رپورٹس کے مطابق ڈیرہ غازی خان پولیس سے تعلق رکھنے والے کانسٹیبل ذوالفقار علی کو امن و امان کی ڈیوٹی کے لیے تقریباً 700 کلومیٹر دور ڈیرہ غازی خان سے حسن ابدال پہنچایا گیا تھا۔ وہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے درمیان سرحدی مقام اٹک پل پر تعینات تھے، جہاں ممکنہ مظاہرین اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد موجود ہے۔

ذرائع کے مطابق ڈیوٹی کے دوران ذوالفقار علی کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی اور انہیں دل کا شدید دورہ پڑا۔ انہیں تشویشناک حالت میں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے۔

دوسری جانب ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں کو درپیش سہولیات کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اہلکاروں کو کھانے کے لیے محدود سہولیات دستیاب ہیں اور انہیں ایک تقریباً 150 روپے کے بریانی کے ڈبے پر گزارا کرنا پڑ رہا ہے، جب کہ واش رومز کی کمی اور مناسب آرام کے لیے وقت نہ ملنے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض پولیس اہلکار مچھروں سے بھرے کمروں میں رہنے پر مجبور ہیں اور انہیں آرام کے لیے مناسب سہولیات دستیاب نہیں، جبکہ افسران کے لیے نسبتاً بہتر رہائش اور ایئر کنڈیشنڈ کمروں کی سہولت موجود ہے۔

پولیس اہلکاروں کی طویل فاصلے سے تعیناتی، مسلسل ڈیوٹی، رہائش، کھانے اور بنیادی سہولیات کی صورتحال کے حوالے سے متعلقہ حکام سے مؤثر انتظامات یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔