چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق یتیم خانے میں مقیم بچوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے اور ان کے اہلِ خانہ تک پہنچانے کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے۔ اس کارروائی کے دوران 16 بچوں کو شیلٹر ہوم میں منتقل کیا گیا، جہاں ان کی دیکھ بھال اور ضروری سہولیات کی فراہمی کا انتظام کیا جائے گا، جبکہ دیگر بچوں کو ان کے رشتہ داروں کے سپرد کردیا گیا ہے۔

بیورو کے مطابق بچوں کی منتقلی کے بعد یتیم خانے کے زیرِ استعمال دونوں عمارتیں بھی خالی کرالی گئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ متعلقہ اداروں نے یتیم خانے کی رجسٹریشن کے معاملے کا جائزہ لیا تھا، تاہم اس کی رجسٹریشن کی درخواست پہلے ہی مسترد کی جاچکی تھی۔

چائلڈ پروٹیکشن بیورو نے مزید بتایا کہ یتیم خانہ چلانے والی غیر سرکاری تنظیم (این جی او) کی رجسٹریشن بھی منسوخ کردی گئی ہے۔ اس اقدام کے بعد ادارے کے انتظامی اور قانونی معاملات بھی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔

یہ کارروائی 15 سالہ وسیم عباس کی گاڑی تلے کچلے جانے سے ہلاکت کے واقعے کے بعد سامنے آئی ہے۔ واقعے کے بعد یتیم خانے کے انتظامات اور اس کی قانونی حیثیت سے متعلق کارروائی کی گئی، جس کے نتیجے میں وہاں رہائش پذیر بچوں کو متبادل انتظامات کے تحت منتقل کیا گیا۔

بچوں کی منتقلی کے بعد ان کی دیکھ بھال، تحفظ اور قانونی سرپرستی کے معاملات اہمیت اختیار کرگئے ہیں۔ تاہم فراہم کردہ معلومات میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ غیر رجسٹرڈ یتیم خانے کے منتظمین کے خلاف مزید کیا قانونی کارروائی کی جائے گی یا معاملے کی تحقیقات کے حوالے سے کوئی نیا فیصلہ کیا گیا ہے۔