پاکستان اور مالدیپ کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے مفاہمتی یادداشتوں کے تبادلے کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں وزیراعظم شہباز شریف اور مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے شرکت کی۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، تجارت، معیشت، دفاع، تعلیم، صحت اور جدید ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ کے تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوئے ہیں اور دونوں ممالک مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے خواہاں ہیں، اقتصادی تعاون اور تجارت کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے، جبکہ دفاع سمیت دیگر شعبوں میں بھی باہمی اشتراک کے نئے مواقع موجود ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ مالدیپ کے متعدد طلبہ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جبکہ پاکستانی ڈاکٹرز اور معاون طبی عملہ مالدیپ میں خدمات انجام دے کر انسانی فلاح میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان ایک برادر ملک کی حیثیت سے مالدیپ کی ضروریات پوری کرنے اور اس کے ساتھ تعاون بڑھانے میں خوشی محسوس کرے گا۔
شہباز شریف نے مسئلہ فلسطین پر پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مالدیپ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کرتا ہے اور پاکستان بھی ایک آزاد، خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گا۔
پاکستان کے آبی حقوق پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے واضح کیا کہ پانی ملکی سلامتی اور عوام کے مستقبل سے جڑا اہم معاملہ ہے۔ انہوں نے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کے بھارتی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ معاہدوں پر عمل کرنا تمام ممالک کی ذمہ داری ہے، پاکستان کے پانی کو روکنے یا اس کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو جنگی اقدام سمجھا جائے گا۔
دوسری جانب مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ کے درمیان سفارتی تعلقات کے 60 سال باہمی تعاون اور دوستی کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک تعلیم، صحت، تجارت اور دیگر اہم شعبوں میں شراکت داری کو مزید مضبوط بنائیں گے۔
مالدیپ کے صدر نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ بزنس فورم دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعاون کے نئے امکانات پیدا کرے گا، نوجوانوں کے تبادلے کے پروگرام کو وسعت دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ دونوں ممالک کے نوجوان ایک دوسرے کے تجربات اور صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔
ڈاکٹر محمد معیزو کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹائزیشن اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ دونوں ممالک ان شعبوں میں تعاون کے ذریعے ترقی کے نئے مواقع پیدا کرسکتے ہیں۔
پاکستان اور مالدیپ کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس امید کا اظہار کیا کہ باہمی رابطوں، تجارتی روابط اور مختلف شعبوں میں اشتراک کے ذریعے دونوں ملکوں کے عوام کے لیے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔







