لائیو

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے صدارتی فرمان پارلیمنٹ سے منظور، اپوزیشن کا احتجاج؛ محسن نقوی نے مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری پی ٹی آئی پر ڈال دی

نیوز ڈیسک
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے صدارتی فرمان پارلیمنٹ سے منظور، اپوزیشن کا احتجاج؛ محسن نقوی نے مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری پی ٹی آئی پر ڈال دی15 اکتوبر، 2026

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق صدارتی فرمان کثرتِ رائے سے منظور کر لیے۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے منظوری کے لیے تحریک پیش کی، جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 56 ووٹ آئے۔ اجلاس کے دوران اپوزیشن نے احتجاج بھی کیا۔ اجلاس میں پشاور کے ایک نجی اسکول کی چھت گرنے کے واقعے میں بچوں سمیت متعدد افراد کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار اور جاں بحق افراد کے ایصالِ ثواب کے لیے دعا بھی کی گئی۔

بعد ازاں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق صدارتی فرمان ایوان میں پیش کیے گئے، جن کی منظوری کے بعد صوبے میں وفاقی حکومت کے ان اقدامات کو پارلیمانی توثیق حاصل ہوگئی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ نہیں کرنا چاہتی تھی، تاہم اس اقدام سے بچنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی گئی۔ پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر اتفاق ہوگیا تھا، لیکن صوبائی حکومت ان اقدامات کی قیادت کے لیے تیار نہیں تھی۔ پی ٹی آئی قیادت نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی مذمت تک نہیں کی۔

وفاقی وزیر داخلہ نے مذاکرات کی ناکامی سے متعلق وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ حکومت مذاکرات چھوڑ کر نہیں گئی تھی بلکہ تین گھنٹے تک اپوزیشن کا انتظار کرتی رہی۔ مذاکراتی مسودے کی آخری شق کے سوا اپوزیشن کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے گئے تھے، جب کہ کوشش کی گئی کہ اپوزیشن کی وزیراعظم سے ملاقات بھی ہوجائے، تاہم ایسا ممکن نہ ہوسکا۔

گزشتہ اپڈیٹس کے لیے یہاں کلک کریں!

تازہ اپڈیٹس

  1. ایمرجنسی سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کی، حکومتی وفد تین گھنٹے تک اپوزیشن کا انتظار کرتا رہا: محسن نقوی

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ نہیں کرنا چاہتی تھی اور اس سے بچنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی گئی۔

    پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر اتفاق ہوچکا تھا، تاہم صوبائی حکومت ان اقدامات کی قیادت کرنے کے لیے تیار نہیں تھی۔

    محسن نقوی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا حکومت کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اعتماد میں لینے کی بھرپور کوشش کی اور خواہش تھی کہ صوبائی حکومت اس جنگ میں وفاق کے شانہ بشانہ کردار ادا کرے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی قیادت دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر آمادہ تھی، اس کے باوجود تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی مذمت تک نہیں کی گئی۔

    وفاقی وزیر داخلہ نے بتایا کہ میں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے ذاتی طور پر کئی مرتبہ ملاقات کی اور دونوں جانب سے صوبے کے پانچ اضلاع میں پولیس کو مضبوط بنانے کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ حکومت چاہتی تھی کہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات کی قیادت وزیراعلیٰ کریں، تاہم سوال یہ ہے کہ سہیل آفریدی کو ان اقدامات پر عمل درآمد سے کون روک رہا تھا۔ سکیورٹی اہلکار شہید ہو رہے تھے، جب کہ وزیراعلیٰ بنوں میں فوج کے خلاف تقریر کر رہے تھے۔

    محسن نقوی نے کہا کہ فروری میں صوبائی اپیکس کمیٹی کا اجلاس بلوانے کے لیے بھی وفاقی حکومت کو کافی کوششیں کرنا پڑیں۔ اجلاس کے بعد جاری ہونے والی پریس ریلیز میں دہشت گردی کی مذمت نہیں کی گئی اور فروری کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کسی شہید کے جنازے میں شریک نہیں ہوئے۔

    مذاکرات کی ناکامی سے متعلق محسن نقوی نے کہا کہ حکومتی وفد مذاکرات چھوڑ کر نہیں گیا تھا بلکہ تین گھنٹے تک اپوزیشن کا انتظار کرتا رہا۔ مذاکراتی مسودے کی آخری شق کے سوا اپوزیشن کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے گئے تھے۔ حکومت نے اپوزیشن کی وزیراعظم سے ملاقات کرانے کی بھی کوشش کی، لیکن یہ ملاقات نہ ہوسکی۔

    وفاقی وزیر داخلہ نے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کو اس بات کا گواہ قرار دیا کہ حکومتی وفد مذاکرات سے نہیں اٹھا تھا۔

  2. خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی توثیق کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، صدارتی فرمان ایوان میں پیش

    خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی توثیق کے معاملے پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس شروع ہوگیا، جس کی صدارت اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کر رہے ہیں۔ اجلاس میں صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق صدارتی فرمان ایوان میں پیش کردیے گئے، جنہیں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے پیش کیا۔

    پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا آغاز اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس کی کارروائی شروع ہونے پر پشاور میں نجی اسکول کی چھت گرنے کے افسوس ناک واقعے کا ذکر کیا گیا، جس میں بچوں سمیت متعدد افراد جاں بحق ہوئے۔ ایوان میں حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا، جبکہ جاں بحق بچوں کے ایصالِ ثواب کے لیے دعا اور فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔

    اس کے بعد خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے متعلق صدارتی فرمان پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کیے گئے۔ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے دونوں فرمان ایوان کے سامنے رکھے۔ اجلاس میں ان فرمانوں کی پیشی کے بعد صوبے میں آئینی اور انتظامی اقدامات کی توثیق کا معاملہ کارروائی کا حصہ بن گیا۔

    خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے معاملے کو سیاسی اور آئینی اعتبار سے اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس کا تعلق صوبے کے انتظامی نظام، امن و امان اور وفاقی و صوبائی اختیارات سے ہے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدارتی فرمان پیش کیے جانے کے بعد ان کی توثیق کے حوالے سے ایوان کی کارروائی اہمیت اختیار کرگئی ہے۔

    اجلاس کی صدارت اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کر رہے ہیں، جبکہ حکومتی جانب سے پارلیمانی امور کے وزیر نے متعلقہ فرمان پیش کیے، تاہم فراہم کردہ تفصیلات میں فرمانوں پر بحث، ارکان کی تقاریر یا توثیق کے حتمی فیصلے کی مزید تفصیلات شامل نہیں ہیں۔

    پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی کارروائی کے دوران ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق صدارتی فرمانوں پر آئندہ پیش رفت اہم ہوگی۔ ان اقدامات کی آئینی حیثیت، نفاذ کے طریقہ کار اور پارلیمانی توثیق سے متعلق حتمی صورت حال کا تعین ایوان کی کارروائی اور سرکاری اعلامیے سے ہوگا۔

  3. دوماہ بعد خیبر پختونخوا میں عمران خان اور علی امین گنڈا پور کا راج ہوگا: شیر افضل مروت

    رکن قومی اسمبلی شیرافضل مروت نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے کہا کہ کہ پی ٹی آئی میں قبضہ مافیا کا راج ہے۔

     دو تین دن ہوگئے ایمرجنسی کو خیبرپختونخوا کے عوام نے خاموش بیٹھ کررد عمل دیاہے، یہ خاموشی طمانچہ ہے ان تمام لوگوں کے منہ پر جوبیانیہ بنا رہے تھےکہ لاکھوں لوگ نکلیں گے۔

    شیر افضل مروت نے کہا اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے اپنی حکومت کا کبھی احتساب ہی نہیں کیا، آپ نے ماسوائے نفرت جھوٹ پھیلانے اور گالیاں دینےکےکچھ کیا ہی نہیں، پی ٹی آئی میں ایک مافیا ہےجومیرٹ کوپامال اوراپنے لوگوں کوپروموٹ کرتا ہے۔

    شیرافضل مروت کا کہنا تھا یہ لوگ سازشوں اور غیبت کے علاوہ کوئی اور کام نہیں کرتے، دو ماہ بعد خیبرپختونخوا میں بانی پی ٹی آئی اورعلی امین کا راج ہوگا، اس وقت سڑکوں پر نکلوں گا مجھے  نکالنے والے دست بستہ خود کہیں گے حضورآجائیں۔


مزید خبریں