اسلام آباد میں ایک ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی قوم، پاک فوج، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تقریباً 90 ہزار جانوں کی قربانیاں دیں، دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پوری قوم نے متحد ہوکر مشکلات کا سامنا کیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر ریاست نے نیشنل ایکشن پلان تشکیل دیا، جو دہشتگردی کے خلاف ایک متفقہ قومی حکمت عملی تھی۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں، افواج پاکستان اور ریاستی اداروں نے مل کر اس پلان پر عمل درآمد کیا۔

ان کے مطابق سوات، بلوچستان، جنوبی پنجاب سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں دہشتگردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے کارروائیاں کی گئیں اور تقریباً ڈھائی سے 3 سال کے عرصے میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ کراچی سے خیبر تک امن کی صورتحال بہتر ہوئی اور ملک میں سرمایہ کاری کے لیے ماحول سازگار ہوا

عطا تارڑ نے کہا کہ دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کو دوبارہ آباد کرنے اور ان سے مذاکرات کی پالیسی نے انسداد دہشتگردی کی کوششوں کو نقصان پہنچایا۔

وفاقی وزیر کے مطابق دہشتگرد عناصر کی دوبارہ واپسی دراصل کئی سال کی انسداد دہشتگردی کی کوششوں کو پیچھے لے جانے کے مترادف تھی، دہشتگردی کے خلاف پائیدار کامیابی کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو قومی پالیسی پر اعتماد میں لینا ضروری ہے

انہوں نے کہا کہ سیاسی اتفاق رائے کے بغیر دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مستقل کامیابی حاصل کرنا مشکل ہوگا۔ دہشتگرد اب سیکیورٹی تنصیبات جیسے سخت اہداف کے بجائے نرم اہداف کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں، جن میں عبادت گاہیں، بچوں کی بسیں اور مسافر ٹرینیں بھی شامل ہیں

عطا تارڑ نے جعفر ایکسپریس پر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے حملے کی مثالیں دنیا میں کم ملتی ہیں، سیکیورٹی اداروں کو کارروائی مکمل کرنے پر سراہتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف آپریشنز میں ریاستی اداروں نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔

وفاقی وزیر نے دہشتگردی میں اضافے کی وجوہات میں پالیسی کے ریورسل اور بیرونی مداخلت کو بھی شامل کیا، دہشتگردی کی بیرونی معاونت سے متعلق پاکستان کے پاس شواہد موجود ہیں

عطا تارڑ نے پہلگام واقعے کے بعد پاکستان پر عائد کیے جانے والے الزامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کے فوراً بعد پاکستان پر الزامات لگائے گئے، تاہم پاکستان نے ہر الزام کا مدلل اور عملی جواب دیا۔

انہوں نے کہا کہ واقعے کے صرف آدھے گھنٹے کے اندر ایف آئی آر کا اندراج کئی سوالات کو جنم دیتا ہے، وزیراعظم کی جانب سے شفاف اور بین الاقوامی تحقیقات کی پیشکش نے بھارتی مؤقف پر بھی سوالات اٹھائے۔

عطا تارڑ نے کہا کہ جس ملک نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں قیمتی جانیں گنوائی ہوں، اسے دہشتگردی کی حمایت سے جوڑنا درست نہیں۔ پاکستان کے پاس دہشتگردی کے خلاف اپنے مؤقف کے حق میں اعداد و شمار اور شواہد موجود ہیں

وفاقی وزیر نے کلبھوشن یادیو کی بلوچستان سے گرفتاری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے مؤقف کے مطابق یہ ملک میں بھارتی مداخلت کا عملی ثبوت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو خود بیرون ملک کارروائیوں اور مداخلت کے الزامات کا سامنا ہے، جبکہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف عملی طور پر جنگ لڑ رہا ہے اور اس جنگ میں بھاری جانی و مالی نقصان برداشت کرچکا ہے

عطا تارڑ نے دہشتگردی کے ساتھ ڈیجیٹل محاذ پر درپیش خطرات کی بھی نشاندہی کی۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی عناصر صرف تخریب کاری تک محدود نہیں بلکہ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے ذہن سازی اور منفی بیانیے کو فروغ دینے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔

وفاقی وزیر کے مطابق ڈیجیٹل دنیا میں ایک گمراہ کن پوسٹ کسی فرد کی زندگی کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، اس لیے سائبر کرائمز سے نمٹنے کے لیے مؤثر قانونی اور ادارہ جاتی نظام ضروری ہے

انہوں نے کہا کہ سائبر اسپیس میں دہشتگردی، خواتین کو ہراساں کرنے اور بچوں کے استحصال سمیت متعدد سنگین مسائل موجود ہیں۔ کاؤنٹر ٹیررازم اور سائبر سیکیورٹی کے شعبوں میں مؤثر اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں

عطا تارڑ کے مطابق اسی مقصد کے تحت سائبر کرائم ونگ کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی میں تبدیل کیا گیا ہے تاکہ ڈیجیٹل جرائم اور آن لائن خطرات سے زیادہ مؤثر انداز میں نمٹا جاسکے

وفاقی وزیر نے زور دیا کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے ریاستی اداروں کے ساتھ سیاسی جماعتوں اور معاشرے کے تمام طبقات کا متحد ہونا ضروری ہے، جبکہ قومی سطح پر متفقہ پالیسی اور مسلسل اقدامات ہی ملک میں پائیدار امن کی بنیاد بن سکتے ہیں۔