آزاد کشمیر کے ضلع باغ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر نئے صوبے بنانا عوام کا فیصلہ ہے تو پیپلز پارٹی اس کی حمایت کرے گی، لیکن اگر یہ عوام کی خواہش نہیں تو پارٹی اس کی حمایت نہیں کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں حکومت خطرے میں ہے اور اس کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے۔ ان کے بقول یہ الٹی گنتی پیپلز پارٹی نے نہیں بلکہ حکومت کے اپنے لوگوں نے شروع کی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی لڑائی پیپلز پارٹی سے نہیں، بلکہ اصل لڑائی کچھ اور ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیراعظم کے اردگرد موجود بعض افراد کی نیت صاف نہیں اور ن لیگ کا ایک مخصوص دھڑا وزیراعظم کو نہ صرف اپوزیشن بلکہ اتحادیوں سے بھی لڑانا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق اصل لڑائی اسلام آباد اور لاہور کے درمیان ہے، جو ان کے اپنے خاندان کا معاملہ ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی کے امیدوار اور آزاد کشمیر کے صدر پر حملے کیے گئے، جو کسی اتحادی کا طرزِ عمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ دھاندلی زدہ اور خونریز انتخابات انہیں قبول نہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) یہ غلط فہمی پالے بیٹھی ہے کہ وہ مظفرآباد میں حکومت بنا لے گی۔ ان کے مطابق حکومت نہ سچائی کمیشن بنانے پر آمادہ ہے اور نہ ہی شفاف انتخابات کرانے پر، جبکہ آزاد کشمیر موجودہ نظام کی ناکامی کی واضح مثال بن چکا ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ کشمیر کی تاریخ میں اس سے زیادہ مشکل وقت کبھی نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلی بار ایسا دیکھا جا رہا ہے کہ انٹرنیٹ اور سڑکیں پچاس، پچاس دن تک بند رہیں، جس سے کاروبار اور معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تمام مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق آزاد کشمیر اسمبلی سچائی اور مفاہمتی کمیشن کے قیام کی قرارداد بھی منظور کر چکی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کمیشن کے قیام تک احتجاج کرنے والے احتجاج اور کارروائیاں کرنے والے اپنی کارروائیاں روک دیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ مجھے تو اپوزیشن کرنے کا شوق ہے، اگر میں اپوزیشن میں ہوتا تو انہیں پتا چل جاتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر ایک ہے، اس لیے وہاں انتخابات بھی ایک ہی دن ہونے چاہیے تھے۔ ان کے بقول کشمیر کی تاریخ میں پہلی بار انتخابات چھ مراحل میں کرائے گئے ہیں۔