30 سال بچوں کے دلوں کے نام

ڈاکٹر آصف حسن نے برطانیہ کے شہر نیوکاسل کے فری مین اسپتال میں بچوں کی دل کی سرجری کے شعبے کی سربراہی کرتے ہوئے تقریباً 30 سال گزارے۔ اس عرصے میں انہوں نے پیدائشی طور پر دل کی پیچیدہ بیماریوں میں مبتلا بچوں کے علاج اور ہارٹ ٹرانسپلانٹ کے شعبے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

ان کے کیریئر کے دوران تقریباً 400 ہارٹ ٹرانسپلانٹس کیے گئے۔ ان میں ایسے بچے بھی شامل تھے جن کے لیے دوسرے طبی مراکز میں علاج کو انتہائی خطرناک سمجھا جاتا تھا۔

ڈاکٹر حسن اور ان کی ٹیم ایسے نازک مریضوں کا علاج کرتی رہی جن کے لیے زندگی بچانے کی امید بہت کم رہ گئی تھی۔ ان کی خدمات سے مستفید ہونے والے بچوں میں میکس جانسن اور سیسیلیا ادامو بھی شامل ہیں، جنہیں پہلے پرائیڈ آف برطانیہ کے ’چلڈرن آف کریج‘ ایوارڈز سے نوازا جا چکا ہے۔

جب بچے کا دل ٹرانسپلانٹ کے لیے کافی بڑا نہ ہو

ڈاکٹر آصف حسن کی خدمات صرف سرجری تک محدود نہیں رہیں۔ انہوں نے بچوں کے ہارٹ ٹرانسپلانٹ کے لیے ایسے طریقوں کی تیاری اور فروغ میں بھی کردار ادا کیا جنہوں نے پیچیدہ طبی صورتِ حال میں علاج کے امکانات بڑھائے۔

نیوکاسل میں انہوں نے ’بریج ٹو ٹرانسپلانٹ‘ پروگرام کی مشترکہ قیادت کی، جس میں برلن ہارٹ نامی مکینیکل پمپ استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ آلہ ان بچوں کے دل کو خون پمپ کرنے میں مدد دیتا ہے جنہیں ڈونر دل ملنے تک زندہ رکھنا ضروری ہوتا ہے۔

انہوں نے ’بوٹ لیس کلوزر‘ نامی تکنیک کو بھی متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے ذریعے سرجری کے بعد سینے کی ہڈی کو بند کرنے کا ایسا طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے جو ان بچوں کے لیے مددگار ہو جنہیں ایسا ڈونر دل درکار ہو جو ان کے سینے کی گنجائش کے مقابلے میں بڑا ہو۔

یہ طریقے ان بچوں کے لیے امید کا ذریعہ بنے جن کے علاج میں غیر معمولی طبی مہارت اور احتیاط کی ضرورت تھی۔

کامیابی صرف آپریشن نہیں، اگلی نسل کی تیاری بھی ہے

ڈاکٹر حسن کے نزدیک ان کے کیریئر کی سب سے بڑی کامیابی صرف ان بچوں کو نئی زندگی دینا نہیں جن کے دلوں کی انہوں نے سرجری کی، بلکہ ایسے سرجن تیار کرنا بھی ہے جو ان کے بعد یہ کام جاری رکھ سکیں۔

انہوں نے برطانیہ اور دوسرے ممالک میں بچوں کے دلوں کی سرجری کرنے والے نئے ڈاکٹروں کی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی کوشش رہی کہ ان کے جانشین نہ صرف اس شعبے میں مہارت حاصل کریں بلکہ ان سے بھی بہتر ثابت ہوں۔

اپنی ریٹائرمنٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر حسن نے کہا کہ وہ چاہتے تھے کہ جب وہ کام چھوڑیں تو ان کی کمی محسوس نہ ہو، کیونکہ انہوں نے ایسے لوگوں کو تربیت دینی تھی جو ان کے بغیر بھی اسی معیار کی طبی خدمات جاری رکھ سکیں۔ ان کے مطابق یہی ان کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

’میں ایک عام انسان ہوں، لیکن میرے ساتھی غیر معمولی تھے‘

اپنی کامیابی کا سہرا صرف اپنے سر باندھنے کے بجائے ڈاکٹر حسن نے اپنی ٹیم، نرسوں اور برطانیہ کے قومی صحت کے ادارے این ایچ ایس کو بھی اس کا کریڈٹ دیا۔

انہوں نے اپنے کیریئر کے تجربات بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے انسانی تکلیف کو قریب سے دیکھا، لیکن اس کے ساتھ لوگوں کی ہمت اور مشکلات سے لڑنے کی صلاحیت بھی دیکھی۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی بچے کی صحت یابی کی خبر انہیں بے حد خوشی دیتی ہے، لیکن وہ ان مشکل واقعات کو بھی یاد رکھتے ہیں جن میں مریضوں کو بچایا نہیں جا سکا۔

ڈاکٹر حسن نے اپنی ٹیم کے بارے میں کہا کہ ان کے ساتھ غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل لوگ کام کرتے رہے، جن میں کنسلٹنٹس کے ساتھ نرسیں بھی شامل تھیں، جنہوں نے مریضوں کی خدمت کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر رکھی تھیں۔

پرائیڈ آف برطانیہ ایوارڈ کیوں ملا؟

پرائیڈ آف برطانیہ ایوارڈز برطانیہ میں ان افراد کی خدمات کو تسلیم کرتے ہیں جنہوں نے غیر معمولی انسانی ہمدردی، جرأت اور اپنی زندگی کے کام کے ذریعے دوسروں کی زندگیوں پر گہرا اثر ڈالا ہو۔

ڈاکٹر آصف حسن کو 2026 میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ ان کی تین دہائیوں پر محیط طبی خدمات، بچوں کے پیچیدہ ہارٹ ٹرانسپلانٹس، علاج کے نئے طریقوں کو فروغ دینے اور آئندہ نسل کے سرجنز کی تربیت کے اعتراف میں دیا گیا۔

ان کی کہانی اس بات کی مثال ہے کہ کسی انسان کی کامیابی صرف اس کے اپنے کارناموں سے نہیں ناپی جاتی، بلکہ اس سے بھی کہ وہ اپنے بعد کتنے لوگوں کو دوسروں کی زندگیاں بچانے کے قابل بنا کر جاتا ہے۔

ڈاکٹر آصف حسن نے ہزاروں خاندانوں کے لیے امید پیدا کی اور ایک ایسا طبی ورثہ چھوڑا جو ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی بچوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے میں کردار ادا کرتا رہے گا۔