‘افغانستان میں غیر قانونی اسلحے’ کے خلاف پاکستان کی اقوامِ متحدہ سے اپیل

پاکستان نے جمعہ کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) جیسے عسکریت پسند گروپ جدید ترین ہتھیاروں کے حصول میں ملوث ہیں، جو افغانستان میں غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد باقی بچ جانے والے اسلحہ کے ذخیرے کے ذریعے حاصل کیے گئے ہیں۔ پاکستان کا کہنا تھا کہ امریکی قیادت میں بین الاقوامی افواج نے اگست 2021 میں کابل سے انخلا کے دوران خودکار اسالٹ رائفلز اور نائٹ ویژن ڈیوائسز جیسے جدید ہتھیاروں کو چھوڑ دیا تھا، جو بعد میں طالبان کے ہاتھ لگے۔ پاکستان نے اس انخلاء کو غیر منصوبہ بند اور افراتفری پر مبنی قرار دیا، جس کی عالمی سطح پر شدید تنقید ہوئی۔ امریکا نے پہلے اس بات کی تردید کی تھی کہ یہ ہتھیار طالبان کے ہاتھ لگے، مگر بعد میں اس کا اعتراف کیا گیا۔ پاکستان کے اقوام متحدہ کے مشن کے قونصلر سید عاطف رضا نے یو این ایس سی کے اجلاس میں کہا کہ غیر ریاستی عناصر کے پاس جدید غیر قانونی اسلحہ تیار کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی، اور اس بات پر سوال اٹھایا کہ آیا اس میں ریاستی عناصر کا بھی کردار ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو ان عسکریت پسند گروپوں کی جانب سے جدید ترین ہتھیاروں کے استعمال پر تشویش ہے، جو اب پاکستان کی مسلح افواج اور شہریوں کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں۔ رضا نے اقوام متحدہ سے اپیل کی کہ وہ ان لاوارث ہتھیاروں کو بازیافت کرے اور ان گروپوں تک اسلحے کی رسائی روکنے کے لیے اقدامات کرے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان ہتھیاروں کی بلیک مارکیٹ کی بڑھتی ہوئی تجارت اور ان گروپوں کے بارے میں تشویش پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ پاکستان نے اس دوران انڈیا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عسکریت پسندوں کو مالی مدد اور بیرونی معاونت مل رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے جنگی ٹیکنالوجی میں ہونے والی پیشرفت اور ڈارک ویب اور کرپٹو کرنسی جیسی نئی ٹیکنالوجیز کے ذریعے مجرمانہ گروہوں کے گمنام لین دین کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کا بھی ذکر کیا، جس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے چیلنجز میں اضافہ ہو گیا ہے۔
12 سال بعد سیاسی مشاورتی اجلاس: پاکستان اور بنگلہ دیش میں قربتیں بڑھنے لگی

پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں ایک اہم موڑ آرہا ہے کیونکہ 17 اپریل کو ڈھاکہ میں ایک سیاسی مشاورتی اجلاس ہونے جا رہا ہے، جو گزشتہ 13 برسوں میں اس نوعیت کا پہلا اجلاس ہو گا۔ آخری بار یہ ملاقات 2012 میں ہوئی تھی۔ ذرائع کے مطابق، اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ کریں گی۔ اس اجلاس میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ادارہ جاتی سطح پر تجاویز زیر غور آئیں گی، جبکہ مشترکہ وزارتی کمیشن کی بحالی بھی ایجنڈے میں شامل ہے۔ سیاسی تعلقات کے ساتھ ساتھ اقتصادی روابط کو بھی فروغ دینے کے لیے پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار 22 سے 24 اپریل تک بنگلہ دیش کا دورہ کریں گے۔ ان کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور سیاسی تعاون کو نئی سمت دینے کی کوشش کا حصہ ہے۔ یہ ملاقاتیں ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب جنوبی ایشیا کے اندرونی تعلقات میں توازن اور تعاون کی نئی راہیں تلاش کی جا رہی ہیں۔ ان اقدامات سے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان مستقبل میں بہتر اور پائیدار تعلقات کی امید کی جا رہی ہے۔
صرف تین مہینوں میں فیملی عدالتوں کے کیسز میں ریکارڈ اضافہ، معاشرتی شعور یا بڑھتے مسائل؟

2025 کے پہلے تین مہینوں (1 جنوری سے 31 مارچ) کے دوران راولپنڈی کی فیملی عدالتوں میں خاندانی جھگڑوں کے ریکارڈ تعداد میں مقدمات دائر کیے گئے۔ اس مدت میں کل 1,451 نئے کیسز رجسٹر ہوئے جن میں نان و نفقہ، بچوں کی تحویل، حق مہر اور جہیز کی واپسی جیسے معاملات شامل تھے۔ اس کے علاوہ 41 شوہروں نے عدالتوں سے رجوع کیا تاکہ اپنی بیویوں کو واپس گھر لانے کا حکم دلوایا جا سکے، جو ناراض ہو کر چلی گئی تھیں۔ پہلی بار 21 عیسائی خواتین نے بھی طلاق کے لیے درخواستیں دائر کیں۔ یہ اقدام ان قانونی اصلاحات کے بعد ممکن ہوا جن کے تحت اب عیسائی خواتین کو پرانی اور پیچیدہ منسوخیِ نکاح کی شرط کے بغیر علیحدگی کی اجازت حاصل ہو گئی ہے۔ ان تین مہینوں میں عدالتوں نے 106 خواتین کو خلع کی بنیاد پر طلاق دی اور 310 شوہروں کو بیویوں اور بچوں کے اخراجات ادا کرنے کا حکم دیا۔ عدالتوں نے 13 ناراض جوڑوں کو دوبارہ ملا دیا اور 75 بچوں کو باپ کی تحویل سے لے کر ماں کو واپس دیا۔ عدالتی ذرائع کے مطابق روزانہ 5 سے 8 نئے کیسز دائر کیے جا رہے ہیں، اور بعض دنوں میں یہ تعداد 15 سے 20 تک پہنچ جاتی ہے۔ عدالتوں نے 55 جوڑوں کے درمیان صلح بھی کروا دی، جس کے بعد ان کے مقدمات خارج کر دیے گئے۔ fa فیملی لاء کے وکلاء کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا جیسے فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک، میسنجر اور یوٹیوب نے شادی شدہ زندگی کے مسائل میں اضافہ کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کل کے نوجوانوں کے پاس جدید موبائل فونز ہونے سے بھاگ کر شادی کرنے اور پسند کی شادیوں کے واقعات میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ وکیل سبطین بخاری کا کہنا ہے کہ خاندان میں شادیوں کے رواج کو دوبارہ فروغ دینا چاہیے۔ اگرچہ خاندان سے باہر شادی کرنا غلط نہیں، مگر والدین کو رشتے کی اچھی طرح جانچ پڑتال کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹ پر مبنی شادیاں زیادہ دیر نہیں چلتیں، خاص طور پر وہ شادیاں جو بھاگ کر کی گئی ہوں، وہ اکثر چھ ماہ سے ایک سال میں ہی ختم ہو جاتی ہیں۔ ہیومن رائٹس سیل کی سیکریٹری ایڈووکیٹ طیبہ عباسی نے کہا کہ لڑکیوں کو موبائل فونز تک رسائی ہونی چاہیے، مگر ان کے استعمال پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے تعلیم اور والدین کی مرضی سے ہونے والی شادیوں کو فروغ دینے کی تجویز دی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اکثر خواتین شادی کے بعد یہ جانتی ہیں کہ ان کے شوہر، جنہوں نے خود کو امیر یا ملازمت پیشہ ظاہر کیا ہوتا ہے، حقیقت میں بے روزگار یا جرائم میں ملوث ہوتے ہیں، جس سے گھریلو جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں۔ قانونی ماہرین نے تجویز دی ہے کہ پسند کی شادیوں کے لیے حق مہر کم از کم 25 لاکھ روپے، اور ماہانہ نان و نفقہ 15 ہزار روپے مقرر کیا جائے۔ اگر طلاق ہو جائے تو شوہر کو 5 لاکھ روپے اضافی بھی ادا کرنا پڑے۔ ان کا ماننا ہے کہ ایسے اقدامات سے خاندانی نظام کو ٹوٹنے سے بچایا جا سکتا ہے۔
عالمی تجارت کے لیے زہرِ قاتل؟ امریکا کے ٹیرف لگاتے ہی اسٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ کمی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نئے ٹیکسوں کی وجہ سے امریکی اسٹاک مارکیٹ میں بڑی کمی آئی ہے اور صرف دو دنوں میں سرمایہ کاروں کے 60 کھرب ڈالر سے زیادہ ڈوب گئے۔ صدر ٹرمپ نے پاکستان سمیت دنیا کے بہت سے ممالک پر نئے تجارتی ٹیکس لگائے ہیں۔ ان کے اس فیصلے سے دنیا کا تقریباً ہر حصہ متاثر ہوا ہے، یہاں تک کہ انٹارکٹیکا کے قریب وہ غیر آباد جزیرے بھی جہاں صرف پینگوئن رہتے ہیں اور جہاں شاید دس سال پہلے انسان گئے تھے۔ امریکی میڈیا کے مطابق ان ٹیکسوں کے اعلان کے بعد دو دنوں میں سرمایہ کاروں کے اسٹاک مارکیٹ میں لگے 60 کھرب ڈالر سے زیادہ ڈوب گئے۔ اس کے علاوہ، امکان ہے کہ امریکی ٹیکسوں کی وجہ سے چینی مصنوعات اب یورپی بازاروں میں زیادہ فروخت ہوں گی۔ ٹرمپ کے ٹیکسوں کے اعلان کے بعد امریکی اسٹاک مارکیٹ میں پچھلے پانچ سالوں کی سب سے بڑی کمی دیکھی گئی۔ ڈاؤ جونز میں 5 فیصد، ایس اینڈ پی 500 میں 4.6 فیصد اور نیسڈیک میں 4.7 فیصد کمی ہوئی۔ لندن اسٹاک ایکسچینج میں فٹسی ہنڈریڈ انڈیکس میں کووڈ وبا کے بعد سے ریکارڈ 5 فیصد، جرمنی کی اسٹاک مارکیٹ میں 4 فیصد اور جاپان میں 2.8 فیصد کمی ہوئی۔ تجارتی جنگ کے خدشات بڑھنے سے تیل کی قیمتیں 8 فیصد گر کر چار سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ امریکی سینٹرل بینک کے سربراہ جیروم پاویل نے مہنگائی اور معاشی ترقی کی رفتار میں کمی سے خبردار کیا ہے۔ صدر ٹرمپ کی ضد کے باوجود، جیروم پاویل نے فی الحال شرح سود میں کمی کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا کا کہنا ہے کہ معاشی ترقی کی سست رفتار کے وقت امریکی ٹیکس عالمی معیشت کے لیے خطرہ ہیں۔ برطانیہ، آسٹریلیا اور اٹلی کے وزرائے اعظم نے بھی تجارتی جنگ کو عالمی تجارت کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا ہے اور معاشی استحکام کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
غلام فرید صابری کیوں آج بھی ہر دل میں زندہ ہیں؟

فرید صابری پاکستان کے معروف قوالوں میں سے ایک تھے، جنہوں نے صابری برادران کے پلیٹ فارم سے قوالی کو بین الاقوامی سطح پر روشناس کرایا۔ اُن کا تعلق ایک روحانی اور موسیقی کے حوالے سے مشہور خاندان سے تھا، اور اُن کے والد غلام محی الدین قوال خود بھی قوالی کے فن میں مہارت رکھتے تھے۔ فرید صابری نے اپنے بھائی مقبول احمد صابری کے ساتھ مل کر صابری برادران کی بنیاد رکھی، اور دونوں نے مل کر قوالی کو محض مذہبی یا روحانی روایت تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے ایک فن کی صورت میں دنیا بھر میں متعارف کرایا۔ فرید صابری کی آواز میں ایک خاص طرح کی گہرائی، درد اور روحانیت تھی جو سننے والوں کو وجد میں لے آتی تھی۔ اُن کی قوالیوں میں کلاسیکی موسیقی کی جھلک بھی نمایاں تھی اور انہوں نے ہمیشہ روایت اور جدت کا خوبصورت امتزاج پیش کیا۔ “تاجدارِ حرم”، “بھردو جھولی”، اور “سرکار کی گلیوں میں” جیسی قوالیاں آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ فرید صابری نہ صرف ایک عظیم قوال تھے بلکہ ایک متواضع انسان بھی تھے۔ اُن کا اندازِ گفتگو، سادگی اور روحانی رجحان اُن کی شخصیت کا خاصہ تھا۔ اُنہوں نے قوالی کو کبھی صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ ہمیشہ اسے ایک روحانی پیغام کے طور پر پیش کیا۔ اُن کی قوالیاں عشقِ رسول، تصوف، اور معرفت کے مضامین سے بھرپور ہوتی تھیں۔ اُن کا فن آج بھی نوجوان قوالوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ فرید صابری کی خدمات کو پاکستان میں قوالی کے فروغ کے لیے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اُن کی گائیکی ایک ورثہ ہے، جو نسل در نسل منتقل ہوتی رہے گی۔
فیکٹری سے فری لانسنگ تک، سستی بجلی سے کتنا فائدہ ہوگا؟

وزیر اعظم نے عید کے موقع پر قوم کو بڑی خوشخبری دیتے ہوئے بجلی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا ہے۔ جس میں گھریلو صارفین کے لئے بجلی کی قیمت میں 7 روپے 41 پیسے جبکہ صنعتی صارفین کے لئے 7 روپے 69 پیسے کمی کی گئی ہے۔ وزیر اعظم نے قوم کو یقین دلایا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں مزید کمی بھی کی جائے گی اور آئندہ سالوں میں ملک گردشی قرضوں کی لپیٹ سے بھی باہر آجائے گا۔ بجلی کی قیمتوں میں کمی سے معاشی سرگرمیوں کو مزید فروغ مل سکے گا۔ مگر یہاں یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا صنعتوں کے لیے یہ واقعی اتنا بڑا ریلیف ہے؟ جس کے نتیجے میں بڑی اور چھوٹی صنعتوں میں سرگرمیاں بڑھ جائیں گی؟یا بجلی کی قیمتوں میں مزید کمی کی ضرورت ہے؟ ادارہ شماریات کے مطابق ملک میں مہنگائی کی شرح اس وقت گذشتہ 60 سال کی نسبت کم ترین سطح پر ہے۔مارچ میں مہنگائی کی شرح 0.69 فیصد، جولائی تا مارچ 5.25 فیصد رہی ہے۔ اس موقع پر حکومت کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں کمی کا اعلان چھوٹی صنعتوں کے لیے کتنا مؤثر ہے۔؟ اس حوالے سے پاکستان میٹرز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بزنس فورم کراچی کے صدر سہیل عزیز نےکہا کہ وزیر اعظم کا بجلی کی قیمتوں میں کمی کا فیصلہ احسن اقدام ہے اور یہ سب بزنس کمیونٹی کی محنت اور سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں ممکن ہوسکا ہے۔ ہماری صنعت کو بین الاقوامی پلیٹ فارم پر بہت سے مسائل کا سامنا تھا کیونکہ ہماری یوٹیلٹی کی قیمت ہمسائے ممالک کے مقابےمیں زیادہ ہے ہم ابھی بھی 14 سینٹس پر بجلی خرید رہے ہیں جبکہ بھارت،بنگلہ دیش اور سری لنکا میں یہ قیمت 9 روپے ہے مگر اب بزنس کمیونٹی کو آگے بڑھنے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنی پروڈکشن میں اضافہ کریں دوبارہ بہتر حکمت عملی کے ساتھ نئے آئڈیاز پر کام کریں تاکہ کاروباری سرگرمیوں کو مزید فروغ مل سکے۔ سیہل عزیز سمجھتے ہیں کہ ماضی میں جو سرمایہ کار ہمسائے ممالک کا رخ کرتے تھے اب صنعتکاروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ دوبارہ سے ملک میں سرمایہ کاروں کو دعوت دیں کیونکہ بجلی کی قیمتوں میں کمی سے سرمایہ کاروں کی توجہ زیادہ بڑھ جاتی ہےاس کے نتیجےمیں روزگار اور سرمایہ کاری کو بھی ملک میں فروغ ملے گا۔ مگر ایک اہم ضرورت ہے کہ جہاں حکومت نے مختلف آئی پی پیز سے معاہدے ختم کرتے ہوئے قومی خزانے کو بڑے نقصان سے بچایا ہے وہیں اب بجلی چوری کرنے والوں کے خلاف بھی مؤثر اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔بہت سے جگہوں پر لوگ کنڈے لگا کر بجلی کا استعمال کر رہےہیں اس پورے عمل کی روک تھام نہایت ضروری ہے بجلی قیمتوں میں کمی کے ساتھ اس کی تقسیم کے نظام کو بھی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے صدر جنید نقی نےوزیر اعظم کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں کمی کو بڑا ریلیف قرار دیا ہے ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوگااور کاروباری لاگت میں نمایاں کمی آئے گی کمرشل صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں 7.59 روپے فی یونٹ کمی کر کے 40.60 روپے مقرر کرنا ایک مثبت پیش رفت ہے، جو جون 2024 میں 58.50 روپے فی یونٹ تھی۔مسابقتی توانائی نرخوں کے بغیر پاکستان کی انڈسٹری خطے کے دیگر ممالک کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی، لیکن وزیر اعظم کے اس فیصلے سے عالمی مارکیٹ میں ایک بار پھر اپنا مقام مضبوط کر سکتے ہیں۔ کاروباری برادری سے تعلق رکھنے والے عامر رفیع کے مطابق بڑی صنعتوں کو تو حکومت کی جانب سے ریلیف دیا گیا ہےمگر چھوٹے کاروباری یا نئے اسٹاٹپ کرنے والے افراد کے لیے بھی بجلی کی قیمتوں کو مزید کم کرنے کی ضرورت ہے۔ عام طور پر جب کوئی نوجوان تعلیم سے فراغت کے بعد کاروبار کا آغاز کرتا ہےتو اس کا سرمایہ کم ہوتا ہےاور وسائل محدود، ایسی صورتحال میں اسے اگر سستی بجلی فراہم کی جائے تو آن لائن انڈسٹری کو بھی فروغ مل سکے گا۔ اس وقت آن لائن کاروبار میں خواتین بھی مردوں کے شانہ بشانہ معاشی سرگرمیوں میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں ایسی صورتحال میں انہیں اور بالخصوص معذور افراد جو کسی بھی طرح کے کاروبار سے وابستہ ہیں انہیں بھی مزید سستی بجلی حکومت کی جانب سے فراہم ہونا نہایت ضروری ہے۔ چھوٹے کاروبار ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہیں اگر انہیں بھی ریلیف فراہم کیا جائے تو ملک کی معاشی صورتحال کو مستحکم کرنے میں یہ لوگ مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔ احمد آئی ٹی انڈسٹری سے تعلق رکھنے والےایک نوجوان ہیں۔یہ گذشتہ پانچ سال سے فری لانسگ اور ای کامرس کر رہے ہیں ابتداء میں انہوں نے یہ کام خود شروع کیا اور پھر 10 افراد کواپنی ٹیم میں شامل کیا۔ مگر بجلی کے بھاری بلز کی وجہ سے ان کےکاروبار پر اثر پڑا۔ ابتداء میں انہوں نے اپنی ٹیم کو آؤٹ سورس کردیا تاکہ آفس کے اخراجات کم ہوسکیں گے۔ احمد کے مطابق انہوں نے محدود وسائل سے کاروبار کا آغاز کیا مگر منافع آنے کے بعد بجلی کے بلز کی وجہ سے ان کا بجٹ شدید متاثر ہوا ہے۔اگر بجلی کی قیمتوں میں کمی پاکستان میں آن لائن کاروبار کرنے والے افراد کو بھی دی جائے تو آئی ٹی ایکسپورٹ جو کہ گذستہ سال تین بلین ڈالر سے زیادہ تھی اس میں بڑا اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس کے لیے حکومت کو باقاعدہ فریم ورک بناتے ہوئے فری لانسر کی رجسٹریشن کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کو بھی ریلیف دیا جاسکے۔ پاکستان میں فری لانسنگ اور ای کامرس کا بہت وسیع اسکوپ موجود ہے حکومت اگر اس شعبے پر بھی دھیان دے تو یقنی طور پر ہم بھی ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں بنیادی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ یوں تو ملکی معشیت میں بجلی کے نرخ میں کمی صنعت کے لئے بھی فائدے مند ہیں مگر اس کے حوالے مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف پہلے بتا چکے ہیں کہ ملک میں سالانہ 600 ارب کی بجلی چوری ہوتی
میانمار زلزلہ: آٹھویں دن بھی موت کی بُو آرہی ہے

میانمار میں آنے والے شدید زلزلے کے بعد انسانی المیے کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 3,354 ہو چکی ہے، جبکہ 4,850 افراد زخمی اور 220 لاپتہ ہیں۔ اقوام متحدہ کے امدادی سربراہ ٹام فلیچر نے امدادی کارروائیوں میں انسانی ہمدردی اور کمیونٹی گروپوں کے کردار کو سراہا اور کہا کہ وہ لوگ جو خود سب کچھ کھو چکے، وہ بھی دوسروں کی مدد کے لیے میدان میں ہیں۔ فوجی حکومت کے سربراہ من آنگ ہلینگ عالمی سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد نیپیتاو واپس لوٹے ہیں، جہاں انہوں نے علاقائی رہنماؤں سے ملاقات کی۔ انہوں نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو دسمبر میں آزاد اور منصفانہ انتخابات کرانے کے ارادے سے آگاہ کیا۔ تاہم، ناقدین ان انتخابات کو فوجی اقتدار کو جاری رکھنے کی ایک چال سمجھتے ہیں۔ نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوچی کی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد سے ملک مسلسل سیاسی اور سماجی بحران کا شکار ہے۔ خانہ جنگی، معاشی تباہی، اور صحت کی سہولیات کی کمی نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے، جو اب زلزلے کی تباہ کاریوں سے مزید متاثر ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق، ملک میں تیس لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ ایک تہائی آبادی کو فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے۔ زلزلے کے بعد کچھ علاقوں میں جنتا کی جانب سے امدادی رسد روکنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں حکومت مخالف جذبات پائے جاتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے انکشاف کیا ہے کہ فوج کی جانب سے مخالفین پر 53 حملے کیے گئے، جن میں 16 حملے اس ہفتے کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد ہوئے۔ ان میں فضائی حملے بھی شامل ہیں، اور یہ الزامات اب تحقیقات کا حصہ ہیں۔
روسی حملے جاری، زیلنسکی کا عالمی برادری سے روس پر ‘دباؤ ڈالنے’ کا مطالبہ

یوکرین کے شہر کریوی ریہ میں ایک روسی حملے میں کم از کم 19 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جن میں 9 بچے بھی شامل ہیں۔ علاقائی حکام کے مطابق، رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں شدید تباہی اور آگ بھڑک اٹھی۔ بعد میں ایک ڈرون حملے میں ایک اور شخص بھی جان سے گیا۔ امدادی کارکنوں نے رات بھر ملبہ ہٹانے اور متاثرین کی مدد میں کام کیا۔ شہریوں نے اپنے گھروں کی مرمت کا کام شروع کیا، اور آنکھوں دیکھا حال بیان کرنے والوں نے خوفناک مناظر کا ذکر کیا، جیسے زخمی بچے، روتے ہوئے والدین، اور تباہ حال عمارتیں۔ روس کی وزارت دفاع نے کہا کہ ان کا حملہ ایک ایسی جگہ پر کیا گیا تھا جہاں یوکرینی کمانڈر اور غیر ملکی انسٹرکٹرز کی میٹنگ ہو رہی تھی۔ ان کے مطابق حملے میں 85 فوجی اور 20 گاڑیاں تباہ ہوئیں۔ تاہم یوکرین نے اس بیان کو جھوٹ قرار دیا اور کہا کہ روس عام شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ یہ حملہ صدر زیلنسکی کے آبائی شہر پر کیا گیا، اور یہ رواں سال کا سب سے جان لیوا حملہ تصور کیا جا رہا ہے۔ زیلنسکی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ روس پر مزید دباؤ ڈالا جائے۔ ادھر امریکہ کا کہنا ہے کہ اس نے روس اور یوکرین دونوں کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کیے تھے جن میں توانائی کے نظام پر حملے روکنے کی بات شامل تھی، مگر دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر ان معاہدوں کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے۔ اس حملے میں پچاس سے زیادہ افراد زخمی ہوئے، جن میں ایک تین ماہ کا بچہ بھی شامل ہے، اور کئی افراد اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ یوکرین نے کہا ہے کہ روس کی یہ کارروائیاں ثابت کرتی ہیں کہ وہ امن کا خواہاں نہیں بلکہ جنگ کو مزید طول دینا چاہتا ہے۔
ناتجربہ کاری اور غیر ذمہ داری: نیوزی لینڈ کا ون ڈے سیریز میں کلین سویپ

ماؤنٹ مونگانوئی میں کھیلے گئے تیسرے اور آخری ون ڈے میچ میں بھی پاکستان ٹیم کی امیدیں دم توڑ گئیں، جب نیوزی لینڈ نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے 43 رنز سے فتح حاصل کی اور سیریز میں 0-3 سے کلین سوئپ مکمل کر لیا۔ نیوزی لینڈ نے پہلے کھیلتے ہوئے 265 رنز کا ہدف دیا، جو بظاہر قابلِ حصول تھا، لیکن پاکستانی بیٹنگ لائن ایک بار پھر ناتجربہ کاری اور غیر ذمہ داری کا شکار ہو گئی۔ عبد اللہ شفیق اور بابر اعظم نے 73 رنز کا مستحکم آغاز فراہم کیا، مگر اس کے بعد وکٹیں ایسے گریں جیسے خزاں میں پتے جھڑتے ہیں۔ بابر اعظم نے کچھ دیر مزاحمت کی اور ففٹی بنائی، لیکن دوسرے سرے سے کوئی بھی بیٹسمین خاطرخواہ کارکردگی نہ دکھا سکا۔ کپتان محمد رضوان نے 37، جبکہ عبد اللہ شفیق اور طیب طاہر نے 33، 33 رنز بنائے۔ نیوزی لینڈ کی جانب سے بین سیئرز سب سے کامیاب بولر رہے جنہوں نے 5 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ جیکب ڈفی نے 2 شکار کیے۔ میچ کے آغاز میں ہی پاکستان کو ایک دھچکا اس وقت لگا جب امام الحق فیلڈر کی تھرو لگنے سے زخمی ہو کر میدان سے باہر چلے گئے۔ بعد ازاں پاکستانی ٹیم 40 ویں اوور میں 221 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ یہ میچ ماؤنٹ مونگانوئی میں کھیلا جا رہا ہے۔ گزشتہ دن کی بارش کے باعث گراؤنڈ کی آؤٹ فیلڈ گیلی تھی، جس کی وجہ سے ٹاس میں تقریباً دو گھنٹے کی تاخیر ہوئی۔ تاخیر کے بعد ٹاس ہوا، جس میں پاکستان نے جیت کر پہلے نیوزی لینڈ کو بیٹنگ کی دعوت دی۔ میچ کی دیر سے شروعات کے باعث دونوں ٹیموں کی اننگز 42 اوورز تک محدود کر دی گئیں۔ نیوزی لینڈ نے اپنی اننگز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 264 رنز بنائے۔ کپتان مائیکل بریسویل 59 رنز کے ساتھ سب سے کامیاب بلے باز رہے۔ ماریو نے 58، ڈیرل مچل نے 43 اور ہینری نکلز نے 31 رنز بنائے۔ پاکستان کی طرف سے عاکف جاوید نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ نسیم شاہ نے 2 جبکہ فہیم اشرف اور سفیان مقیم نے 1،1 وکٹ حاصل کی۔ اس میچ میں پاکستان نے ایک تبدیلی کی ہے۔ حارث رؤف کی جگہ نسیم شاہ کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ نیوزی لینڈ پہلے ہی تین میچوں کی سیریز میں پاکستان کے خلاف 0-2 کی فیصلہ کن برتری حاصل کر چکا ہے۔
ونسٹن چرچل: لکھاری اور عظیم رہنما یا ضدی اور ناکام شخص؟

دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کی شکست میں نمایاں کردار ادا کرنے والے برطانوی وزیراعظم ‘ونسٹن چرچل’ کی شخصیت کا جادو آج بھی بہت سے لوگوں پر طاری ہے۔ اس کی باتیں، اس کے فیصلے اور رہنمائی آج بھی تاریخی حوالوں میں زندہ ہیں۔ لیکن ایک سوال جو اب تک زندہ رہا ہے وہ یہ ہے کہ کیا ونسٹن چرچل واقعی ایک عظیم ہیرو تھا یا پھر وہ ایک جنگی مجرم تھا جس نے اپنی قوم کے مفاد کے لیے لاکھوں انسانوں کی جانوں کو نظرانداز کیا؟ اس سوال کا جواب کئی زاویوں سے دیا جا سکتا ہے لیکن جو بات واضح ہے وہ یہ ہے کہ چرچل کی میراث اتنی سادہ نہیں جتنی دکھائی دیتی ہے۔ چرچل کو بچپن میں ہمیشہ ایک ہیرو کی طرح پیش کیا گیا تھا، اس کی قیادت اور عظمت کی کہانیاں پڑھ کر انسان کا دل جوش و جذبے سے بھر جاتا تھا۔ اینڈ بلائیٹن جیسے مصنفین نے ان کی زندگی کو ایک سنہری مثال کے طور پر پیش کیا ہے انکا کہنا تھا کہ “جیسے جیسے میں بڑی ہوئی اور ہندوستان کی نوآبادیاتی تاریخ سے آگاہ ہوئی تو مجھے اس ’ہیرو‘ کی حقیقت کا پتا چلا۔ چرچل کی شخصیت کو صرف برطانیہ ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں کئی سوالات کا سامنا ہے۔” انہوں نے لکھا کہ “ہندوستان میں چرچل کے بارے میں رائے بہت مختلف ہے۔ جب میں نے انڈیا کی آزادی کے جنگی منظرنامے پر غور کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ برطانوی استعمار کے دوران کئی لوگوں کی زندگیوں پر جو ظلم و ستم ڈھایا گیا اور وہ شاید چرچل کے ’ہیرو‘ ہونے کے دعووں کو مشکوک بناتا ہے۔ بنگال کا قحط 1943ء جس میں تقریباً تیس لاکھ افراد ہلاک ہوئے یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس پر برطانوی وزیراعظم چرچل کا کردار تاریخ میں ہمیشہ کے لیے سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ چرچل نے اس قحط کو ایک ’طبیعی حادثہ‘ قرار دیا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس قحط کے پیچھے برطانوی حکومت کی غلط حکمت عملی اور امداد کی کمی تھی۔ اس کے علاوہ جنگی حکمت عملی کے تحت فصلوں اور کشتیوں کو تباہ کر دینے والے چرچل کے فیصلے نے پورے بنگال میں قحط کی صورتحال کو بدترین بنا دیا۔ چرچل کا یہ ماننا تھا کہ جاپانیوں کے حملے کی صورت میں بنگال میں غذا کی فراہمی روکنی ہوگی تاکہ جنگی وسائل پر کوئی اثر نہ پڑے۔ لیکن لاکھوں بے گناہ انسانوں کی جانوں کی قیمت پر اس حکمت عملی کا کیا جواز تھا؟ مزید برآں، چرچل نے انڈیا کے عوام کے بارے میں انتہائی متعصبانہ خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ونسٹن چرچل ہندوستانیوں کو ’جنگلی‘ اور ’غلیظ‘ سمجھتے تھے اور ان کی نظر میں ہندوستان کی آزادی کے قابل نہیں تھے۔ اس کا کہنا تھا کہ ’’ہندوستانیوں کو حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے، اگر انہیں آزاد کر دیا گیا تو ملک کا بٹوارہ اور انتشار ہوگا۔‘‘ یہ وہ الفاظ ہیں جو ایک وزیراعظم کے منہ سے نکلے تھے اور جو اپنے ہی ملک کے باشندوں کو غلام بنانے کا حق سمجھتا تھا۔ اس سب کے باوجود چرچل کی زندگی میں ایک پیچیدہ حقیقت چھپی ہوئی ہے جبکہ دوسری جنگ عظیم میں اس کی قائدانہ صلاحیتوں کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔ اس کی قیادت میں برطانوی فوج نے جرمنی کو شکست دی اور اس نے دنیا کو ایک نیا رخ دیا تھا۔ اس کی جنگی حکمت عملی اور فیصلہ کن فیصلوں نے برطانیہ کو تاریخ کے اس مشکل ترین وقت میں بچا لیا تھا۔ لیکن کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ چرچل کی ہر بات کو محض ہیرو کی نظروں سے دیکھا جائے؟ جہاں ایک طرف اس کی قائدانہ صلاحیتیں غیر معمولی تھیں وہیں دوسری طرف اس کا رویہ اور متعصب سوچ بہت سے لوگوں کے لیے ایک المیہ بھی بنی۔ انڈین اور افریقی اقوام کے بارے میں ونسٹن چرچل کے بیانات اور پالیسیوں نے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کیا تھا۔ اگر ہم چرچل کو ایک جنگی ہیرو کے طور پر دیکھیں تو اس کے سیاسی اقدامات کی حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس نے برطانوی سلطنت کی عزت کو بچانے کے لیے جرات مندانہ فیصلے کیے تھے لیکن ان فیصلوں نے لاکھوں انسانوں کی جانیں بھی لیں۔ کیا یہ کسی ’ہیرو‘ کا کام ہے؟ یا پھر یہ ایک جنگی مجرم کے اقدامات ہیں؟ چرچل کی شخصیت کو محض ایک زاویے سے دیکھنا کافی نہیں بلکہ اس کی زندگی میں کئی ایسی داستانیں چھپی ہوئی ہیں جو ہمیں اس کی حقیقی تصویر دکھاتی ہیں۔ آج جب ہم چرچل کی زندگی پر غور کرتے ہیں تو ہمیں اس کی یادوں کے ساتھ ساتھ اس کی پالیسیوں کے اثرات کو بھی یاد رکھنا ہوگا۔ اور یہی وہ حقیقت ہے جو اس کے ‘لکھاری اور عظیم رہنما یا ضدی اور ناکام شخص’ ہونے کے سوال کا جواب دیتی ہے۔