سکھر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پٹرولیم لیوی کے معاملے پر حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کے پانچ ادوار ہوچکے ہیں، تاہم اب بھی بنیادی مطالبے پر کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آئی، حکومت اگر لیوی ختم کرنے کا مؤقف اختیار کرتی ہے تو اسے یہ بھی بتانا ہوگا کہ اس مد میں حاصل ہونے والی رقم کا متبادل کیا ہوگا۔

امیر جماعت اسلامی نے دعویٰ کیا کہ پٹرولیم لیوی کے ذریعے عوام پر تقریباً 135 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈالا گیا ہے، پہلے ہی مہنگائی نے عام شہری کی مشکلات میں اضافہ کر رکھا ہے، ایسے میں پیٹرولیم مصنوعات پر مزید مالی بوجھ عوام کے لیے مشکلات بڑھا رہا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی کا احتجاج اور مارچ کسی ایک طبقے یا علاقے تک محدود نہیں بلکہ ملک بھر کے عوام کو معاشی ریلیف دلانے کے لیے ہے، احتجاجی تحریک کے تحت مارچ کا پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل کرلیا گیا ہے اور آئندہ مراحل بھی عوامی مطالبات کے حصول کے لیے جاری رکھے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی کے باعث عام آدمی کے لیے گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہوگیا ہے، جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست ٹرانسپورٹ، اشیائے ضروریہ اور دیگر روزمرہ اخراجات کو متاثر کرتا ہے۔

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ حکومت کو عوام کو ریلیف دینے کے لیے ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جن کا براہ راست فائدہ عام شہری تک پہنچے، پٹرولیم لیوی کے خاتمے سے عوام پر موجود مالی دباؤ کم کیا جاسکتا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی کی تحریک کا مقصد جلاؤ گھیراؤ یا تشدد نہیں ہے، احتجاج جمہوری اور آئینی حق ہے اور جماعت اسلامی اپنے مطالبات کے حصول کے لیے پرامن طریقہ اختیار کرے گی۔

انہوں نے معاشی پالیسیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شرح سود میں مزید کمی سے کاروباری سرگرمیوں اور معیشت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے، کم شرح سود سے سرمایہ کاری کے مواقع بڑھنے اور کاروباری طبقے کو سہولت ملنے کی توقع کی جاسکتی ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے حکومت پر زور دیا کہ عوام کی مشکلات کو محض اعداد و شمار کے بجائے زمینی حقائق کی بنیاد پر دیکھا جائے، مہنگائی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اور دیگر معاشی بوجھ براہ راست عام شہری کے بجٹ کو متاثر کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی حکومت سے مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم اگر عوامی مطالبات پر پیش رفت نہ ہوئی تو احتجاجی تحریک کے آئندہ مراحل کا فیصلہ کیا جائے گا۔

حافظ نعیم الرحمان کے مطابق جماعت اسلامی کا مطالبہ واضح ہے کہ عوام پر عائد غیر ضروری مالی بوجھ کم کیا جائے اور پٹرولیم لیوی کے خاتمے سمیت مہنگائی میں کمی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، تحریک کا مقصد عوام کو معاشی ریلیف دلانا اور ان کے مسائل کو اجاگر کرنا ہے۔