امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی ممالک کے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپ کی جانب سے ہنگامی ذخائر جاری کیے جانے کے بعد امریکا ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کرنے کے منصوبے سے دستبردار ہوگیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں کہا کہ یورپ نے اپنے بڑے ڈیزل ذخائر میں سے نمایاں مقدار جاری کرنے پر اتفاق کیا ہے اور اس عمل کا فوری آغاز کیا جائے گا۔ امریکی صدر نے یورپی اقدام کو عالمی ایندھن مارکیٹ پر دباؤ کم کرنے کی کوشش قرار دیا۔
ذرائع کے مطابق یورپی یونین کی حکومتوں نے فرانس کی جانب سے پیش کی گئی تجویز پر غور کے بعد ہنگامی ڈیزل ذخائر میں سے تقریباً 5 کروڑ بیرل مارکیٹ میں لانے پر اتفاق کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے رکن ممالک سے بھی تقریباً 5 کروڑ بیرل خام تیل اپنے ذخائر سے جاری کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
یورپی منصوبے کے تحت ڈیزل کے ذخائر کا ایک حصہ تقریباً 20 روز کے دوران مرحلہ وار مارکیٹ میں لایا جائے گا۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد عالمی مارکیٹ میں ڈیزل کی دستیابی بہتر بنانا، سپلائی کے دباؤ کو کم کرنا اور ایندھن کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کو محدود کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران جنگ کے باعث خلیجی خطے سے تیل اور ایندھن کی سپلائی میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے، جبکہ روس سے ڈیزل کی برآمدات میں کمی اور یوکرین کے حملوں کے نتیجے میں روسی ریفائنریوں کو پہنچنے والے نقصانات نے بھی عالمی ڈیزل مارکیٹ کو متاثر کیا ہے۔
چین کی جانب سے بھی ملکی توانائی ضروریات اور ذخائر کو مضبوط بنانے کے لیے ایندھن کی برآمدات محدود کیے جانے کے باعث عالمی منڈی میں دستیاب سپلائی پر مزید دباؤ بڑھا ہے۔ ان عوامل کے نتیجے میں مختلف خطوں میں ڈیزل کی قیمتوں اور سپلائی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے بھی عالمی توانائی کی صورتحال پر جی7 ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کی۔ فرانس اس وقت جی7 کی صدارت کررہا ہے۔ اجلاس میں عالمی توانائی مارکیٹ، ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور سپلائی کو مستحکم رکھنے کے لیے ممکنہ اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق امریکی انتظامیہ نے جرمنی اور فرانس سمیت یورپ کے بڑے ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے ہنگامی ڈیزل ذخائر مارکیٹ میں لائیں۔ امریکی مطالبے میں تقریباً 10 کروڑ بیرل ڈیزل 20 روز کے اندر مارکیٹ میں لانے کی تجویز بھی شامل تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی دباؤ کے دوران واشنگٹن کی جانب سے یورپ کو ڈیزل کی برآمدات محدود یا عارضی طور پر روکنے کے امکان پر بھی غور کیا گیا تھا۔ تاہم یورپی ممالک کی جانب سے ذخائر جاری کرنے کے فیصلے کے بعد صدر ٹرمپ نے امریکی ڈیزل برآمدات پر پابندی کے منصوبے سے دستبرداری کا اعلان کردیا۔
یورپی یونین کی جانب سے تجویز کردہ تقریباً 5 کروڑ بیرل ڈیزل کا اجرا خطے کے مجموعی ہنگامی ڈیزل اور گیس آئل ذخائر کا تقریباً 17 فیصد بنتا ہے۔ یہ مقدار یورپ کی سالانہ ڈیزل کھپت کے تقریباً 3 فیصد کے برابر بتائی جاتی ہے۔
توانائی مارکیٹ کے ماہرین کے مطابق ہنگامی ذخائر کا اجرا مختصر مدت میں عالمی ڈیزل سپلائی پر دباؤ کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ تاہم مارکیٹ میں استحکام کا انحصار اس بات پر بھی ہوگا کہ ایران جنگ کے باعث مشرق وسطیٰ سے توانائی کی ترسیل، عالمی تجارت اور خام تیل کی سپلائی کس حد تک معمول پر آتی ہے۔
عالمی ڈیزل مارکیٹ میں روس اور چین سے متعلق سپلائی کے عوامل بھی اہم قرار دیے جارہے ہیں۔ روسی ریفائنریوں کو پہنچنے والے نقصانات، روسی برآمدات میں کمی اور چین کی جانب سے برآمدی پابندیوں کے باعث عالمی منڈی میں اضافی سپلائی حاصل کرنے کے لیے یورپی ہنگامی ذخائر کے استعمال کو اہم قدم سمجھا جارہا ہے۔
امریکی اور یورپی اقدامات کے بعد عالمی مارکیٹ میں ڈیزل کی قیمتوں میں کمی بھی دیکھی گئی، تاہم توانائی کے شعبے میں موجود غیر یقینی صورتحال مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔
یاد رہے کہ اگر ایران جنگ کے باعث خلیجی خطے سے توانائی کی ترسیل میں مزید رکاوٹیں پیدا ہوئیں تو عالمی ایندھن مارکیٹ پر دوبارہ دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اس لیے یورپی ممالک کی جانب سے ہنگامی ذخائر کا استعمال فوری طور پر سپلائی بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے، لیکن طویل مدتی استحکام کے لیے عالمی سطح پر تیل اور ڈیزل کی مسلسل فراہمی برقرار رکھنا ضروری ہوگا۔
یورپ کی جانب سے ہنگامی ڈیزل ذخائر جاری کرنے اور امریکا کی جانب سے برآمدی پابندی کے منصوبے سے دستبرداری کے فیصلے کو عالمی توانائی مارکیٹ میں بڑھتے ہوئے دباؤ سے نمٹنے کی کوششوں کے طور پر دیکھا جارہا ہے، تاہم ایران جنگ اور دیگر جغرافیائی سیاسی عوامل کے باعث آنے والے دنوں میں ایندھن کی قیمتوں اور عالمی سپلائی کی صورتحال پر نظر برقرار رہے گی







