حکومت، پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور گزشتہ روز اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، قومی امور اور پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف مجوزہ مارچ سمیت مختلف معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے مطابق پہلے دور میں فریقین نے اپنے اپنے مؤقف ایک دوسرے کے سامنے رکھے اور سیاسی و قومی معاملات کو بات چیت، باہمی مشاورت اور پارلیمانی مکالمے کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ مذاکرات کا ماحول فریقین کے مطابق خوشگوار اور تعمیری رہا، تاہم اہم مطالبات پر حتمی اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے متعلق مختلف مطالبات بھی زیر بحث آئے، جن میں ان کی رہائی اور طبی معائنے سے متعلق معاملات شامل ہیں۔ دوسری جانب حکومتی وفد کی جانب سے پی ٹی آئی سے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف مجوزہ مارچ کی کال واپس لینے کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔

مذاکرات میں پی ٹی آئی کے وفد میں بیرسٹر گوہر علی خان، علامہ راجہ ناصر عباس، اسد قیصر، سلمان اکرم راجا اور عامر ڈوگر سمیت دیگر رہنما شریک ہوئے، جبکہ حکومتی اور اتحادی وفد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ، طلال چوہدری، امیر مقام، پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان، نوید قمر اور اعجاز جاکھرانی سمیت دیگر رہنما شامل تھے۔

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے مذاکرات کے دوران کہا کہ وہ فریقین کے درمیان بات چیت میں سہولت کاری کا کردار ادا کر رہے ہیں اور پارلیمنٹ سیاسی معاملات کے حل کے لیے موزوں فورم ہے۔ انہوں نے سیاسی اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

پہلے دور کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے بھی مذاکرات جاری رکھنے پر آمادگی کا اظہار کیا گیا۔ بیرسٹر گوہر علی خان نے مذاکرات کو خوشگوار ماحول میں ہونے والا قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں جانب سے مؤقف پیش کیے گئے اور بات چیت کا سلسلہ آگے بڑھانے پر اتفاق ہوا۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی کی جانب سے پی ٹی آئی سے اسلام آباد مارچ واپس لینے کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں نے کہا ہے کہ سیاسی مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جانا چاہیے، تاہم مارچ کو محض مؤخر کرنے کے بجائے اسے واپس لینے پر زور دیا گیا ہے۔

اپوزیشن کی جانب سے بھی واضح کیا گیا ہے کہ مذاکرات کے نتیجے تک 4 اکتوبر کے احتجاجی مارچ سے متعلق فیصلہ زیر غور رہے گا۔ اپوزیشن نمائندوں نے حکومت سے سیاسی معاملات پر سنجیدہ اور بامقصد بات چیت جاری رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔

حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات ایسے وقت میں ہورہے ہیں جب 4 اکتوبر کے اسلام آباد مارچ کی کال کے باعث سیاسی صورتحال میں کشیدگی برقرار ہے۔ حکومت کی جانب سے احتجاج ختم کرنے پر زور دیا جا رہا ہے جبکہ پی ٹی آئی نے اپنے مطالبات پر پیش رفت کو مذاکرات کے نتائج سے جوڑا ہے۔

دوسرے دور میں فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کے مطالبات پر مزید غور اور ممکنہ طور پر قابل قبول نکات پر پیش رفت کی کوشش متوقع ہے۔ تاہم مذاکرات کے حتمی نتائج اور 4 اکتوبر کے مجوزہ مارچ کے حوالے سے کوئی فیصلہ بات چیت مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آسکے گا۔