نجی نشریاتی ادارے جیو نیوز کے پروگرام ’نیا پاکستان‘ میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سے ماضی میں بھی اختلافات رہے ہیں، تاہم معاملات کبھی اس نہج تک نہیں پہنچے تھے۔ مولانا فضل الرحمان کو فوری رد عمل نہیں دینا چاہتا تھا۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ان کے اچھے مراسم ہیں اور انہیں اپنی ذات پر تنقید سے کوئی مسئلہ نہیں، تاہم مولانا فضل الرحمان حکومت کی ساکھ کو نشانہ بنا رہے تھے، جس پر مجھے اپنا مؤقف دینا پڑا۔

انہوں نے جے یو آئی کے گورنر راج سے متعلق مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا کہ جماعت نے کبھی اس معاملے میں حصہ نہیں مانگا، معصومیت کا اظہار ہے۔

خواجہ آصف نے خیبر پختونخوا میں گزشتہ 13 برس کے دوران بدعنوانی میں اضافے کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی فنڈز کے لیے بڑی رقوم حاصل کی جاتی رہیں، لیکن ان کے بقول یہ پیسہ ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہونے کے بجائے جیبوں میں جاتا رہا۔

خواجہ آصف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی اندرونی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کئی گروپس میں تقسیم ہے اور ہر گروپ دوسرے گروپ کے ساتھ محاذ آرائی کی کیفیت میں ہے۔ جماعت کے اندر اختلافات اور گروپ بندی نمایاں ہے۔