اپریل 5, 2025 12:50 صبح

English / Urdu

‘آبادی کو نکالا جائے’ اسرائیل کا غزہ میں مزید کارروائیاں کرنے کا اعلان

اسرائیلی حکام نے بدھ کے روز غزہ میں اپنی فوجی کارروائیوں کے بڑے پیمانے پر توسیع کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ غزہ کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر کے انہیں سیکیورٹی زون میں شامل کیا جائے گا، جس کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں آبادی کو وہاں سے نکالا جائے گا۔ اسرائیلی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ غزہ میں فلسطینی مزاحمتی گروہ حماس کے خلاف عوامی احتجاج کی خبریں ان کے لیے حوصلہ افزا ہیں، اور اس فوجی آپریشن کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ مقامی آبادی کی طرف سے حماس پر دباؤ بڑھایا جائے۔ اسرائیلی وزیر یسرائیل کاٹز نے کہا کہ وہ اس بات کی وضاحت نہیں کر سکتے کہ اسرائیل کتنی زمین پر قبضہ کرے گا۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج پہلے ہی غزہ میں ایک بڑی بفر زون قائم کر چکی ہے، جو جنگ سے پہلے غزہ کے کناروں پر موجود تھی، اور اب اسے مزید وسعت دے کر نیٹزاریم کوریڈور کے نام سے ایک نیا سیکیورٹی علاقہ بھی بنایا گیا ہے۔ اسرائیلی قیادت نے عندیہ دیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے لیے رضاکارانہ ہجرت کو آسان بنانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس مطالبے کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ غزہ کو مستقل طور پر خالی کروا کر ایک ساحلی تفریحی مقام میں تبدیل کیا جائے اور اسے امریکی کنٹرول میں دیا جائے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ وہ ایک بار پھر حماس کو غیر مسلح کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ فوجی دباؤ ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے باقی ماندہ 59 یرغمالیوں کی بازیابی ممکن ہو سکتی ہے۔ کاٹز نے کہا کہ وہ غزہ کے رہائشیوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ابھی قدم اٹھائیں، حماس کا خاتمہ کریں اور تمام یرغمالیوں کو واپس کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی جنگجوؤں اور ان کے انفراسٹرکچر کو ختم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے اور یہی جنگ کے خاتمے کا واحد راستہ ہے۔ “ہاسٹیج فیمیلیز فورم” نامی تنظیم، جو غزہ میں قید افراد کے خاندانوں کی نمائندگی کرتی ہے، نے کہا کہ وہ وزیر دفاع کے اس اعلان پر گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت پر لازم ہے کہ وہ تمام یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ہر ممکن سفارتی اور مذاکراتی راستہ اختیار کرے۔

کیریئر کی پہلی سیڑھی، انٹرنشپ اب چند کلکس کی دوری پر

پاکستان  میں بے روزگاری کی شرح گزشتہ دس سالوں کی نسبت ڈیڑھ فیصد سے بڑھ کر سات فیصد پر پہنچ گئی ہے جو بھارت اور بنگلہ دیشن سے بھی زیادہ  ہے ۔بے روزگاری کو ختم کرنے کے لیے سالانہ  15 لاکھ نئی نوکریوں کی ضرورت ہے لیکن ملک کی آبادی میں سالانہ 50 لاکھ افراد کا اضافہ اس میں رکاوٹ ہے جس پر قابو پائے بغیر تعلیم،روزگار اور صحت کی بہتر سہولیات فراہم کرنا  ممکن نہیں ہے۔ یہ وہ حقائق ہیں جو رواں سال پلانگ کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ میں شامل ہیں۔مگر سوال یہ ہے کہ اب  روزگار کے حوالے سے  بہتر مواقع فراہم کرنا جو کہ حکومت کی اولین ذمے داریوں میں شامل ہے کیا وہ  اس میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے؟ اس بات کا جواب کسی سے بھی مخفی نہیں ہے۔ایسی صورتحال میں دنیا بھر میں تیزی کے ساتھ ترقی پاتی ہوئی صنعت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ہے جس کا حال اور مستقبل دونوں ہی تابناک ہے۔ پاکستان میں بھی آئی ٹی سیکٹر میں ہنر مند  افراد کےلیے روزگار کے بہت سے مواقع موجود ہیں کیونکہ گذشتہ سال آئی  ٹی سیکٹر میں پاکستان نےتین ارب ڈالرسے زائد کی ایکسپورٹ کی تھی جو کہ ملکی معیشت کی بہتری کے لیے امید کی ایک کرن ہے۔ آئی ٹی سیکٹر میں وسیع کاروبار کے فروغ  اور ہنرمند نوجوانو کو روزگار کے بہتر مواقع  فراہم کرنے کے لیے کراچی کے دو گریجویٹ نوجوان ریان اور حمادنہایت اہم کردار ادا کر رہے ہیں چند سال قبل ہی ایک نجی جامعہ سے کمپیوٹر سائنس میں گریجویشن مکمل  کرنے کےبعد ان دونوں نے  انٹرنی ڈاٹ پی کےکی بنیاد رکھی۔ یہ انٹرنشپ   حاصل کرنے کے لیے تیار کیاگیا ایک آن لائن پورٹل ہے جس میں آئی ٹی سیکٹر کی تعلیم حاصل کر نے والا کوئی بھی فرد اپنے تعلیمی  سفر کے دوران باآسانی کسی بھی  کمپنی میں تجربہ حاصل کرنے کے لیے  انٹرنشپ حاصل کرسکتا ہے اور اس ضمن میں مکمل طور پر یہ پورٹل ان کی معانت کرتا ہے۔ پاکستان میٹرز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئےفاؤنڈر  انٹرنی ڈاٹ پی کے حماد شیخ  کا کہنا تھا  مارکیٹ میں  بہترین انداز کے ساتھ سوفٹ ویئر ڈیلوپمنٹ ،کوڈنگ اور سوفٹ ویئر کے مسائل کو تکنیکی طور پر بہتر جاننے  والے افراد کی کمی ہے جبکہ کہ ہر سال تقریباً 25 ہزار آئی ٹی گریجوٹس نوکریوں کا خواب سجائے مارکیٹ کا رخ کرتے ہیں مگر نوکری حاصل نہیں کرپاتے    یہی  اس کی بنیادی وجہ ہے ۔ ہمیں بھی یونیورسٹی میں دوران تعلیم اس بات کا خوف تھا کہ کیا ہمیں نوکری مل پائے گی؟ اور کیا ہم انڈسٹری کے جدید تقاضوں کے مطابق کام کر پائیں گے؟ یہی وہ سوالات تھے جو بعد میں انٹرنی ڈاٹ پی کو بنانے کی وجہ بنے ۔ پاکستان میں آئی ٹی سیکٹر میں نوکریاں تو موجود ہیں مگرکسی بھی پوزیشن پر ہائر ہونے والے افراد کمپنی کی توقعات پر پورا نہیں اتر پاتےمثلاً عام طور پرایک ڈیولپر کو 40 ہزارکی تنخواہ  میں نوکری پر رکھا جاتا ہے اور ادارے کی توقعات یہ ہوتی ہیں کہ وہ انہیں کم از کم دولاکھ روپے کما کر دے مگر اکثر ایسا نہیں ہوپاتا۔ اس کی بنیادی وجہ معیاری اسکلز کا نا  ہونا ہے۔ ہم نے اسی لیے انڈسٹری اور یونیورسٹی کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس پروجیکٹ میں شریک ریان کا کہنا ہے کہ اس پورٹل کو ہم نےصرف انٹرنشپ تک محدود نہیں رکھا  ہے بلکہ اس کو ہم لرنگ مینجمنٹ سسٹم کے طور پر بھی چلارہے ہیں ۔ ہم نے مصنوعی ذہانت آے آئی کے کئی ٹولز کواس میں شامل کیا ہے جن کی مدد سے انٹرنشپ کے لیے انٹرویو کی تیاری بھی کی جاسکتی ہے۔ ہم نے ویب ڈولپمنٹ اور سوفٹ ویئر مینجمنٹ کے کئی کورسز کو بھی اس کاحصہ بنایا ہے کہ سیکھنے اور تجربے کے بعد کسی کو اچھی نوکری مل سکے اور اس کی اسکلز میں بھی اضافہ ہو۔ فی الحال تو یہ پورٹل صرف پاکستان تک محدور ہے مگر مستقبل میں ہم اسے بین الاقوامی سطح پر بھی وسعت دینے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں آئی ٹی سیکٹر کی کئی کمپنیز سے ہمارا رابطہ موجود ہے۔پاکستان میں نوکری حاصل کرنے کے کئی پلیٹ فارمز موجود ہیں  جو بہتر کام بھی کر رہے ہیں مگر ہمارا کام اور انداز سب سے مختلف ہے ہم اس کو ایک مکمل کرئیر پلٹ فارم کہتے ہیں جس میں سیکھنے  کے بعد انٹرنشپ اور پھر جاب  کا مرحلہ طے کیا جاتا ہے۔ ہم خود سب سے پہلے کسی بھی جاب آفر کے لیے جاری ہونے والے اشتہار اور کمپنی کے معیار کا جائزہ لیتے ہیں    پھراسے اپنے پورٹل پر اپلوڈ کرتے ہیں ،ہمارے پاس اس وقت لنکڈن پر صرف50 ہزار سے زائد فالورز موجود ہیں۔ ہم فری لانسنگ  کو بھی اپنے مختلف سوشل پلیٹ فارمز سے فروغ دیتے ہیں  کیونکہ کہ لوگ اب نوکری کے علاوہ فری  لانسنگ کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں جوکہ خوش آئند پیش رفت ہے ۔ حماد  شیخ نے اس اقدام کے بارے میں مزید بتایا کہ کام شروع کرنے سے پہلے یہی خدشات ہوتے ہیں کہ یہ کامیاب ہوگا یا نہیں ؟ کام کے دوران اکثر مورال ڈاؤن بھی ہوجاتا ہے مگر جب ہمیں نوجوان اپنی کالز اور میسجز کے ذریعے بتاتے ہیں کہ آپ کی وجہ سے ہم کسی کمپنی میں انٹرنشپ کر رہے ہیں  اور اس کے بعد ہمیں ملازمت کی آفر ہے تو یہ سب سن کر ہمارا دل مزیدچاہتا ہے کہ ہم بہتر انداز میں کام کریں۔ ہمارے پاس کامیابی انٹرنشپ پروگرام کی کئی  داستانیں ہیں سسٹمز جیسی بڑی آئی کمپنی میں بھی ہمارے توسط سے لوگوں نے انٹرنشپ مکمل کی اور اب وہ باقاعدہ وہاں مختلف پوزیشن پر ملازمت کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے ہمیں حکومت کی کوئی خاطر خواہ سرپرستی تو حاصل نہیں ہے مگر ہم پھر بھی  ہم قومی سطح پر ہونے والے بہت سے مقابلوں میں تین بار نیشنل چیمپئن رہے ہیں۔ جہاں تک سوال ہے کہ یہ بزنس ماڈل کام کس طرح کرتا  ہے؟ تو ہم نے اس پورٹل کی سبسکرپشن فیس رکھی ہے جبکہ پورٹل پر آن لائن ٹیچر بھی موجود ہیں اس کے ذریعے سے