ذرائع کے مطابق بارود سے بھری گاڑی انسدادِ اسمگلنگ چیک پوسٹ سے ٹکرائی، جس کے نتیجے میں انتہائی شدید نوعیت کا دھماکا ہوا۔ دھماکے کی شدت سے چیک پوسٹ اور اس کے اطراف میں موجود افراد متاثر ہوئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انسدادِ اسمگلنگ چیک پوسٹ پر حملہ دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر، بالخصوص اسمگلروں، کے گٹھ جوڑ کا واضح ثبوت ہے۔
ذرائع کے مطابق خوارج کی جانب سے ایک بار پھر سیکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کو وحشیانہ حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ دھماکے کے نتیجے میں مجموعی طور پر 11 افراد نے جام شہادت نوش کیا۔ شہداء میں 6 پولیس اہلکار، 2 کسٹمز اہلکار، 2 خواتین اور ایک 2 سالہ بچہ شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق دھماکے میں پولیس اہلکاروں، کسٹمز حکام اور عام شہریوں سمیت 30 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ زخمیوں کی تشویشناک حالت کے باعث شہداء کی تعداد میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
خیبر پختونخوا ریسکیو 1122 کے مطابق دھماکے کی اطلاع ملتے ہی درازندہ اسٹیشن کی ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچی اور فوری طور پر امدادی و ریسکیو کارروائیاں شروع کردیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے بعد مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جبکہ جائے وقوعہ سے جاں بحق افراد کی لاشیں بھی نکال لی گئیں۔
تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مدد کے لیے کرک اور ہنگو سے بھی اضافی ایمبولینسیں اور ریسکیو اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچے۔ ریسکیو 1122 کی 6 ایمبولینسیں، ایک فائر ٹینڈر اور 25 سے زائد اہلکار امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔
ڈیرہ اسماعیل خان کے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر محمد عارف خان کی ہدایت پر مزید 4 ایمبولینسیں اور ریسکیو اہلکار بھی جائے وقوعہ روانہ کیے گئے تاکہ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرکے اسپتال منتقل کیا جاسکے۔
دھماکے کے بعد پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا، جبکہ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنے اور واقعے کی تحقیقات کا عمل بھی شروع کردیا گیا ہے۔
خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے درازندہ میں امن میلہ چیک پوسٹ پر ہونے والے دھماکے کے حوالے سے اعلیٰ حکام سے رپورٹ طلب کرلی۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے اپنے دفتر سے جاری بیان میں کہا کہ یہ حملہ فتنہ ہندستان کے خارجی عناصر کی ایک مذموم سازش ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خیبر پختونخوا میں پولیس اور سیکیورٹی تنصیبات پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
گزشتہ ہفتے کوہاٹ پولیس لائنز میں واقع ایک مسجد کے قریب بارود سے بھری گاڑی کے دھماکے اور اس کے بعد دہشت گردوں کی جانب سے پولیس تنصیبات میں داخل ہونے کی کوشش کے نتیجے میں 15 پولیس اہلکاروں سمیت 23 افراد شہید ہوگئے تھے۔
افغانستان میں مقیم حافظ گل بہادر کی قیادت میں کام کرنے والی تنظیم ’اتحاد المجاہدین پاکستان‘ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
درازندہ میں امن میلہ انسدادِ اسمگلنگ چیک پوسٹ پر ہونے والے تازہ حملے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے، جب کہ ریسکیو اور سیکیورٹی اداروں کی کارروائیاں جاری ہیں۔







