پاکستان میں ہوتا یہ ہے کہ دو ملزمان پر سنگین الزامات ہیں۔ ایک کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا جاتا ہے، جہاں اس کا جسمانی ریمانڈ لیا جاتا ہے، فرانزک شواہد جمع کیے جاتے ہیں، پراسیکیوٹر مقرر ہوتے ہیں اور ملزم کو اپنے دفاع کا موقع دیا جاتا ہے۔

دوسرا مبینہ طور پر ایک رات پولیس مقابلے میں مارا جاتا ہے اور اس کی موت کی وضاحت پولیس کے بیان تک محدود رہ جاتی ہے۔

مسئلہ یہ نہیں کہ کون قصوروار ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیا ہر ملزم کو انصاف تک پہنچنے کا یکساں حق حاصل ہے؟

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی حکومت نے پنجاب پولیس کے اندر کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ، یعنی سی سی ڈی، قائم کیا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کے ذریعے ڈکیتی، راہزنی اور منظم جرائم میں کمی آئی ہے۔ اس دعوے کو اعدادوشمار کی بنیاد پر پرکھنا ضروری ہے، لیکن جرائم میں کمی کا دعویٰ بھی کسی ادارے کو قانون سے بالاتر نہیں کرتا۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی 2025 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں پولیس مقابلوں کے دوران 1,696 مشتبہ افراد ہلاک ہوئے، جن میں سے 977 ہلاکتیں پنجاب میں رپورٹ ہوئیں۔ ان میں سی سی ڈی کے 707 مقابلے شامل تھے۔ یہ اعدادوشمار ہر پولیس مقابلے کو غیر قانونی ثابت نہیں کرتے، تاہم ان کی شفاف اور آزادانہ تحقیقات کی ضرورت ضرور اجاگر کرتے ہیں۔

حالیہ واقعات میں 15 سالہ وسیم عباس کے قتل کے ملزم اور لائبہ اعجاز سے مبینہ فراڈ کرنے والے شخص کی ہلاکت بھی ایسے ہی کیسز کے طور پر سامنے آئی ہے۔ پولیس کے مطابق دونوں اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔

اس کے برعکس، جون 2026 میں لاہور میں دو غیر ملکی خواتین نے اغوا، بھتہ خوری اور جنسی زیادتی کے الزامات عائد کیے۔ مرکزی ملزم رضا ڈار کے بارے میں میڈیا رپورٹس میں انہیں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا رشتہ دار بتایا گیا۔

اس کیس میں پولیس نے خواتین کو بازیاب کرایا، ملزمان کو عدالت میں پیش کیا، جسمانی ریمانڈ حاصل کیا اور ڈی این اے کے نمونے لیے۔ تاہم پولیس کے اپنے ثبوت ناکافی ہونے کے باعث ملزم پر جرم ثابت نہ ہوسکا۔

یہاں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے ایک بنیادی سوال بنتا ہے کہ اگر باقاعدہ تفتیش، فرانزک شواہد اور عدالتی کارروائی سنگین الزامات کا سامنا کرنے والے ملزم کے لیے ضروری ہیں تو یہی اصول ہر شہری کے لیے کیوں نہ ہوں؟

وزیراعلیٰ پنجاب اکثر نوجوانوں کے لیے اپنی سرپرستی اور تحفظ کی بات کرتی ہیں، لیکن نوجوانوں کے تحفظ کا دعویٰ اس وقت عملی معنی رکھتا ہے جب حکومت یہ بھی یقینی بنائے کہ پولیس کی کارروائی میں کسی شہری کی جان قانون اور شواہد کی مکمل جانچ کے بغیر نہ لی جائے۔

سوال یہ ہے کہ کیا سی سی ڈی کا احتساب بھی اسی سنجیدگی سے ہوگا جس سنجیدگی سے عام شہریوں سے قانون کی پابندی کا مطالبہ کیا جاتا ہے؟ اور کیا پولیس مقابلوں میں ہونے والی ہلاکتوں کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جائے گا؟