ہنگری کے شہر ڈیبریسن کے ناگیردئی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں آئرلینڈ کے کھلاڑیوں نے غزہ میں شہید ہونے والوں کی یاد میں سیاہ بازو پٹیاں باندھیں۔ میچ سے قبل اسرائیلی قومی ترانے کے دوران آئرش کھلاڑیوں نے سر جھکائے رکھے، جب کہ دونوں ٹیموں کے درمیان روایتی مصافحہ اور پیننٹ کا تبادلہ بھی نہیں ہوا۔
آئرلینڈ نے میچ کا آغاز جارحانہ انداز میں کیا اور پہلے ہی ہاف میں تین گول کرکے برتری فیصلہ کن بنا دی۔ ٹرائے پیروٹ نے 14ویں منٹ میں پہلا گول کیا، جس کے بعد ایڈم ایڈاہ نے 15ویں منٹ میں دوسرا گول کردیا، جبکہ جیک موئلان نے 25ویں منٹ میں تیسرا گول کرکے آئرلینڈ کی برتری 3-0 کردی۔
تیسرا گول کرنے کے بعد جیک موئلان نے اپنا سیاہ بازو بند اتار کر اسے اسرائیلی شائقین کی جانب اٹھایا اور بعد ازاں اسے بوسہ دیا۔
میچ سے قبل آئرش ٹیم کے اندر اس بات پر شدید بحث ہوئی تھی کہ اسرائیل کے خلاف میچ کھیلا جائے یا بائیکاٹ کیا جائے۔ آئرش فٹبال ایسوسی ایشن کے مطابق کھلاڑیوں نے تقریباً چار گھنٹے تک اس معاملے پر مشاورت کی، جس کے بعد واضح اکثریت نے میچ کھیلنے کے حق میں ووٹ دیا۔
تاہم آئرلینڈ کے گول کیپر گیون بازونو نے خود کو میچ کے لیے دستیاب نہ رکھنے کا فیصلہ کیا۔ بازونو نے کہا کہ خطے میں ہونے والے واقعات کے باعث اسرائیل کے خلاف میچ میں شرکت کرنا ان کے لیے درست نہیں ہوگا۔
آئرلینڈ کے کوچ ہیمیر ہالگریمسن نے میچ کے بعد کہا کہ بہت سے کھلاڑیوں کے لیے گزشتہ دنوں کی صورتحال انتہائی مشکل رہی، تاہم ان کے مطابق کھلاڑیوں نے اپنے اقدامات کے ذریعے احتجاج اور غزہ کی صورتحال کے بارے میں آگاہی پیدا کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کا مقصد عام طور پر کسی صورتحال کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہوتا ہے اور ان کے خیال میں آئرش کھلاڑیوں نے اپنے اقدامات اور باتوں کے ذریعے یہ مقصد حاصل کیا۔
فروری میں آئرلینڈ کو نیشنز لیگ میں اسرائیل کے ساتھ ایک ہی گروپ میں شامل کیے جانے کے بعد سے آئرلینڈ میں ان میچوں کے انعقاد کے خلاف احتجاج اور بائیکاٹ کے مطالبات سامنے آتے رہے ہیں۔ آئرش فٹبال ایسوسی ایشن نے دونوں میچوں کے لیے آئرش شائقین کو ٹکٹ فراہم نہ کرنے کا فیصلہ بھی کیا تھا۔
آئرلینڈ اور اسرائیل کے درمیان میچ کے دوران اسٹیڈیم میں شائقین کی تعداد بھی انتہائی محدود رہی۔ آئرش فٹبال ایسوسی ایشن کے فیصلے کے تحت آئرش شائقین کے لیے ٹکٹ مختص نہیں کیے گئے تھے، جب کہ اسرائیل کے لیے محدود تعداد میں شائقین کو میچ دیکھنے کی اجازت دی گئی تھی۔
دوسری جانب آئرش کھلاڑیوں کے اقدامات پر اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سار نے تنقید کی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر آئرلینڈ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ملک کے تاریخی سیاسی مؤقف اور دوسری جنگ عظیم کے دوران اس کی غیر جانبداری کا حوالہ دیا۔
سار نے آئرش ٹیم کی جانب سے اسرائیلی قومی ترانے کے دوران سر جھکانے اور میچ سے قبل مصافحہ نہ کرنے کے اقدامات پر بھی ردعمل ظاہر کیا۔
دوسری جانب اسرائیل کے اسکارف پہنے ایک شائق نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے آئرلینڈ کے اقدامات کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کھیل کو سیاست سے الگ رکھا جانا چاہیے۔
یاد رہے کہ آئرلینڈ طویل عرصے سے فلسطینی ریاست کی حمایت کرتا آیا ہے۔ ڈبلن نے 2024 میں اسپین اور ناروے کے ساتھ مل کر فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا تھا اور غزہ کی صورتحال پر اسرائیل کی کارروائیوں پر بھی تنقید کرتا رہا ہے۔
آئرلینڈ اور اسرائیل اب نیشنز لیگ میں دوبارہ 4 اکتوبر کو مدمقابل ہوں گے۔ یہ میچ سربیا کے شہر باکا توپولا میں بند دروازوں کے پیچھے کھیلا جائے گا۔







