لیورپول میں حکمران جماعت لیبر پارٹی کی سالانہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ برطانوی حکومت نے فلسطین کے معاملے پر اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کی ہے اور اب وہ اپنی پالیسی کو عملی اقدامات میں تبدیل کرے گی۔
انہوں نے دنیا بھر میں فلسطینی عوام کی حالتِ زار پر دکھی اور سراپا احتجاج افراد اور تنظیموں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کی آواز سن رہے ہیں، آپ حق پر تھے۔
برطانوی وزیر خارجہ کی تقریر پر کانفرنس میں موجود شرکا نے بھرپور ردعمل کا اظہار کیا اور دیر تک تالیاں بجائیں۔
ایڈ ملی بینڈ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے ہونے والے تشدد کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ برطانیہ مغربی کنارے میں آباد کاری، غزہ میں جنگی جرائم کے شواہد اور اسرائیل کے فلسطین پر غیر قانونی قبضے کے خلاف آواز اٹھاتا رہے گا اور اب ان معاملات پر عملی اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو لاحق خطرات غزہ میں ہونے والے مظالم اور انسانی المیے کا جواز ہرگز فراہم نہیں کرسکتے۔
ایڈ ملی بینڈ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں کے خلاف برطانیہ کے اقدامات کا بھی اعلان کیا۔ اس سے قبل برطانوی حکومت غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے درآمد ہونے والی اشیا اور بعض سروسز کی تجارت پر پابندی کا اعلان کرچکی ہے۔
برطانوی وزیر خارجہ نے اپنی تقریر میں ’دو ریاستی حل‘ کے دفاع کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پائیدار امن کا راستہ ایک محفوظ اسرائیل اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام سے ہی ممکن ہے، جہاں دونوں اقوام کو آزادی، وقار اور حقِ خود ارادیت حاصل ہو۔
ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ لیبر پارٹی اور برطانوی حکومت فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل کو نقصان پہنچانے والی کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔







