امریکی صدر نے ایک ٹی وی انٹرویو میں ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے پاس تہران کے حوالے سے کئی آپشنز موجود ہیں، ایران یا تو معاہدے کی طرف آئے، یا پھر اسے مزید شدید معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ فوجی کارروائی کا راستہ بھی زیرِ غور ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ تہران کو اپنا طرزِ عمل تبدیل کرنا ہوگا۔ ان کے بیانات میں ایک طرف ایران کے خلاف مزید سخت کارروائی کا عندیہ دیا گیا ہے تو دوسری جانب مذاکرات اور معاہدے کے امکان کو بھی مکمل طور پر مسترد نہیں کیا گیا۔
امریکی صدر نے کہا کہ وہ ایران کے معاملے پر ’فیصلہ کرنے کی پوزیشن‘ میں ہیں اور آنے والے دنوں میں بڑی پیش رفت ہوسکتی ہے۔ اس سے قبل بھی ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایران کے خلاف جنگ کو ختم کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر حملوں کی بحالی سے متعلق اہم فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔
ٹرمپ نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ممکنہ ملاقات کا اشارہ بھی دیا ہے، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نیویارک میں ایرانی صدر سے ملاقات کے لیے وہ آمادگی ظاہر کرسکتے ہیں۔ مسعود پزشکیان اس ہفتے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچنے والے ہیں۔
دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے ساتھ خطے میں صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی ہے۔ ایران نے کسی نئی امریکی کارروائی کی صورت میں سخت جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے، جبکہ تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی صورتحال کو بھی جنگ کے وسیع تر تناظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کا اثر خطے کے دیگر ممالک پر بھی پڑ رہا ہے۔ یمن میں حوثی حملوں، سعودی عرب میں میزائل اور ڈرون حملوں اور بحیرہ احمر و آبنائے باب المندب میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
ادھر عالمی منڈیوں میں بھی مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے اثرات نمایاں ہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے اور وہاں جہاز رانی میں رکاوٹ سے تیل اور گیس کی عالمی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد میں بھی نمایاں کمی رپورٹ ہوئی ہے۔
ایرانی حکام کی جانب سے بھی امریکا کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے لیے شرائط سامنے لانے کا سلسلہ جاری ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان بنیادی اختلافات بدستور برقرار ہیں۔ ایسے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس دونوں ملکوں کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ سفارتی رابطوں کے لیے اہم موقع بن سکتا ہے۔
امریکی صدر کے تازہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب دنیا کی نظریں واشنگٹن اور تہران کے اگلے اقدام پر مرکوز ہیں۔ ٹرمپ کی جانب سے فوجی کارروائی، معاشی دباؤ اور معاہدے سمیت مختلف راستوں کا ذکر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران کے معاملے پر امریکی پالیسی کے اگلے مرحلے سے متعلق فیصلہ اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ امریکا حتمی طور پر کون سا راستہ اختیار کرے گا۔







