اس حوالے سے پیٹرولیم ڈویژن کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آئل نے اوگرا کو پیٹرول کے نئے پرائسنگ میکانزم سے متعلق خط لکھ دیا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں کے تعین کے نئے فارمولے کی وفاقی کابینہ سے منظوری لی گئی ہے۔ پیٹرول کی درآمدی قیمت کا تعین پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے درآمدی کارگو کی اصل لاگت کی بنیاد پر کیا جائے گا، جبکہ درآمدی کارگو کی اصل لاگت دستیاب نہ ہونے کی صورت میں آخری دستیاب کارگو کی قیمت کو بنیاد بنایا جائے گا۔
خط کے متن کے مطابق آئل ریفائنریز اگلے 30 روز تک ایران امریکا جنگ سے پہلے کی سطح پر پریمیئم اور دیگر اخراجات برقرار رکھ سکیں گی۔ ریفائنریز کے لیے پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت کا تعین 7 مارچ 2026 کی سطح پر پریمیئم اور کسٹمز ڈیوٹی کی بنیاد پر ہوگا۔
پیٹرول کی درآمدی قیمت اور ریفائنری کی قیمت کے درمیان فرق کی رقم پیٹرولیم لیوی اکاؤنٹ میں منتقل ہوگی، جبکہ لیوی اکاؤنٹس میں جمع ہونے والی رقم پیٹرول پر ریلیف دینے کے لیے استعمال کی جائے گی۔
ذرائع وزارت توانائی کا کہنا ہے کہ ریفائنریز ایران امریکا جنگ کے بعد درآمدی پیٹرول کے برابر بھاری پریمیئم لیتی رہی ہیں۔ 7 مارچ کی سطح پر پریمیئم فریز کرنے سے ریفائنریز کی پیٹرول قیمت کم اور درآمدی قیمت زیادہ ہوگی۔ ریفائنریز پیٹرول کی قیمت درآمدی قیمت کے برابر کرنے کے لیے دونوں کے درمیان فرق کے برابر رقم لیوی اکاؤنٹس میں جمع کرائیں گی۔
ذرائع وزارت توانائی کے مطابق پیٹرول پر 80 روپے فی لیٹر لیوی برقرار رہے گی، تاہم 80 روپے فی لیٹر کی اس رقم کا صارفین کو ریلیف فراہم کرنے سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔







