ایسوسی ایشن کے ترجمان کے مطابق اسلام آباد انتظامیہ اور متعلقہ حکام کو تمام گاڑیاں ریلیز کرنے کے لیے 72 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا گیا ہے، اگر مقررہ مدت میں گاڑیاں ریلیز نہ ہوئیں تو ٹرانسپورٹرز آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں بڑی تعداد میں گاڑیاں روکی گئی ہیں۔ ان علاقوں میں راولپنڈی، مندرہ، گوجر خان، سوہاوہ، دینہ، لاہور، گوجرانوالہ، گجرات، وزیرآباد اور سیالکوٹ شامل ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بلکسر، تلہ گنگ، چکوال، میانوالی، ملتان اور مظفرگڑھ میں بھی بڑی تعداد میں لوڈڈ اور خالی گاڑیاں روکی گئی ہیں۔

گڈز ٹرانسپورٹرز کے مطابق اسلام آباد سے ریلیز ہونے والی تقریباً 50 گاڑیوں کو راولپنڈی میں دوبارہ روک لیا گیا، جب کہ راولپنڈی سے ریلیز ہونے والی 40 لوڈڈ گاڑیاں بلکسر، تلہ گنگ اور چکوال کے علاقوں میں دوبارہ روک دی گئیں۔

ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی مسلسل بندش کے باعث انہیں روزانہ کروڑوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے، جب کہ مال بردار گاڑیوں کی روانی متاثر ہونے سے کاروباری سرگرمیوں پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔

ایسوسی ایشن کے ترجمان نے کہا کہ آئی جی اور ڈی آئی جی اسلام آباد کے احکامات کے باوجود لوڈڈ گاڑیوں کو ریلیز نہ کرنا تشویشناک ہے۔

ترجمان نے وفاقی اور پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ معاملے میں فوری مداخلت کرتے ہوئے اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں روکی گئی تمام گاڑیاں فوری طور پر ریلیز کرائی جائیں۔

آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن نے واضح کیا ہے کہ 72 گھنٹے میں تمام گاڑیاں ریلیز نہ ہوئیں تو ٹرانسپورٹرز آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔