محسن رضائی نے یہ بات آذربائیجان کے نائب وزیراعظم شاہین مصطفیوف سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی، ایران نے اپنی شرائط امریکا تک پہنچا دی ہیں اور اب واشنگٹن کی جانب سے باضابطہ ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

ایرانی عہدیدار کے مطابق امریکی صدر الجھن کی صورتحال سے دوچار ہیں، جس کے باعث امریکا نہ تو مذاکرات کی طرف مؤثر پیش رفت کر پا رہا ہے اور نہ ہی جنگ کے حوالے سے کوئی واضح راستہ اختیار کرسکا ہے۔ محسن رضائی نے دعویٰ کیا کہ اسی صورتحال کے باعث امریکا نے فوجی دباؤ اور فضائی کارروائیوں کا راستہ اختیار کیا ہے۔

محسن رضائی نے مزید کہا کہ ایران قفقاز کے خطے میں امن اور استحکام کے لیے تعاون کرنے کو تیار ہے، ایران خطے میں امن کے قیام کی حمایت کرتا ہے، تاہم ان کے بقول امریکا کا خطے میں مستقل مستقبل نہیں ہے اور ایران امریکی دباؤ کے مقابلے میں اپنی پوزیشن برقرار رکھے گا۔

انہوں نے بتایا کہ ایران کی جانب سے پیش کی گئی سات نکاتی امن تجاویز پر امریکا کے جواب کی توقع منگل کے روز کی جا رہی تھی، تاہم اب تک واشنگٹن کی جانب سے ان تجاویز کو باضابطہ طور پر قبول یا مسترد کرنے کا اعلان سامنے نہیں آیا۔

دوسری جانب امریکا سے ایران واپسی کے موقع پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی واضح کیا کہ تہران کے جوہری پروگرام سے متعلق مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، ایران کی جانب سے پیش کی گئی سات نکاتی تجاویز کا تعلق جوہری پروگرام میں کسی نئی لچک سے نہیں بلکہ آبنائے ہرمز کو کھولنے سے متعلق معاملات سے ہے۔

عباس عراقچی نے اس تاثر کی بھی تردید کی کہ ایران نے اپنے جوہری مؤقف میں کوئی تبدیلی کی ہے، ایران کا جوہری پروگرام اور اس سے متعلق مؤقف اپنی جگہ برقرار ہے، جبکہ آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات کو الگ تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

محسن رضائی نے ملاقات کے دوران یہ بھی کہا کہ ایران نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف اپنی پوری دفاعی صلاحیت استعمال کرتے ہوئے اپنا دفاع کیا ہے، ایران اپنی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے کسی بھی دباؤ کے سامنے اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

ملاقات میں آذربائیجان کے نائب وزیراعظم شاہین مصطفیوف نے اس تاثر کی تردید کی کہ آذربائیجان کی سرزمین ایران کے خلاف کسی کارروائی کے لیے استعمال کی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آذربائیجان اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔

ایرانی اور آذری حکام کی ملاقات میں قفقاز کی صورتحال، علاقائی امن اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔ محسن رضائی نے کہا کہ ایران خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے، تاہم موجودہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں تہران اپنی سلامتی کے معاملات پر واضح مؤقف رکھتا ہے۔

ایران کی جانب سے سات نکاتی تجاویز پر امریکی ردعمل کا انتظار ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی، مذاکرات اور آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات خطے کی صورتحال پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔ تاہم واشنگٹن کی جانب سے تجاویز کو قبول یا مسترد کرنے کے حوالے سے حتمی مؤقف سامنے آنے تک آئندہ پیش رفت کے بارے میں واضح صورتحال سامنے نہیں آسکی۔