ڈاکٹر محمد مخبر نے کہا کہ ایران کی بجلی پیدا کرنے والی تنصیبات اور پیٹروکیمیکل مراکز پر کسی بھی حملے کی صورت میں ایران 9 ممالک کے بجلی گھروں اور پیٹروکیمیکل تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔

انہوں نے 40 روزہ جنگ کے دوران قطر کے راس لفان میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی پیداوار کی تنصیب پر ایرانی حملے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس کارروائی نے پوری دنیا کو مشکل میں ڈال دیا تھا۔

قطر نے اس حملے پر سخت احتجاج کیا تھا۔ ایران نے جنوبی پارس میں اپنی تیل اور توانائی تنصیبات پر حملے کے جواب میں قطر میں قدرتی گیس برآمد کرنے والی ایک بڑی تنصیب کو نشانہ بنایا تھا۔

حملے کے بعد عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جبکہ توانائی کی فراہمی کے حوالے سے بھی خدشات پیدا ہوئے تھے۔

اپنی تقریر کے دوران ڈاکٹر محمد مخبر نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ملک کے دیگر حصوں کو محفوظ رکھنے کے لیے آبنائے ہرمز سے دستبردار ہوجانا چاہیے، تاہم ان کے بقول یہ معاملہ بھی اہمیت رکھتا ہے۔

دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے بھی ایران کی توانائی تنصیبات پر ممکنہ حملے کے حوالے سے سخت ردعمل کی دھمکی دی ہے۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا انگلش‘ کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان کے مطابق حسین محبی نے کہا کہ ایران کی توانائی تنصیبات پر کسی بھی جارحیت کا جواب دیا جائے گا۔

پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے کہا کہ ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے کی صورت میں اسرائیل کے خلاف شدید جوابی کارروائی کی جائے گی اور مقبوضہ علاقوں کو ’جلتا ہوا خطہ‘ بنا دیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران کی توانائی تنصیبات کو نقصان پہنچایا گیا تو ایرانی سائنس دان ان تنصیبات کو دوبارہ بحال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تاہم اسرائیل کو اس حملے کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔

حسین محبی نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ علاقوں کو ہمیشہ کے لیے جلتا ہوا خطہ بنا دیا جائے گا اور وہاں موجود افراد کو جزیرہ نما سینائی منتقل ہونا پڑے گا۔

پاسدارانِ انقلاب کے بیان میں اسرائیل کی کسی مخصوص تنصیب کو نشانہ بنانے یا ممکنہ جوابی کارروائی کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں کیا گیا۔

بیان میں ایران کی توانائی تنصیبات پر ممکنہ حملے کے خلاف خبردار کیا گیا ہے تاہم اس سے یہ تصدیق نہیں ہوتی کہ ایران کی توانائی تنصیبات پر ایسا کوئی حملہ ہوچکا ہے۔

ایرانی حکام کی جانب سے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا اور اسرائیل کے ساتھ ایران کے تنازع کے باعث مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے اور خطے میں توانائی کی تنصیبات اور اہم تجارتی راستوں کی سیکیورٹی پر خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔