اسلام آباد میں “ایکو آف فلسطین” کے نام سے ایک کانفرنس منعقد ہوئی جس میں مقامی اور عالمی شخصیات نے شرکت کی۔
کانفرنس جماعت اسلامی کی جانب سے کرائی گئی جس میں امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم نے بھی شرکت کی۔
کانفرنس میں جنوبی افریقا سے آئے ہوئے فیصل داؤ جی نے بھی خطاب کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ “ہمیں زبان کی طاقت اور استعمال کیے گئے الفاظ کے بارے میں بہت محتاط رہنا ہوگا۔ متعدد تنظیموں جیسا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ، حتیٰ کہ اقوام متحدہ کے اپنے ادارے اور آئی سی جے جیسی نے غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے نسل کشی قرار دیا ہے”۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ “اس میں کوئی شک نہیں۔ یاد رکھیں، نسل کشی راتوں رات نہیں ہوتی۔ فلسطین میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک منظم، منصوبہ بند، فلسطینی عوام کا خاتمہ ہے۔ یہ گزشتہ 80 سالوں سے جاری ہے۔ صرف اب وہ صدمے کا شکار ہیں اور یا کچھ مغربی دانشوروں اور تنظیموں کے درمیان جو فلسطینی عوام کا اس وحشیانہ اور بے مثال قتل عام کا سامنا کر رہے ہیں۔ ہمیں نسل کشی کا لفظ استعمال کرنے سے معذرت نہیں کرنی چاہیے”۔