ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی محسن نقوی کے دورے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی وزیر داخلہ کا دورہ بنیادی طور پر دوطرفہ تعلقات اور دونوں ممالک کے درمیان قیادت کی سطح پر طے پانے والے معاملات پر پیش رفت سے متعلق ہے۔
محسن نقوی اپنے دورے کے دوران ایرانی حکام سے ملاقاتیں کریں گے، جن میں باہمی دلچسپی کے امور کے علاوہ پاک ایران تعلقات، سرحدی معاملات، سیکیورٹی تعاون اور خطے میں ہونے والی تازہ پیش رفت پر بھی بات چیت کا امکان ہے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے اور امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے باعث خطے کی صورتحال مسلسل تبدیل ہورہی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطوں اور ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے مختلف ممالک کی جانب سے کوششیں بھی جاری ہیں۔
پاکستان اس سے قبل بھی امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور سفارتی رابطوں کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ تاہم ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ محسن نقوی کے موجودہ دورے کے حوالے سے اسے کسی مخصوص امریکی پیغام یا تجویز کے بارے میں معلومات نہیں ہیں اور دورے کا بنیادی دائرہ پاکستان اور ایران کے دوطرفہ معاملات ہیں۔
ملاقاتوں میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارت، اقتصادی روابط، سرحدی تعاون اور سیکیورٹی سے متعلق امور بھی زیر بحث آنے کا امکان ہے۔ پاکستان اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطوں میں حالیہ عرصے کے دوران تسلسل دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا ہے۔
محسن نقوی اس سے قبل بھی ایران کے متعدد دورے کرچکے ہیں اور ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کرتے رہے ہیں۔ اگست میں بھی انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی تھی، جسے انہوں نے مثبت اور نتیجہ خیز قرار دیا تھا۔
تازہ دورے کی اہمیت اس حوالے سے بھی بڑھ گئی ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے ساتھ آبنائے ہرمز، خلیج اور بحیرہ احمر میں صورتحال بھی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز سے متعلق اپنی شرائط بھی مختلف ذرائع کے ذریعے امریکا تک پہنچانے کا اعلان کیا ہے۔
محسن نقوی کی ایرانی قیادت سے ملاقاتوں میں خطے میں امن و استحکام، باہمی تعاون اور موجودہ صورتحال سے پیدا ہونے والے چیلنجز پر پاکستان کے مؤقف سے بھی آگاہ کیے جانے کا امکان ہے۔ دورے کے نتائج اور ملاقاتوں کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد پاک ایران تعلقات اور علاقائی صورتحال کے حوالے سے مزید پیش رفت واضح ہوگی۔







