جماعت اسلامی کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ پٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاجی سرگرمیوں میں مزید شدت لائی جائے گی اور اس سلسلے میں دستخطی مہم بھی جاری ہے۔ جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ عوام کو مہنگائی کے دباؤ سے ریلیف دینے کے لیے پٹرولیم لیوی کا خاتمہ ضروری ہے، اسی مطالبے کو لے کر احتجاجی تحریک آگے بڑھائی جا رہی ہے۔
ترجمان کے مطابق احتجاج کے تیسرے مرحلے میں ملک کے تمام اضلاع کو شامل کیا جائے گا، جہاں کارکنان اور شہری دھرنوں کے ذریعے اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں گے۔ جماعت اسلامی نے واضح کیا ہے کہ پٹرولیم لیوی کے خاتمے تک اس معاملے پر اپنا مؤقف برقرار رکھا جائے گا اور احتجاجی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔
دوسری جانب ترجمان جماعت اسلامی نے وزیراعظم شہباز شریف اور امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کے درمیان ممکنہ ملاقات سے متعلق بھی تفصیلات بتائیں، حکومتی کمیٹی کی جانب سے ملاقات کے معاملے پر رابطہ کیا گیا تھا۔ احسن اقبال اور رانا ثناء اللہ نے نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ سے بھی رابطہ کیا تھا۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اور امیر جماعت اسلامی کی ملاقات کا شیڈول طے کرنے کے لیے حکومت اور جماعت اسلامی کی کمیٹیوں کا اجلاس بھی طے پایا تھا، تاہم ابتدائی رابطوں اور طے شدہ امور کے باوجود بعد میں حکومت کی جانب سے مزید کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔
جماعت اسلامی کے مطابق وزیراعظم سے ملاقات کی صورت میں پٹرولیم لیوی کا خاتمہ بنیادی ایجنڈا ہوگا۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ ملاقات میں اس مطالبے کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگی۔
جماعت اسلامی نے ایک بار پھر حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے معاملے پر سنجیدہ پیش رفت کی جائے۔ ترجمان کے بیان کے مطابق احتجاجی دھرنوں اور دستخطی مہم کے ذریعے حکومت پر دباؤ بڑھایا جائے گا، جبکہ آئندہ کا لائحہ عمل تحریک کے حالات اور پیش رفت کو سامنے رکھتے ہوئے طے کیا جائے گا۔







