اویس چوہدری نےنجی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں کے لیے کنٹینرز فراہم کیے گئے، تاہم ان کے مالکان کو تاحال رقم موصول نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ ایسوسی ایشن کی جانب سے حکومت سے متعدد بار مطالبہ کیا گیا کہ کنٹینرز کے کرائے کی ادائیگی کے لیے باقاعدہ اور شفاف میکنزم بنایا جائے، تاہم اب تک ایسا کوئی نظام وضع نہیں کیا گیا۔
اویس چوہدری کے مطابق حکومت کی جانب سے یہ مؤقف اپنایا جاتا ہے کہ کنٹینرز کے مالکان کو مخصوص رقم ادا کی گئی یا ادا کی جانی ہے، تاہم ایسوسی ایشن کے پاس ایسی ادائیگی کا کوئی واضح ریکارڈ موجود نہیں جس سے ثابت ہو کہ متعلقہ مالکان کو رقم موصول ہوئی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دھرنوں کے دوران فراہم کیے گئے کنٹینرز کے واجبات بھی اب تک ادا نہیں کیے گئے اور یہ معاملہ وہ پہلے بھی میڈیا کے سامنے اٹھا چکے ہیں۔
آل پاکستان کنٹینرز ایسوسی ایشن کے صدر نے خدشہ ظاہر کیا کہ کنٹینرز مالکان کے نام پر ظاہر کی جانے والی رقوم اور اصل ادائیگیوں کے درمیان ممکنہ بے ضابطگی کی تحقیقات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزراء کی جانب سے معاوضے کی ادائیگی کے دعوؤں کے پیش نظر 2013 سے اب تک کنٹینرز کے کرائے کی مد میں ادا کی گئی رقوم کا شفاف آڈٹ اور تحقیقات کرائی جائیں۔
اویس چوہدری نے مطالبہ کیا کہ معاوضہ کسی ایسوسی ایشن، کنٹریکٹر یا تھرڈ پارٹی کے بجائے براہ راست ان گاڑی مالکان کو ادا کیا جائے جن کی گاڑیاں احتجاج کے دوران تحویل میں لی گئی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو ایک شفاف نظام کے تحت یہ ریکارڈ رکھنا چاہیے کہ کس کنٹینر مالک نے کتنے کنٹینرز فراہم کیے، کتنے عرصے کے لیے فراہم کیے گئے اور اس کے عوض کتنی رقم واجب الادا ہے۔ ان کے مطابق فی الحال ایسا کوئی واضح میکنزم موجود نہیں ہے۔
دوسری جانب احتجاج کے لیے کنٹینرز کے کرائے اور دیگر سیکیورٹی اخراجات کے حوالے سے سامنے آنے والے سرکاری اعداد و شمار اور کنٹینرز مالکان کی جانب سے عدم ادائیگی کے دعوے میں فرق موجود ہے۔
اس فرق کو واضح کرنے کے لیے متعلقہ سرکاری اداروں کی جانب سے کنٹینرز کے کرایوں اور ادائیگیوں کا مکمل ریکارڈ سامنے آنا ضروری ہوگا۔







