ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی اعلیٰ سطح کی کمیٹی کے ایک اجلاس میں محمود خان اچکزئی سے قائد حزب اختلاف کے عہدے سے مستعفی ہونے کا مطالبہ زیر بحث آیا تھا۔ یہ اجلاس ہفتے کی شام شروع ہوا اور آدھی رات تک جاری رہا۔ تاہم، محمود اچکزئی نے اس مبینہ مطالبے کو تسلیم کرنے کے بجائے اپنے مستقبل کے فیصلے کو بانی پی ٹی آئی کی ہدایت سے مشروط کردیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق محمود خان اچکزئی نے اتوار کی شب اپنی تحریک بحالی آئین سے وابستہ ساتھیوں کے ساتھ اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر اڈیالہ جیل میں قید وہ شخصیت، جس نے انہیں قائد حزب اختلاف نامزد کیا تھا، خود عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کرے گی تو وہ مستعفی ہوجائیں گے۔ ان کے اس مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے عہدے کے حوالے سے حتمی فیصلہ بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر کرنا چاہتے ہیں۔

محمود خان اچکزئی بلوچستان سے تعلق رکھنے والی پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ ہیں اور قومی اسمبلی میں اپنی جماعت کے واحد رکن پارلیمنٹ ہیں۔ انہیں رواں سال جنوری میں قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے قائد حزب اختلاف مقرر کیا تھا۔ اس عہدے کے لیے ان کی نامزدگی بانی پی ٹی آئی کی جانب سے کی گئی تھی۔

قائد حزب اختلاف کی تقرری سے قبل محمود اچکزئی کی اہلیت اور نامزدگی کے معاملے پر طویل بحث جاری رہی۔ بعد ازاں اسپیکر قومی اسمبلی نے متعلقہ معاملے کا جائزہ لینے کے بعد انہیں باضابطہ طور پر اپوزیشن لیڈر مقرر کردیا۔ اس طرح وہ قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی نمائندگی کرنے والے اہم پارلیمانی رہنماؤں میں شامل ہوگئے۔

سیاسی حلقوں میں محمود اچکزئی کے عہدے سے متعلق بحث ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان تحریک انصاف اور اس سے وابستہ سیاسی رہنماؤں کے درمیان حکمت عملی اور احتجاجی سرگرمیوں کے حوالے سے اختلافات کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ تاہم، پی ٹی آئی کی اعلیٰ سطح کی کمیٹی میں استعفے کے مبینہ مطالبے اور اس کے پس منظر سے متعلق تمام تفصیلات باضابطہ طور پر سامنے نہیں آئیں۔

دوسری جانب، محمود خان اچکزئی گزشتہ ہفتے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کی جانب سے کیے گئے لانگ مارچ میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ مذکورہ مارچ اور اس کے سیاسی اثرات کے حوالے سے مختلف حلقوں میں بحث جاری رہی، جبکہ فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق اسی عرصے میں خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی تقریباً 13 سالہ حکومت کے خاتمے کا معاملہ بھی سیاسی منظرنامے کا اہم حصہ بنا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ کے انعقاد اور اس کی منزل کے تعین پر پی ٹی آئی سے وابستہ قومی اسمبلی کے آزاد ارکان کے درمیان اختلافات موجود تھے۔ ان اختلافات نے پارٹی کی احتجاجی حکمت عملی اور آئندہ سیاسی لائحہ عمل کے حوالے سے سوالات کو جنم دیا ہے۔

محمود خان اچکزئی کے تازہ مؤقف کے بعد اپوزیشن قیادت سے متعلق معاملہ مزید توجہ حاصل کرگیا ہے۔ فی الحال ان کی جانب سے عہدہ چھوڑنے کا کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا، جبکہ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس بارے میں حتمی قدم بانی پی ٹی آئی کی ہدایت کے مطابق اٹھائیں گے