پنجاب حکومت کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے شروع کی گئی لائیو اسٹاک کارڈ اسکیم کے تحت مویشی پالنے والے کسانوں کو جانوروں کے چارے اور خوراک کے اخراجات پورے کرنے کے لیے فی جانور 27 ہزار روپے فراہم کیے جا رہے ہیں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ لائیو اسٹاک کارڈ اسکیم کے تحت اب تک مجموعی طور پر ایک لاکھ 29 ہزار 581 جانور برآمد کیے جاچکے ہیں۔

پنجاب حکومت نے مویشیوں میں منہ اور کھر کی بیماری (ایف ایم ڈی) سے پاک 8 کمپارٹمنٹس بھی قائم کیے ہیں جبکہ چین، یورپ اور امریکا کو جانوروں کی برآمدات میں سہولت فراہم کرنے کے لیے رواں سال مزید 7 کمپارٹمنٹس قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔

حکومت کے مطابق صوبے میں گوشت کی ویلیو چین کو فروغ دینے کے لیے 5 گوشت پروسیسنگ پلانٹس اور 5 جدید ذبیحہ خانے قائم کیے جائیں گے، جبکہ گوشت کی پیکنگ کی سہولیات اور تجارتی و کارپوریٹ سطح پر جانوروں کو موٹا کرنے کے مراکز بھی قائم کیے جائیں گے۔

اعلامیے کے مطابق حکومت مربوط لائیو اسٹاک ویلیو چین میں سرمایہ کاری کے لیے 19 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کرے گی جبکہ گوشت کی ویلیو چین میں 65 ارب روپے کی نجی سرمایہ کاری متوقع ہے۔

پنجاب حکومت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت منہ اور کھر کی بیماری کے خلاف ویکسین تیار کرنے والا صوبے کا پہلا یونٹ بھی قائم کرے گی، جس میں 28 ارب روپے کی نجی سرمایہ کاری شامل ہوگی۔

حکومت کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق لاہور سے 20 ہزار، بہاولپور سے 24 ہزار 297، فیصل آباد سے 12 ہزار 529، گوجرانوالہ اور گجرات سے 21 ہزار، ملتان سے 27 ہزار، سرگودھا سے 22 ہزار جبکہ ساہیوال سے 2 ہزار 661 جانور برآمد کیے گئے۔

اعلامیے کے مطابق ’لائیو اسٹاک کنیکٹ‘ سسٹم کے تحت حکومت نے ایک ہزار 725 جانوروں کو موٹا کرنے والے فارمز، 20 برآمدی ذبیحہ خانوں، 88 گوشت برآمد کنندگان اور 34 گوشت کے تاجروں کے ساتھ براہ راست روابط قائم کیے ہیں۔

پنجاب لائیو اسٹاک کارڈ اسکیم کے تحت رجسٹرڈ دیہی خواتین مویشی پالنے والوں کی تعداد بھی 90 سے بڑھ کر ایک ہزار 107 ہوگئی ہے۔

دوسری جانب پنجاب کے سیکرٹری لائیو اسٹاک احمد عزیز تارڑ نے مویشیوں میں بیماری کے پھیلاؤ سے متعلق معلومات چھپانے یا رپورٹنگ میں تاخیر کرنے والے اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔

ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سیکرٹری لائیو اسٹاک نے صوبے میں منہ اور کھر کی بیماری کے پھیلاؤ، دستیاب ویکسین کے ذخیرے اور بیماری پر قابو پانے کے لیے جاری اقدامات کا جائزہ لیا۔

انہوں نے فیلڈ افسران اور محکمہ لائیو اسٹاک کے ڈائریکٹرز کو ہدایت کی کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر ہر ضلع اور تحصیل کی سطح پر ایف ایم ڈی ویکسین کی وافر دستیابی یقینی بنائی جائے۔

احمد عزیز تارڑ نے متعلقہ حکام کو معیاری آپریٹنگ طریقہ کار پر سختی سے عمل درآمد کرنے، بیماری کی بروقت اور حقیقی وقت میں رپورٹنگ کے لیے اے ڈی آر ایس انفو ایپ استعمال کرنے اور متاثرہ علاقوں کے گرد ٹارگٹڈ رنگ ویکسینیشن یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔

محکمہ لائیو اسٹاک کے مطابق ان اقدامات کا مقصد صوبے میں مویشیوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھنا، جانوروں اور گوشت کی برآمدات میں اضافہ کرنا اور لائیو اسٹاک کے شعبے سے وابستہ کسانوں کی آمدنی میں بہتری لانا ہے۔