لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملک محمد احمد خان نے کہا کہ اسلام آباد میں کسی کو افراتفری یا انارکی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، ماضی میں مختلف مواقع پر اسلام آباد کی جانب پیش قدمی کے ذریعے حالات کو کشیدہ کرنے کی کوششیں کی گئیں اور اب ایک مرتبہ پھر پشاور سے لوگوں کے آنے اور وفاقی دارالحکومت پر دباؤ ڈالنے کی باتیں کی جارہی ہیں۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی نے الزام عائد کیا کہ بعض عناصر ماضی میں اسلام آباد کا محاصرہ کرکے سپریم کورٹ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش بھی کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2014 سے اب تک مختلف مواقع پر پانچ مرتبہ گروہوں کی صورت میں اسلام آباد آنے کے واقعات پیش آئے، جبکہ وزیراعظم ہاؤس، پاکستان ٹیلی ویژن، سپریم کورٹ اور کانسٹیٹیوشن ایونیو سے متعلق واقعات بھی ریکارڈ پر موجود ہیں۔
ملک احمد خان نے کہا کہ ان کے مطابق پشاور سے مسلح گروہ بھی اسلام آباد کی جانب روانہ ہوئے، جن میں شرپسند عناصر شامل تھے۔ انہوں نے خیبرپختونخوا کی امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ کئی برس سے مختلف نوعیت کے مسائل کا سامنا کر رہا ہے اور اس وقت بھی دہشتگردی ایک بڑا چیلنج ہے۔
انہوں نے 9 مئی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس موقع پر بھی ایسے عناصر متحرک دکھائی دیے تھے، بار بار گروہوں کی صورت میں اسلام آباد کی طرف آنے سے دوبارہ ایسے حالات پیدا ہونے کا خدشہ رہتا ہے، جبکہ سیاسی کشیدگی اور احتجاجی سرگرمیوں کا اثر ملکی معیشت اور معاشی استحکام پر بھی پڑتا ہے۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ جلاؤ گھیراؤ اور تشدد پر مبنی سرگرمیاں قانون کے دائرے میں قابلِ گرفت ہیں اور ریاستی اداروں اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ایسے واقعات کی تحقیقات کرکے ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جائے، سیاسی اختلافات جمہوری عمل کا حصہ ہیں، تاہم ریاست کی سلامتی اور قومی مفاد پر سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔
ملک محمد احمد خان نے ماضی میں سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے ہونے والے رابطوں اور ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوششیں بھی کی گئیں۔ ان کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائش گاہ پر بھی گئے تھے، تاہم بعد میں اسلام آباد میں احتجاج اور سیاسی کشیدگی کے واقعات دوبارہ سامنے آئے۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ بھی اگر کوئی گروہ اسلام آباد آکر دباؤ ڈالنے یا افراتفری پیدا کرنے کی کوشش کرے گا تو ریاستی اداروں کو قانون کے مطابق صورتحال سے نمٹنا ہوگا۔ ان کے مطابق ملک کو موجودہ چیلنجز سے نکالنے کے لیے سیاسی قوتوں کو باہمی اختلافات کے باوجود قومی مفاد میں مشترکہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
ملک احمد خان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی کشیدگی، احتجاجی سرگرمیوں اور مذاکرات کے امکانات پر بحث جاری ہے۔ حالیہ سیاسی رابطوں میں مختلف جماعتوں کی جانب سے بات چیت اور مشاورت کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی نے اپنے مؤقف میں سیاسی اختلافات کو آئینی اور جمہوری دائرے میں رکھنے اور ریاستی معاملات کو قانون کے مطابق آگے بڑھانے پر زور دیا، جبکہ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے استحکام اور معاشی سرگرمیوں کے لیے امن و امان کا برقرار رہنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔







