ایرانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے اتوار کو سامنے آنے والے اعلان میں اس اقدام کو برطانیہ کی جانب سے پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے فیصلے کا جوابی ردعمل قرار دیا گیا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق برطانوی حکومت نے گزشتہ ایک سال کے دوران ایران کے خلاف متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں امریکا اور اسرائیل کو اپنے فوجی اڈوں اور لاجسٹک سہولتوں تک رسائی فراہم کرنا بھی شامل ہے۔
بیان کے مطابق یکم نومبر سے برطانیہ کی خفیہ انٹیلی جنس سروس ’ایم آئی سکس‘ کو ایران میں دشمن گروہ، جبکہ برطانوی بحریہ اور فضائیہ کو ایرانی قانون کے تحت دہشت گرد تنظیمیں تصور کیا جائے گا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ’ایم آئی سکس‘ کو ایران کی سلامتی کے خلاف جاسوسی، تخریب کاری اور اسرائیل کے ساتھ تعاون کے الزامات پر باضابطہ قانونی طریقہ کار کے تحت ’دشمن گروہ‘ قرار دیا گیا ہے۔
ایران کا یہ اقدام برطانیہ کے 13 جولائی کے اس فیصلے کے ردعمل میں سامنے آیا ہے، جس کے تحت پاسدارانِ انقلاب کو خطرہ قرار دیتے ہوئے دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔
برطانوی رائل نیوی اور فضائیہ کو ایران کے اس متبادل قانون کے تحت بلیک لسٹ کیا گیا ہے، جو امریکا کی جانب سے پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے جواب میں بنایا گیا تھا۔ اس قانون کے تحت برطانوی افواج بھی ایرانی قانون کی رو سے ’دہشت گرد تنظیمیں‘ کہلائیں گی۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق برطانیہ کے خلاف جوابی اقدامات سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی قرارداد کی بنیاد پر کیے گئے ہیں، جن کا مقصد ملک کی قومی سلامتی اور مفادات کا تحفظ ہے۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اس فیصلے کے بعد پیدا ہونے والی کسی بھی سنگین صورتحال کی تمام تر ذمہ داری برطانوی حکومت پر عائد ہوگی۔







