کشنر کے ہمراہ ٹرمپ کے قائم کردہ 'بورڈ آف پیس' کے ڈائریکٹر جنرل اور غزہ کے لیے اعلیٰ نمائندے نکولے ملادینوف اور بورڈ کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن اور برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر بھی ہوں گے۔
بورڈ آف پیس کے ایک عہدیدار نے دورے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفد اسرائیل اور مصر میں متعلقہ فریقوں کے تحفظات سنے گا اور آئندہ کے اقدامات پر بات کرے گا۔
کشنر کے دورے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
خیال رہے کہ کشنر کا دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب غزہ میں جنگ بندی کے مستقبل اور حماس کے ہتھیار ڈالنے کے منصوبے پر امریکا اور اسرائیل کے درمیان اختلافات نمایاں ہوگئے ہیں۔
امریکی حمایت یافتہ 15 نکاتی منصوبے کے تحت حماس کو مرحلہ وار غیر مسلح ہونا اور اپنے ہتھیار ایک فلسطینی فریق کے حوالے کرنا تھے، جب کہ اس عمل کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فوج کو غزہ سے مرحلہ وار انخلا کرنا تھا۔
حماس نے جولائی کے آخر میں منصوبے کے ابتدائی مسودے پر رضامندی ظاہر کردی تھی، تاہم اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے حال ہی میں اس منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ اسرائیلی فوج حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے سے پہلے غزہ سے انخلا نہیں کرے گی۔
نیتن یاہو کا مؤقف ہے کہ حماس کے صرف بھاری ہتھیار ہی نہیں بلکہ تمام ہتھیار ختم کیے جانے چاہئیں اور اس عمل کی قابلِ تصدیق طریقے سے نگرانی ہونی چاہیے۔

حماس غیر مسلح ہونے پر رضامند، مگر شرط کیا ہے؟
منصوبے میں حماس کے غیر مسلح ہونے کو غزہ میں اسرائیلی فوج کے انخلا اور جنگ کے مستقل خاتمے کے عمل سے جوڑا گیا ہے۔
حماس نے ابتدائی معاہدے پر رضامندی ظاہر کی ہے، تاہم اسرائیل کی جانب سے منصوبے کی مخالفت نے اس کے عملی نفاذ کو مشکل بنا دیا ہے۔
بورڈ آف پیس کے مطابق امریکا اور اسرائیل دونوں کا حتمی مقصد ایک غیر مسلح حماس کا قیام ہے، تاہم اس مقصد تک پہنچنے کے طریقہ کار اور اسرائیلی فوج کے انخلا کے وقت پر اختلاف موجود ہے۔
کشنر نیتن یاہو کو کیا سمجھانے کی کوشش کریں گے؟
ذرائع کے مطابق کشنر اور ملادینوف اسرائیل پر زور دیں گے کہ وہ غزہ میں حملے روکنے اور 2025 کی جنگ بندی کے تحت کیے گئے انسانی بنیادوں پر وعدوں پر عمل کرے۔
منصوبے سے وابستہ امریکی فریقوں کا خیال ہے کہ اگر اسرائیل اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا ہے تو اس کے بعد حماس سے ہتھیاروں کی حوالگی کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
بورڈ آف پیس کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ وفد اسرائیل کے تحفظات سنے گا اور آئندہ کے اقدامات پر بات کرے گا تاکہ منصوبے پر پیش رفت تیز کی جاسکے۔
مصر میں کیا ہوگا؟
کشنر، ملادینوف اور ٹونی بلیئر مصر میں مصری حکام اور دیگر ثالثوں سے بھی ملاقات کریں گے۔ مصر غزہ جنگ بندی کے معاملے میں اہم ثالثوں میں شامل رہا ہے، جب کہ قطر اور ترکی بھی حماس اور دیگر فریقوں کے ساتھ مذاکرات میں کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
قاہرہ میں ہونے والی ملاقاتوں کا مقصد جنگ بندی کے اگلے مرحلے اور حماس کے غیر مسلح ہونے کے لیے ایک قابلِ عمل لائحہ عمل کو حتمی شکل دینا بتایا گیا ہے۔

جنگ بندی کے باوجود غزہ میں خونریزی جاری
یہ سفارتی کوششیں ایسے وقت میں ہورہی ہیں جب غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں اور ہلاکتوں کا سلسلہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔
مقامی حکام کے مطابق جنگ بندی کے آغاز سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 1,260 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ 7 اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی جنگ کے دوران غزہ میں فلسطینیوں کی مجموعی شہادتوں کی تعداد 73 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔
دوسری جانب اسرائیل نے غزہ میں اپنے زیرِ کنٹرول علاقے کو بھی بتدریج وسیع کیا ہے اور رپورٹس کے مطابق اس وقت تقریباً 70 فیصد غزہ اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے۔
اصل تنازع اسرائیلی انخلا یا حماس کا مکمل خاتمہ؟
موجودہ اختلاف کا مرکزی نکتہ یہی ہے کہ اسرائیلی فوج غزہ سے کب اور کن شرائط پر واپس جائے گی۔ ابتدائی منصوبے میں حماس کے غیر مسلح ہونے کے ساتھ اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار انخلا کی بات کی گئی تھی۔
بعد میں اسرائیلی مؤقف زیادہ سخت ہوگیا اور نیتن یاہو نے واضح کیا کہ حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے تک اسرائیلی فوج کا انخلا نہیں ہوگا۔
یہی صورتحال مذاکرات میں ایک مشکل پیدا کر رہی ہے، کیونکہ حماس اسرائیلی انخلا کو معاہدے کے اہم حصے کے طور پر دیکھتی ہے جبکہ اسرائیل پہلے حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے پر زور دے رہا ہے۔

مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی کشیدگی میں اضافہ
کشنر کا دورہ صرف غزہ تک محدود نہیں ہوگا۔ یہ دورہ ایسے وقت میں بھی ہورہا ہے جب مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے فلسطینیوں پر حملوں میں اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور (OCHA) کے مطابق جنوری 2025 سے جون 2026 کے دوران مغربی کنارے میں آبادکاروں کے 3,033 حملے ریکارڈ کیے گئے، یعنی اوسطاً تقریباً چھ حملے روزانہ۔
2026 کے دوران اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کے ہاتھوں مغربی کنارے میں 76 فلسطینیوں کی شہادت بھی رپورٹ ہوئی، جن میں 18 بچے شامل ہیں۔
امریکا کے لیے کشنر کا مشن کتنا اہم ہے؟
کشنر اس معاملے میں ایک اہم امریکی کردار رکھتے ہیں۔ وہ گزشتہ برس اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق مذاکرات میں بھی شامل رہے تھے۔
اب ان کا تازہ دورہ اس بات کی کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے کہ واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان غزہ کے مستقبل پر موجود اختلافات کم کیے جائیں اور ٹرمپ انتظامیہ کے منصوبے کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر آگے بڑھایا جائے۔
تاہم بنیادی سوال اب بھی یہی ہے کہ کیا نیتن یاہو حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے سے پہلے اسرائیلی فوج کے انخلا پر رضامند ہوں گے اور کیا حماس اسرائیلی انخلا کے بغیر اپنے ہتھیار حوالے کرنے پر آمادہ ہوگی؟







