امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا، بلوچستان سمیت ملک بھر کے 510 مقامات پر پرامن مظاہرے کیے جائیں گے، جنہیں عوام کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ انتظامیہ مظاہرین کو روکنے کی کوشش نہ کرے، بصورتِ دیگر حالات کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی تاریخی اور پرامن مزاحمت کا نیا باب رقم کرے گی۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں سڑکوں پر لا کر احتجاج میں شریک ہوں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر پیٹرول کی قیمت کم کرے اور پیٹرولیم لیوی ختم کرے، ورنہ عوامی طاقت سے حکمرانوں کو اپنے فیصلے واپس لینے پر مجبور کیا جائے گا۔

جماعت اسلامی کے مطابق احتجاج نمازِ جمعہ کے بعد شروع ہوا اور رات 8 بجے تک جاری رہے گا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ملک کے 170 اضلاع میں 510 مقامات پر دھرنے اور مظاہرے کیے جائیں گے، جن کے دوران مختلف شاہراہوں پر ٹریفک متاثر ہوگی، تاہم ایمبولینس اور دیگر ایمرجنسی گاڑیوں کو گزرنے کی اجازت ہوگی۔

احتجاج کہاں کہاں ہوگا؟

کراچی میں مرکزی ریلی مزارِ قائد سے شروع ہوگی، جہاں شہر کے مختلف علاقوں سے آنے والی ریلیاں جمع ہوں گی۔ جماعت اسلامی سندھ کے مطابق شاہراہ فیصل، شاہراہِ پاکستان، ناگن چورنگی، یو پی موڑ، پاور ہاؤس چورنگی، ڈیفنس ویو، شاہراہِ اورنگی، سہراب گوٹھ، سپر ہائی وے اور نیشنل ہائی وے سمیت مختلف مقامات پر احتجاج کیا جائے گا۔ سندھ کے دیگر 10 اضلاع میں بھی دھرنے اور مظاہرے ہوں گے۔

اسلام آباد میں 26 نمبر چونگی پر دھرنا دیا جائے گا، جبکہ راولپنڈی میں لیاقت باغ کے باہر احتجاج ہوگا۔ لاہور میں قرطبہ چوک اور مزنگ چونگی کو مرکزی دھرنا گاہیں قرار دیا گیا ہے، جہاں مختلف علاقوں سے ریلیاں پہنچیں گی۔ پنجاب میں جی ٹی روڈ اور جنوبی پنجاب کی متعدد مرکزی شاہراہوں پر بھی احتجاج ہوگا، جبکہ ملتان میں چونگی نمبر 6 اور بوسن روڈ اہم احتجاجی مقامات ہوں گے۔

خیبرپختونخوا میں پشاور کے موٹروے ٹول پلازہ اور دیگر مرکزی شاہراہوں پر دھرنے دیے جائیں گے، جبکہ موٹرویز کے مختلف داخلی مقامات پر بھی احتجاج ہوگا۔ سوات میں چکدرہ اور کرک میں انڈس ہائی وے پر بھی احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے۔

بلوچستان میں کوئٹہ سمیت 18 مختلف مقامات پر احتجاج ہوگا، جبکہ کوئٹہ میں میاں غنڈی روڈ کو مرکزی دھرنا گاہ قرار دیا گیا ہے۔

جماعت اسلامی کے مطابق امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن لاہور میں مرکزی دھرنے سے خطاب کریں گے، جب کہ ان کا خطاب ویڈیو لنک کے ذریعے ملک بھر کے دیگر احتجاجی مقامات پر بھی نشر کیا جائے گا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ حافظ نعیم الرحمٰن رات 8 بجے آئندہ کے لائحہ عمل کا بھی اعلان کریں گے۔

اگر احتجاج روکا گیا تو کیا ہوگا؟

گزشتہ روز لاہور میں خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ عوام پر مزید ظلم برداشت نہیں کیا جائے گا اور پیٹرول کی قیمت 225 روپے فی لیٹر کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جمعہ کو ملک بھر کے 510 مقامات پر پرامن دھرنے ہوں گے اور صرف ایمبولینسوں کو راستہ دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر احتجاج میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں تو پیٹرولیم لیوی کے خلاف یہ تحریک حکومت گرانے کی تحریک میں تبدیل ہو جائے گی۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے مزید کہا کہ شام 4 بجے لاکھوں افراد حکمرانوں کے خلاف سڑکوں پر ہوں گے۔ ان کے مطابق پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان اور آزاد کشمیر کے عوام اس احتجاج میں شریک ہوں گے، جبکہ نوجوانوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنی موٹر سائیکلیں سڑکوں پر لا کر احتجاج میں حصہ لیں۔

اس احتجاج سے عام عوام کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟

واضح رہے کہ ماضی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہر ماہ یا ہر پندرہ روز بعد ردوبدل کیا جاتا تھا، تاہم جولائی 2026 کے بعد حکومت نے قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی کا طریقہ اختیار کیا، جس کے باعث عوام کی روزمرہ زندگی اور اخراجات براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں۔

اس وقت عوام فی لیٹر پیٹرول پر 120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی ادا کر رہے ہیں۔ اگر جماعت اسلامی کے مطالبات تسلیم کر لیے جاتے ہیں اور پیٹرولیم لیوی میں نمایاں کمی یا اس کا خاتمہ کر دیا جاتا ہے تو پیٹرول کی قیمت تقریباً 225 روپے فی لیٹر تک آ سکتی ہے، جس سے ٹرانسپورٹ، اشیائے ضروریہ اور دیگر روزمرہ اخراجات میں کمی آنے کا امکان ہے اور عام شہری کو کچھ معاشی ریلیف مل سکتا ہے۔ تاہم، اس کا حتمی فیصلہ حکومت کی پالیسی اور آئندہ اعلانات پر منحصر ہوگا۔

لاہور اور کراچی میں احتجاجی دھرنوں کے پیش نظر خصوصی ٹریفک پلان جاری

جماعت اسلامی کی احتجاجی ریلیوں اور دھرنے کے پیشِ نظر لاہور ٹریفک پولیس نے مزنگ اور اس کے اطراف کے علاقوں کے لیے خصوصی ٹریفک پلان جاری کر دیا ہے۔

ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق ریلیاں شام 4 بجے کے بعد مزنگ اور قرطبہ چوک پہنچیں گی، جس کے باعث ٹریفک کا دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔مزنگ، ہمدرد چوک، قرطبہ چوک اور گرد و نواح میں شام 4 بجے سے مغرب تک مرحلہ وار ٹریفک ڈائیورژن نافذ کیے جائیں گے۔

جین مندر لوئر مال سے اچھرہ جانے والے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ لٹن روڈ کے بجائے مال روڈ، لارنس روڈ اور شادمان کے راستے استعمال کریں۔ لاہور ٹریفک پولیس نے شہریوں سے مزنگ اور قرطبہ چوک کی جانب غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔

سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی کے مطابق شہری سفر سے قبل ہیلپ لائن 15 اور راستہ ایف ایم سے رہنمائی حاصل کریں۔

ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے 3 ڈی ایس پیز اور 100 سے زائد ٹریفک وارڈنز تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ ٹریفک کا دباؤ بڑھنے کی صورت میں گاڑیوں کو متبادل راستوں پر مرحلہ وار منتقل کیا جائے گا۔

سی ٹی او لاہور نے شہریوں سے ٹریفک وارڈنز کے ساتھ تعاون کرنے اور جاری ہدایات پر عمل کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔

دوسری جانب کراچی ٹریفک پولیس نے کراچی میں جماعت اسلامی کے احتجاج اور دھرنوں کے حوالے سے تریفک ایڈوائزری جاری کردی۔

ٹریفک پولیس کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق ایک سیاسی جماعت کی جانب سے شہر کے مختلف علاقوں میں احتجاج اور دھرنوں کا امکان ہے۔ مرکزی ریلی مزارِ قائد سے شروع ہوگی جبکہ شہر کے مختلف اضلاع میں بھی احتجاجی سرگرمیاں متوقع ہیں۔

احتجاج کے باعث مزارِ قائد، نمائش، صدر، شاہراہِ فیصل، شارعِ پاکستان، یو پی موڑ، پاور ہاؤس چورنگی، ڈیفنس، سی ویو، شارعِ اورنگی، حب ریور روڈ، سپر ہائی وے اور نیشنل ہائی وے سمیت مختلف اہم شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہونے، سست روی اور بعض مقامات پر عارضی ٹریفک ڈائیورشن یا سڑکوں کی جزوی بندش کا امکان ہے۔

شہریوں سے گزارش ہے کہ غیر ضروری طور پر متاثرہ علاقوں کا رخ کرنے سے گریز کریں۔ سفر سے قبل متبادل راستوں کا انتخاب کریں اور اضافی سفری وقت رکھیں۔ ٹریفک پولیس کی ہدایات پر عمل کریں اور ہنگامی امدادی گاڑیوں کو راستہ دینے میں تعاون کریں۔

تازہ ترین ٹریفک صورتحال اور رہنمائی کے لیے کراچی ٹریفک پولیس ہیلپ لائن 1915 پر رابطے میں رہیں اور FM 88.6 سنتے رہیں۔