گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اس اقدام کی مکمل حمایت کرتا ہے اور ترقی پذیر ممالک کے لیے عملی اور قابلِ عمل نتائج حاصل کرنے کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

شہباز شریف نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں ترقی پذیر ممالک کی معیشتیں موسمیاتی تبدیلی، قدرتی آفات، خوراک کی قیمتوں میں اضافے اور عالمی سطح پر پیدا ہونے والی معاشی و جغرافیائی سیاسی کشیدگی سے متاثر ہو رہی ہیں۔ ایسے میں عالمی برادری کے لیے ضروری ہے کہ ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے۔

وزیراعظم کے مطابق کثیرالجہتی تعاون کے ذریعے ترقی پذیر ممالک کے عوام تک ترقی کے ثمرات پہنچائے جاسکتے ہیں، پاکستان اقوام متحدہ کے 2030 کے پائیدار ترقیاتی ایجنڈے پر عمل درآمد تیز کرنے کے لیے گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کو اہم سمجھتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ عالمی ترقی کے لیے صرف اعلانات کافی نہیں بلکہ ایسے منصوبوں اور اقدامات کی ضرورت ہے جن کے نتائج زمینی سطح پر عوام کی زندگیوں میں بہتری کی صورت میں سامنے آئیں۔ شہباز شریف نے کامیاب ترقیاتی منصوبوں کو وسیع پیمانے پر آگے بڑھانے اور تعاون کے نئے شعبوں کی نشاندہی پر بھی زور دیا۔

وزیراعظم نے پاکستان کے ترقیاتی تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو اور اس کے اہم منصوبے پاک چین اقتصادی راہداری کے ذریعے علاقائی رابطہ کاری، اقتصادی تعاون اور ترقی کے عمل کو آگے بڑھا رہا ہے۔ پاکستان اور چین نے رواں سال بھی اعلیٰ معیار کے بیلٹ اینڈ روڈ تعاون اور سی پیک کے اگلے مرحلے کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ سی پیک کے ذریعے انفرااسٹرکچر، علاقائی رابطہ کاری، صنعتی تعاون اور اقتصادی سرگرمیوں کے نئے مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں، پاکستان 2030 کے ترقیاتی اہداف کی جانب پیش رفت کے لیے تمام شراکت دار ممالک کے ساتھ تعاون مزید مضبوط بنانے کے لیے تیار ہے۔

وزیراعظم نے عالمی ترقی کے لیے اختراعی شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو ٹیکنالوجی، تعلیم، صحت، انفرااسٹرکچر، توانائی اور روزگار کے مواقع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کی ضرورت ہے تاکہ معاشی ترقی کے ثمرات وسیع پیمانے پر عوام تک پہنچ سکیں۔

انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے چیلنجز کے باعث ترقی پذیر ممالک کے لیے پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنا مزید مشکل ہوگیا ہے، اس لیے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی وسائل، ٹیکنالوجی اور مہارتوں کی منتقلی کے ساتھ ساتھ عالمی اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ بھی ضروری ہے۔

شہباز شریف نے گلوبل گورننس انیشیٹو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عالمی حکمرانی کے نظام کو زیادہ نمائندہ، مؤثر اور جامع بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کو اقوام متحدہ کے ترقیاتی ستون کو مزید مضبوط بنانے اور زمینی سطح پر ٹھوس نتائج فراہم کرنے میں معاون ہونا چاہیے۔

وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ترقی پذیر ممالک کی ضروریات اور ترجیحات کو عالمی پالیسی سازی میں زیادہ مؤثر انداز میں شامل کیا جانا چاہیے، عالمی سطح پر پائیدار ترقی کے لیے ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جو مختلف ممالک کے درمیان موجود ترقیاتی خلا کو کم کرسکیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان چین اور گروپ آف فرینڈز کے دیگر رکن ممالک کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنا چاہتا ہے تاکہ مشترکہ ترقی، معاشی خوشحالی اور انسانیت کے مشترکہ مستقبل کے تصور کو آگے بڑھایا جاسکے۔

پاکستان اور چین نے بھی اپنے حالیہ مشترکہ اعلامیے میں گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو سمیت دیگر چینی عالمی اقدامات کی حمایت اور ان پر تعاون جاری رکھنے کا اعادہ کیا ہے، جبکہ دونوں ممالک نے سی پیک کے اعلیٰ معیار کے دوسرے مرحلے، علاقائی رابطہ کاری اور ترقیاتی تعاون کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ عالمی برادری کو ترقی کے عمل میں پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا، مشترکہ کوششوں کے ذریعے نہ صرف معاشی ترقی کے اہداف حاصل کیے جاسکتے ہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی، خوراک کے تحفظ اور دیگر عالمی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت بھی بہتر بنائی جاسکتی ہے۔

شہباز شریف نے عالمی ترقیاتی ایجنڈے پر مؤثر عمل درآمد کے لیے کثیرالجہتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان تمام شراکت دار ممالک کے ساتھ مل کر پائیدار ترقی، علاقائی تعاون اور عالمی سطح پر مشترکہ ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔

پاکستانی حکومت کی جانب سے گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کی حمایت اس وسیع تر مؤقف سے بھی ہم آہنگ ہے جس کے تحت اسلام آباد کثیرالجہتی نظام، اقوام متحدہ کے کردار اور ترقی پذیر ممالک کے لیے زیادہ نمائندہ عالمی حکمرانی کی حمایت کرتا ہے۔