فرانسیسی میڈیا کے مطابق احتجاج شروع ہونے کے بعد اب تک تقریباً 2 ہزار افراد گرفتار کیے جاچکے ہیں، جب کہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ احتجاج کے بڑھتے ہوئے دائرے کے باعث جمعے کو فرانس بھر میں 400 سے زائد اسکول اور دیگر تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق فرانس کے وزیر تعلیم ایڈوارڈ گفری نے بتایا کہ جمعے کو ملک بھر میں 400 سے کچھ زیادہ اسکول اور دیگر تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔ یہ احتجاج گزشتہ ماہ پیرس کے علاقے سے شروع ہوا تھا، تاہم اب ملک کے مختلف حصوں تک پھیل چکا ہے اور بعض مقامات پر صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔
جمعرات کو مظاہرین نے کم از کم دو ہائی اسکولوں میں آگ لگادی۔ جنوبی شہر مارسی میں ایک اسکول کے باہر ایک طالب علم کی جانب سے کچرے کے ڈبے میں پٹرول ڈالنے کی کوشش کے دوران چند اساتذہ بھی پٹرول کے چھینٹوں کی زد میں آگئے۔
مشرقی شہر اسٹراسبرگ میں ایک گاڑی کو آگ لگادی گئی، جب کہ جنوب مغربی شہر تولوز میں پولیس اور نوجوانوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
مارسی میں صورتحال اُس وقت مزید کشیدہ ہوگئی جب ایک اسکول میں لگی آگ بجھانے کے لیے پہنچنے والی فائر بریگیڈ کی گاڑی کو سینکڑوں نوجوانوں نے گھیر لیا۔ حکام کے مطابق فائر فائٹرز کو وہاں سے پیچھے ہٹنا پڑا۔ مختلف شہروں میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے کارروائی کی، جس کے دوران مزید جھڑپیں ہوئیں۔
احتجاج کے مطالبات کیا ہیں؟
فرانس میں طلبہ کا احتجاج بنیادی طور پر اسکولوں میں اساتذہ کی کمی، کلاس رومز میں گنجائش سے زیادہ طلبہ، طویل اوقاتِ کار، خستہ حال عمارتوں اور تعلیمی سہولتوں کی کمی کے خلاف شروع ہوا تھا۔ طلبہ اور تعلیمی حلقوں کی جانب سے حکومت سے اسکولوں کے حالات بہتر بنانے اور تعلیمی نظام کے لیے مزید وسائل فراہم کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔
فرانسیسی حکومت نے طلبہ کے ان بنیادی مطالبات کو تسلیم کیا ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ احتجاج کے دوران بعض مقامات پر تشدد، آتش زنی اور املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات نے صورتحال کو امن و امان کے مسئلے میں تبدیل کردیا ہے۔
وزیر انصاف کا سخت ردعمل
فرانس کے وزیر انصاف جیرالڈ درماناں نے کہا ہے کہ احتجاج میں ایک فعال اور پرتشدد اقلیت بھی شامل ہے۔ ان کے مطابق حکام کو مکمل یقین نہیں کہ اس گروہ میں شامل تمام افراد ہائی اسکول کے طالب علم ہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب بسوں کو نشانہ بنایا جائے اور اسکولوں کو آگ لگائی جائے تو صورتحال محض طلبہ کے احتجاج تک محدود نہیں رہتی بلکہ امن و امان کا مسئلہ بن جاتی ہے۔
درماناں کے مطابق احتجاج شروع ہونے کے بعد سے تقریباً 2 ہزار افراد گرفتار کیے جاچکے ہیں، جن میں سے بڑی تعداد کو پولیس کی تحویل میں رکھا گیا ہے۔ فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ مظاہروں میں تشدد اور املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات نے احتجاج کے بنیادی تعلیمی مطالبات سے ہٹ کر امن و امان کے مسائل پیدا کیے ہیں۔
دوسری جانب فرانسیسی حکام نے احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائیوں سے متعلق سامنے آنے والی شکایات کی تحقیقات بھی شروع کی ہیں۔ بعض طلبہ اور دیگر افراد نے پولیس پر ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔
400 سے زائد تعلیمی ادارے بند
فرانس کے وزیر تعلیم ایڈوارڈ گفری کے مطابق جمعے کو 400 سے زائد تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بعض اسکولوں میں آگ سے متعلق حفاظتی نظام کو نقصان پہنچا ہے جبکہ بعض مقامات پر تعلیمی عملے کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث طلبہ کو اسکول بلانا محفوظ نہیں سمجھا گیا۔ وزارت تعلیم نے بعض مقامات پر طلبہ کی کلاسز آن لائن جاری رکھنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
احتجاج ایسے وقت میں شدت اختیار کر رہا ہے جب حکومت کو ایک طرف تعلیمی نظام سے متعلق طلبہ اور اساتذہ کی شکایات کا سامنا ہے اور دوسری جانب مظاہروں کے دوران سامنے آنے والے تشدد اور املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات سے نمٹنا پڑ رہا ہے۔
دوسری جانب فرانس میں احتجاج کے اثرات پڑوسی ملک بیلجیم تک بھی پہنچنے لگے ہیں۔ بیلجیم کے شہر لیئژ میں بعض ہائی اسکول کے طلبہ نے جمعرات کو احتجاج شروع کیا۔
مقامی میڈیا کے مطابق حکام نے جمعے کو شہر کے تمام اسکول بند رکھنے کا اعلان کیا، تاہم میونسپلٹی کے ترجمان نے فوری طور پر ان بندشوں کی تصدیق نہیں کی۔
فرانس میں جاری طلبہ کا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل چکا ہے اور حکام کے لیے تعلیمی مطالبات، اسکولوں کی بندش اور امن و امان کی صورتحال کے درمیان توازن برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔







