سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں اور عوام کو ایک مؤقف پر متحد ہونا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اگر تمام سیاسی جماعتیں دہشت گردی کے معاملے پر مل بیٹھنے کے لیے تیار ہیں تو وزیراعظم شہباز شریف آج بھی مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

رانا ثنا اللہ نے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی سیاسی اختلافات کے باوجود بات چیت کی کوششیں کی گئیں۔ حالیہ مذاکرات کے مسودے میں بیشتر امور پر اتفاق ہوگیا تھا، تاہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کے معاملے پر اختلاف سامنے آیا۔

انہوں نے اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس کے وزیراعظم سے ملاقات کے لیے آمادہ نہ ہونے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ سیاسی قیادت کو قومی مسائل کے حل کے لیے بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

رانا ثنا اللہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فوجی اہلکار مسلسل جانیں قربان کر رہے ہیں۔ ایک طرف سکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں تو دوسری طرف سیاسی محاذ آرائی اور اداروں کے خلاف بیانیے سے مسائل مزید پیچیدہ ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی جیسے سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ حکمت عملی اپنانا ضروری ہے۔