رپورٹ کے مطابق پاکستان کا مجموعی مالیاتی خسارہ کم ہو کر جی ڈی پی کا 2.6 فیصد رہ گیا۔ عالمی بینک کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فروری سے جون 2026 کے دوران پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 36 فیصد اضافہ ہوا، ہائی اسپیڈ ڈیزل 31 فیصد مہنگا ہوا، ایل پی جی کی قیمت میں تقریباً 46 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جب کہ ٹرانسپورٹ کرایوں میں تقریباً 30 فیصد اضافہ ہوا۔
رپورٹ کے مطابق ایس اینڈ پی اور موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کی ہے۔
دوسری جانب سابق گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے کہا ہے کہ عالمی بینک نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 80 فیصد انتہائی غریب آبادی دیہات میں رہتی ہے، جہاں نہ روزگار کے خاطر خواہ مواقع ہیں اور نہ ہی تعلیم اور صحت کی تسلی بخش سہولیات دستیاب ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امیر طبقہ ماہانہ اپنی آمدن کا 20 سے 30 فیصد خوراک پر خرچ کرتا ہے، جبکہ دیہات میں رہنے والے افراد اپنی ماہانہ آمدن کا 70 سے 80 فیصد خوراک پر خرچ کرتے ہیں، جو ایک غیر منصفانہ فرق ہے۔
چودھری محمد سرور نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے قومی وسائل چند شہروں پر خرچ ہو رہے ہیں۔ اربوں روپے کے منصوبے صرف شہروں کے لیے بنتے ہیں، جبکہ دیہات کی تعمیر و ترقی کا پیسہ بھی شہروں کے فینسی منصوبوں پر خرچ کردیا جاتا ہے۔ ون مین شو اور مالیاتی بدانتظامی کی وجہ سے امیر اور غریب کے درمیان معاشی عدم مساوات کا گراف دن بدن اوپر جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم بلاجواز تنقید نہیں چاہتے، لیکن بحیثیت پاکستانی امیر اور غریب کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ پاکستان کے قومی وسائل پر ہر شہری کا یکساں حق ہے، جب کہ ریاست کے ہر شہری کے بچوں کو تعلیم کے حصول اور روزگار کے یکساں مواقع ملنے چاہئیں۔
چودھری محمد سرور نے کہا کہ عوام کے منتخب ایوانوں کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر قسم کی معاشی اور سماجی عدم مساوات کا خاتمہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ دیہات میں بڑھتے ہوئے مالی اور سماجی مسائل کے پیش نظر سرور فاؤنڈیشن نے دور دراز علاقوں میں تعلیم، صحت اور صاف پانی کے منصوبے شروع کر رکھے ہیں۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ کے پیر محل میں نیشنل اسٹینڈرڈ کا اسکول، رجانہ اور چیچہ وطنی میں اسٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال قائم کیے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ صاف پانی کی فراہمی اور خواتین کو ہنرمند بنانے کا ایک فلاحی منصوبہ ’ہنرگاہ‘ بھی کام کر رہا ہے، جب کہ سرور فاؤنڈیشن کے فلاحی منصوبوں سے مستفید ہونے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔
سابق گورنر پنجاب نے کہا کہ این جی اوز کی کوششوں سے نہیں بلکہ ریاستی وسائل کے مساوی اور منصفانہ استعمال سے عام آدمی کی زندگی میں حقیقی تبدیلی آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح صوبے این ایف سی ایوارڈ کے تحت وفاق سے اپنا مالیاتی حصہ وصول کرتے ہیں، اسی طرح صوبوں کو چاہیے کہ وہ پی ایف سی ایوارڈ کا اعلان کریں اور ہر ضلع تک اس کا حق پہنچائیں۔







