تفصیلات کے مطابق آغا خان یونیورسٹی میں ہیلتھ مینول کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ماں اور بچے کی صحت سے متعلق کمزور نظام کے باعث قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں روزانہ 300 بچوں کی اموات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ملک کے شعبۂ صحت کو فوری توجہ اور مؤثر اصلاحات کی ضرورت ہے۔

سید مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث لاکھوں بچے تعلیم سے بھی محروم ہیں، اس لیے صحت اور تعلیم کے شعبوں میں مربوط اور مؤثر حکمت عملی اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دیگر مقررین نے بھی کہا کہ آغا خان یونیورسٹی کے ہیلتھ مینول سے دور دراز علاقوں میں خدمات انجام دینے والے معالجین بھی مستفید ہو سکیں گے، جس سے بچوں کی جانیں بچانے میں مدد ملے گی۔