اپریل 4, 2025 11:42 شام

English / Urdu

Follw Us on:

کرپٹ پیرنٹنگ

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک

کرپٹ اور وہ بھی پیرنٹنگ، اس کا کیا مطلب ہوا؟ کرپشن تو یہ ہوتی ہے ناں کہ کسی نے سرکاری خزانے یا ترقیاتی کاموں میں پیسوں کا غبن کر لیا ہو تو بھلا والدین کیسے کرپٹ ہو سکتے ہیں؟

کرپٹ پیرنٹنگ (Corrupt Parenting) اس طرزِ پرورش کو کہا جاتا ہے جس میں والدین اپنے بچوں کی اخلاقی، سماجی یا نفسیاتی تعمیر میں غیر صحت مندانہ بلکہ غیر اخلاقی رویوں کو فروغ دیتے ہیں۔ یہ رویے ظلم، جھوٹ، دھوکہ دہی، غیر ذمہ داری، جانبداری اور خود غرضی جیسی منفی عادات سکھانے پر مبنی ہو سکتے ہیں۔

تو سوال یہ ہم کرپٹ والدین کو کیسے پہچان سکتے ہیں؟ عموماً ایسے کرپٹ والدین کے اندر یہ چند باتیں موجود ہوسکتی ہیں۔ جس میں غلط کاموں پر بچوں کی حمایت کرنا، نظم و ضبط کی کمی یا حد سے زیادہ نرمی کرنا، غیر اخلاقی فوائد حاصل کرنے کے لیے بچوں کو اکسانا یا کبوتر کی طرح آنکھیں بند رکھنا،  دوسروں کے حقوق پامال کرنے کا جواز دینا، اور غیر قانونی، غیر اخلاقی سرگرمیوں میں بچوں کے ملوث ہونے پر خاموش رہنا یا حوصلہ افزائی کرنا شامل ہیں۔

یہ صرف چند اشارے ہیں جو کرپٹ پیرنٹنگ کو واضح کرنے کے لیے کافی ہیں۔ اب اس کرپٹ پیرنٹنگ کی اصطلاح کو اپنی عملی زندگی میں ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور وہ ہے مصطفیٰ عامر قتل کیس، جس کا چرچا ہر طرف پھیلا ہوا ہے!

یہاں پر آپ کو کرپٹ پیرنٹنگ کے دو مختلف رنگ نظر آئیں گے۔ پہلا رنگ مصطفیٰ کی والدہ اور والد کی کرپٹ پیرنٹنگ جبکہ دوسرا رنگ ارمغان کے والد کی کرپٹ پیرنٹنگ ہے۔

پہلے رنگ کی بات کریں تو مصطفیٰ کی تمام تر مصروفیت اس کی والدہ کے علم میں تھیں۔ لڑکیوں سے تعلقات کا معاملہ ہو یا ڈرگز کا لین دین، بغیر نمبر پلیٹ گاڑی کے کرتب ہوں یا جرائم پیشہ افراد سے تعلق سب کا اس کے والدین کومعلوم تھا۔ اس کی والدہ کے علم میں سب کچھ تھا۔

Passive Corrupt Parenting.یعنی جہاں والدین اب کچھ جانتے ہوئے بھی چیزوں کو اہمیت نہیں دیتے، نظر انداز کرتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ ان کے بچوں کے ساتھ کچھ سانحہ ہو جائے تو یہ مظلومیت کا کارڈ اٹھائے جگہ جگہ نظر آنے لگتے ہیں۔

دوسرے رنگ کی بات کریں تو اس میں ارمغان کے والد کی کرپٹ پیرنٹنگ آتی ہے۔ مصطفیٰ کے ممکنہ قاتل ارمغان کے والد، کرپٹ پیرنٹنگ کا دوسرا رنگ بکھیرتے نظر آتے ہیں جسے Aggressive Corrupt Parenting کہتے ہیں۔ یعنی ایسے والدین جنہیں نہ صرف اپنے ہونہار بچوں کے غیر اخلاقی سرگرمیوں، غیر قانونی دھندوں کا علم ہوتا ہے بلکہ وہ اسے بھرپور طریقے سے حوصلہ دینے کا کام کررہے ہوتے ہیں، اس کا دفاع کر رہے ہوتے ہیں اور کسی قانونی مسئلے کی صورت اپنے بچوں کو قانون کے شکنجے سے باہر نکال لے جانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔

یہی کرپٹ پیرنٹنگ ایسے سانحات کو جنم دیتی ہے جسے عوام کچھ دن کے لیے خوب ڈسکس کرتے ہیں اور پھر اپنی اپنی زندگیوں میں کھو جاتے ہیں۔

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس