اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، جس کا موضوع "دہشتگردی کی کارروائیوں سے بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق خطرات" تھا، اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مشن کے ناظم الامور سن لی نے کہا کہ افغانستان میں موجود دہشتگرد تنظیمیں اب بھی خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بنی ہوئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شدت پسند تنظیم داعش خراسان (IS-K) مسلسل اپنی صلاحیت اور سرحد پار حملوں کی استعداد میں اضافہ کر رہی ہے، جس کے باعث علاقائی اور عالمی سلامتی کو نئے چیلنجز درپیش ہیں۔
چینی مندوب نے افغانستان کی موجودہ انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ دہشتگردی کے خاتمے سے متعلق اپنے وعدوں پر مکمل عمل درآمد کرے اور ملک میں موجود تمام دہشتگرد گروہوں کے خلاف مؤثر اور بلاامتیاز کارروائی کرے، اس میں وہ تنظیمیں اور افراد بھی شامل ہونے چاہییں جو سلامتی کونسل کی قرارداد 1267 کے تحت پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔
سن لی نے کہا کہ افغانستان کو دوبارہ عالمی دہشتگرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ بننے سے روکنا عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے، صرف عسکری اقدامات ہی کافی نہیں بلکہ افغانستان کی معاشی بحالی، روزگار کے مواقع اور عوام کے معیار زندگی میں بہتری کے لیے بھی بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین وسطی ایشیائی ممالک، شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) اور افغانستان کے درمیان انسداد دہشتگردی کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی حمایت کرتا ہے تاکہ سرحد پار خطرات کا مشترکہ طور پر مقابلہ کیا جا سکے۔
جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر تشویش
چینی مندوب نے خبردار کیا کہ دہشتگرد تنظیمیں انٹرنیٹ، مصنوعی ذہانت (AI)، ڈرونز اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز کو پروپیگنڈا، بھرتی، مالی معاونت اور دہشتگرد کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہی ہیں، جس سے عالمی انسداد دہشتگردی کی حکمت عملی کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر ضابطہ کار، قانونی نگرانی اور خطرات کے بہتر تجزیے کے لیے مشترکہ اقدامات کرے، جبکہ ترقی پذیر ممالک کو تکنیکی معاونت، جدید آلات، تربیت اور انٹیلی جنس کے تبادلے کے ذریعے مزید مضبوط بنایا جائے۔
بی ایل اے پر عالمی پابندیوں کا مطالبہ
سن لی نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ قرارداد 1267 اور 2713 کے تحت موجود پابندیوں کے نظام کو مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کے مجید بریگیڈ ونگ کو جلد از جلد عالمی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا جائے تاکہ دہشتگردی کے خلاف بین الاقوامی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
پاکستان میں حملے کی مذمت
چینی مندوب نے پاکستان میں حالیہ خودکش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا کہ اس واقعے میں متعدد شہری جان کی بازی ہار گئے جبکہ کئی زخمی ہوئے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کی بھرپور حمایت کرے۔
عالمی تعاون کی ضرورت پر زور
اپنے خطاب کے اختتام پر سن لی نے کہا کہ دہشتگردی کا عالمی خطرہ بدستور موجود ہے اور مختلف شدت پسند تنظیمیں علاقائی تنازعات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے اثر و رسوخ میں اضافہ کر رہی ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ دہشتگردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اختیار کی جائے، اس مسئلے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے گریز کیا جائے اور عالمی سطح پر مربوط تعاون کے ذریعے بین الاقوامی امن و سلامتی کو یقینی بنایا جائے۔







