امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے گزشتہ روز لاہور میں جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے 16 اگست کے دھرنوں کے حوالے سے تفصیلات بتائیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ آج بیک وقت چاروں صوبوں میں دھرنے دیے جائیں گے۔ پنجاب میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر، جب کہ سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں گورنر ہاؤسز کے باہر احتجاج کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق پیٹرولیم لیوی کی مد میں مقررہ ہدف سے 100 ارب روپے زیادہ وصول کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت عام آدمی کو کچھ نہیں سمجھتی اور اپنی نااہلیوں کا بوجھ عوام پر ڈال رہی ہے۔

جماعت اسلامی کے مطابق لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں احتجاج اور دھرنے سہ پہر ساڑھے تین بجے شروع ہوں گے، جب کہ جماعت کی قیادت اور مظاہرین شام 6 بجے متعلقہ وزرائے اعلیٰ یا گورنر ہاؤسز کے سامنے دھرنا دیں گے۔

لاہور میں کارکنوں کو مسجد شہدا پہنچنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ دوسری جانب کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ ہاؤس جانے والے راستوں کو سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر عام ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے۔

میٹروپول، پی آئی ڈی سی اور دیگر شاہراہوں پر کنٹینرز لگا دیے گئے ہیں جبکہ اطراف کی سڑکوں پر ٹریفک پولیس اہلکار بھی تعینات کردیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ جماعت اسلامی نے گزشتہ ہفتے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور لیوی میں اضافے کے خلاف ملک بھر میں 500 سے زائد مقامات پر احتجاج کیا تھا۔ جشن آزادی کی تقریبات کے باعث دھرنوں کو مؤخر کرکے 16 اگست کو ملک گیر دھرنے دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔

دوسری جانب جماعت اسلامی کے احتجاج کے پیش نظر صوبائی ہیڈکوارٹرز میں مظاہرین کو روکنے کے لیے سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔