وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے انڈیا کا مقابلہ کیا اور اسے ایسا سبق سکھایا جو وہ کبھی نہیں بھولے گا۔
انہوں نے کہا کہ رواں سال فروری میں خلیجی خطے اور وسیع تر مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث قیمتی جانوں کا نقصان ہوا، معیشتیں متاثر ہوئیں اور اہم بحری گزر گاہیں، خصوصاً آبنائے ہرمز، شدید دباؤ کا شکار رہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں پاکستان نے فوری اپنا کردار ادا کیا اور سفارتی کوششوں کے ذریعے واشنگٹن اور تہران کو اسلام آباد میں مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیابی حاصل کی۔
وزیراعظم کے مطابق اسلام آباد مذاکرات اور بعد ازاں طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے ذریعے تنازع کے خاتمے کے لیے کئی اہم اور تاریخی اقدامات کیے گئے۔
شہباز شریف نے اس موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انتہائی مشکل اور چیلنجنگ حالات میں ان کی مسلسل کاوشوں نے سفارت کاری کے لیے مواقع پیدا کیے۔
وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ افسوس کے ساتھ حالیہ دنوں میں کشیدگی میں ایک بار پھر خطرناک اضافہ دیکھا گیا ہے، تاہم میزائلوں، ڈرونز اور ہتھیاروں کی گھن گرج کے درمیان سفارت کاری اور مذاکرات کی آواز پہلے سے زیادہ مضبوط انداز میں بلند ہونی چاہیے۔
اپنے خطاب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب کو کھلا رہنا چاہیے، انہیں تنازع کا چوک پوائنٹ نہیں بننا چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا کہ مکہ کے مقدس شہر پر ڈرون حملے نے دنیا بھر میں مسلمانوں کو غم و غصے میں مبتلا کیا، حرمین شریفین پر حملہ ریڈ لائن ہے اور پاکستان سعودی عرب کے برادر عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔
جنرل اسمبلی سے خطاب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مکہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں، یہ خطے میں دفاع اور امن کے لیے مشترکہ کوشش ہے۔
معرکہ حق کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انڈیا نے جھوٹا بہانہ بنا کر پاکستان پر حملہ کیا اور پاکستان نے اقوام متحدہ کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنا دفاع کیا۔ پاکستان نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں انڈیا کا مقابلہ کیا اور اسے وہ سبق سکھایا جو وہ کبھی نہیں بھولے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی قیادت کے باعث جنوبی ایشیا کے لاکھوں عوام کی جانیں بچ گئیں، دو ایٹمی پڑوسی ملک کھلی جنگ کے دہانے پر تھے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ جنوبی ایشیا دوبارہ اس صورت حال پر نہ پہنچے، اس کے لیے یہ یقینی بنانا ہوگا کہ مسئلہ کشمیر حل ہو جائے۔
اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کے تحت کشمیر میں استصوابِ رائے ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق کشمیر میں اجتماعی سزا دی جا رہی ہے اور کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
سندھ طاس معاہدے کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انڈیا نے سندھ طاس معاہدہ یک طرفہ طور پر ختم کیا، اس اقدام کی کوئی حیثیت نہیں۔ ان کے مطابق اس فیصلے کو اقوام متحدہ اور مصالحتی عدالت نے مسترد کردیا۔
خطاب کے دوران شہباز شریف نے فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کا بھی تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں پیدا ہونے والے بچوں کو بھی باقی دنیا کے بچوں جیسے حقوق ملنے چاہییں اور سوال اٹھایا کہ کیا غزہ کے بچوں کا وہ حق نہیں جو دوسرے بچوں کا ہے؟
وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیلی مظالم اب مغربی پٹی تک بھی پھیل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزاد فلسطین اور القدس شریف کو اس کا دارالخلافہ بنانا ہی واحد حل ہے۔ شہباز شریف نے لبنان اور شام میں اسرائیلی مظالم کی بھی مذمت کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے اپنے پہاڑوں اور شہروں میں دہشت گردی کا سامنا کیا ہے اور آج پاکستانی فوج کی قربانیوں سے دنیا محفوظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن پسند دنیا اس حقیقت کو فراموش نہ کرے۔
شہباز شریف نے کہا کہ فتنہ الہندوستان اور خوارج افغانستان سے آپریٹ ہورہے ہیں اور یقینی بنایا جائے کہ افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔
وزیراعظم نے اسلاموفوبیا کے واقعات میں تیزی کو پریشان کن قرار دیا اور کہا کہ ہندوتوا نظریہ مذہبی منافرت بڑھا رہا ہے۔ انہوں نے سہارن پور واقعے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ دنیا میں کہیں مذہبی منافرت کو جگہ نہیں ملنی چاہیے۔
شہباز شریف نے چینی صدر شی جن پنگ کی کاوشوں کی بھی تعریف کی اور کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو قرضوں میں ریلیف کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اعتماد اس وقت ہوگا جب دریا تنازعات کے لیے نہیں بل کہ سیرابی کے لیے بہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کبھی بہادری جنگ شروع کرنے میں نہیں بل کہ جنگ روکنے میں ہوتی ہے۔ شہباز شریف نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ آئیں اعتماد بحال کریں، آئیں امن قائم کریں۔







