اس سانپ کو بونا ریڈ سانپ کہا جاتا ہے۔ اس کی لمبائی عموماً نو انچ تک ہوتی ہے اور یہ زیادہ تر پتھروں، گرے ہوئے درختوں اور خشک پتوں کے نیچے چھپا رہتا ہے۔ خطرہ محسوس ہونے پر یہ اپنے جسم کو موڑ کر مسلسل قلابازیاں کھاتا ہوا آگے بڑھتا ہے، جیسے کوئی پہیہ تیزی سے گھوم رہا ہو۔

جریدے کرنٹ بائیولوجی میں 19 اکتوبر کو شائع ہونے والی تحقیق میں جاپان کی توہو یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے تیز رفتار کیمروں کی مدد سے اس منفرد حرکت کا تفصیلی جائزہ لیا۔

تحقیق کے مطابق Pseudorabdion نسل کے سانپوں کو تجربات کے دوران لڑھکنے کی حرکت کرتے دیکھا گیا، جب کہ موازنے کے لیے شامل Calamaria نسل کے سانپ معمول کے مطابق رینگتے رہے۔

لڑھکنے والے سانپوں کی زیادہ سے زیادہ رفتار تقریباً 3.8 سے 8.3 میل فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی، جو ان کی معمول کی رینگنے کی رفتار سے تقریباً چار گنا زیادہ بتائی گئی ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق سانپ پہلے اپنے جسم کو خم دار شکل میں موڑتا ہے اور اپنا سر زمین سے بلند رکھتے ہوئے آگے کی سمت رکھتا ہے۔ پھر اس کے جسم کا ایک حصہ زمین سے ٹکراتا ہے اور دم زمین پر دباؤ ڈال کر اسے آگے دھکیلتی ہے۔

اس دوران سانپ کا جسم لمحاتی طور پر ہوا میں بلند ہوتا ہے اور ایس (S) جیسی شکل اختیار کرکے دوبارہ دوسری جانب زمین سے ٹکراتا ہے۔ یہی عمل بار بار دہرایا جاتا ہے اور سانپ قلابازیاں کھاتا ہوا آگے بڑھتا رہتا ہے۔

اس حرکت کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ جسم تیزی سے گھومنے کے باوجود سانپ اپنا سر نسبتاً مستحکم رکھتا ہے۔ محققین کے خیال میں اس سے اسے آگے کی سمت کا اندازہ برقرار رکھنے اور اپنی حرکت پر قابو رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

اس غیر معمولی حرکت کا مشاہدہ پہلی بار 2019 میں ملائیشیا میں کیا گیا تھا، جبکہ اس پر ابتدائی تحقیق 2023 میں شائع ہوئی۔ نئی تحقیق میں سائنس دانوں نے کیمروں اور تجربات کے ذریعے اس حرکت کے حیاتیاتی طریقۂ کار کو زیادہ تفصیل سے سمجھنے کی کوشش کی۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ صلاحیت ارتقا کے دوران کیسے پیدا ہوئی، اس حرکت میں کتنی توانائی خرچ ہوتی ہے اور آیا سانپوں کی دوسری اقسام بھی ضرورت پڑنے پر ایسا کرسکتی ہیں یا نہیں۔

محققین کے مطابق یہ دریافت اس بات کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ جانور اپنی جسمانی ساخت کی حدود کے باوجود خطرے سے بچنے کے لیے کتنے منفرد طریقے اختیار کرسکتے ہیں۔