا تھا کہ وہ یہاں تقریباً ڈیڑھ سال سے رہ رہے ہیں۔ انہوں نے ماضی کے کراچی کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ پہلے شہر کی آبادی کم تھی، ہر جگہ محبت اور اپنائیت کا ماحول تھا، لیکن وقت کے ساتھ سب کچھ بدل گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ باپے بڑے ہو گئے تو ناکارہ ہو گئے، ماں بڑی ہو گئی تو اُس کے لیے بھی مشکلات پیدا ہو گئیں۔ ایک اور بزرگ شہری نے کہا کہ وہ تیرہ سال کی عمر میں ہی نوکری کرنے لگے تھے اور اب اپنے نواسوں اور پوتوں کو بڑا ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ والدین سرمایہ ہوتے ہیں اور بچوں کو چاہیے کہ ان کا خیال رکھیں۔ ماں باپ نے آپ کو بچپن میں نہیں پھینکا تو آپ بھی ان کو بڑھاپے میں تنہا نہ چھوڑیں۔ ادارے کی انتظامیہ کے مطابق یہاں رہنے والے بزرگ شہریوں کو عید کے موقع پر خصوصی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ انہیں عید کے روز نئے کپڑے دیے گئے، خصوصی کھانے کا انتظام کیا گیا اور ان کے اہل خانہ کو ملنے کی اجازت دی گئی۔ ایک بزرگ نے بتایا کہ ان کی اہلیہ اور بیٹے ہر عید پر ان سے ملنے آتے ہیں، جب کہ کچھ افراد ایسے بھی ہیں جنہیں ان کے پیارے یاد تک نہیں کرتے۔ ادارے کے منتظمین کا کہنا ہے کہ یہاں بزرگ شہریوں کی صحت کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ انہیں میڈیکل فیسلیٹیز، موسمی ضروریات کے مطابق اشیاء اور روزانہ چیک اپ فراہم کیا جاتا ہے۔ “اگر کسی کو شگر یا بلڈ پریشر کا مسئلہ ہو تو ان کے ٹیسٹ باقاعدگی سے کیے جاتے ہیں۔” المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی کے اولڈ ایج ہوم میں مقیم بزرگوں کا کہنا ہے کہ عید کا دن یہاں بھی خوشیوں سے خالی نہیں ہوتا، لیکن اپنے گھر کی کمی ہمیشہ محسوس ہوتی ہے۔ ان کا پیغام تھا کہ جوائنٹ فیملی سسٹم کو مضبوط کیا جائے اور والدین کو ان کے بڑھاپے میں اکیلا نہ چھوڑا جائے۔

اپریل فول: دنیا کے 8 ممالک جہاں مذاق کی انتہا کر دی جاتی ہے

دنیا بھر میں یکم اپریل کو اپریل فول ڈے کے نام سے پکارا جاتا ہے، جس دن لوگ ہنسی مذاق اور شرارتوں میں مصروف رہتے ہیں، ایک دوسرے کو تنگ کرنا اور غلط خبر دینا عام ہوتا ہے، لیکن کچھ ممالک ایسے بھی ہیں جہاں یہ روایت ایک سنجیدہ مشن بن جاتی ہے۔ غیر ملکی خبررساں ادارے انٹرٹینمنٹ ٹائمز کے مطابق اپریل فول کی اصل تاریخ پر مورخین متفق نہیں، لیکن قدیم روم، قرونِ وسطیٰ کا یورپ اور برطانیہ کی مزاحیہ روایات اس دن کی جڑیں سمجھی جاتی ہیں۔ آج دنیا کے مختلف حصوں میں یہ دن منفرد انداز میں منایا جاتا ہے۔ فرانس: ‘اپریل فش’ کا منفرد مذاق فرانس میں لوگ “Poisson d’Avril” یعنی “اپریل فش” کے نعرے کے ساتھ دوسروں کی پیٹھ پر کاغذی مچھلی چپکاتے ہیں۔ اس روایت کی اصل وجوہات تو کوئی نہیں جانتا، لیکن یہ فرانس میں اپریل فول کا روایتی انداز ضرور بن چکا ہے۔ اسکاٹ لینڈ: دو دن کا اپریل فول اسکاٹ لینڈ میں یکم اپریل کو Hunt the Gowk Day منایا جاتا ہے، جس میں لوگوں کو بے کار اور عجیب و غریب کاموں پر بھیجا جاتا ہے، جب کہ اگلے دن Tailie Day منایا جاتا ہے، جس میں شرارتی نوٹس دوسروں کی پیٹھ پر چپکانے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ پولینڈ: “خبردار! آپ کو دھوکہ دیا جا سکتا ہے” پولینڈ میں اپریل فول (Prima Aprilis) کے موقع پر ہر کسی کو محتاط رہنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔ یہاں ایک مقبول کہاوت ہے: “Prima Aprilis, uważaj, bo się pomylisz!” (اپریل فول، ہوشیار رہو—تمہیں دھوکہ دیا جا سکتا ہے!)۔ اس دن مذاق کا شکار بننے سے بچنا کسی چیلنج سے کم نہیں ہوتا۔ برازیل: ‘جھوٹ کا دن’ برازیل میں یکم اپریل کو Dia das Mentiras (یعنی جھوٹ کا دن) کہا جاتا ہے۔ یہاں پر اس دن جھوٹی خبریں، سنسنی خیز افواہیں اور حیران کن دعوے عام ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے لوگوں کو سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایران: اپریل فول سے پہلے کا تہوار ایران میں اپریل فول سے بھی پرانی ایک روایت موجود ہے جسے سزدہ بدر کہا جاتا ہے۔ یکم یا 2 اپریل کو منائے جانے والے اس دن میں لوگ فطرت کے قریب وقت گزارتے ہیں اور شرارتوں کا سہارا لیتے ہیں۔ جرمنی: خبروں میں مذاق جرمنی میں Aprilscherz کے نام سے اپریل فول کی روایت موجود ہے، جہاں لوگ انتہائی مستند نظر آنے والی جعلی خبریں تیار کرتے ہیں۔ بڑے اخبارات بھی اس کھیل میں شامل ہو جاتے ہیں اور ایسی کہانیاں شائع کرتے ہیں جو عوام کو حیران کر دیتی ہیں۔ پرتگال: آٹے سے حملہ پرتگال میں اپریل فول کا دن نہیں منایا جاتا، لیکن اس کی جگہ وہ روزوں سے قبل کے دنوں میں شرارتیں کرتے ہیں۔ ان کا سب سے پسندیدہ مذاق دوسروں پر آٹا پھینکنا ہوتا ہے۔ اسپین اور لاطینی امریکہ: اپریل کے بجائے دسمبر میں فول ڈے اسپین اور کئی لاطینی امریکی ممالک 28 دسمبر کو Día de los Santos Inocentes کے نام سے ایک دن مناتے ہیں، جو اپریل فول سے مشابہہ ہے۔ اس دن شرارتوں کی مکمل آزادی ہوتی ہے، اور جو بھی ان چالوں کا شکار ہوتا ہے، اسے بس مسکرا کر برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ان سب سے ایک چیز واضح ہوتی ہے کہ انسانی فطرت میں مزاح کی محبت ہر جگہ پائی جاتی ہے، مگر اپریل فول کے دن کسی پر بھروسہ کرنا انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔