اپریل 5, 2025 4:13 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

مصطفیٰ عامر قتل، کب کیا ہوا؟

اظہر تھراج
اظہر تھراج

کراچی کے پوش علاقوں سے عام طور پر خبریں بہت کم موصول ہوتی ہیں لیکن اگر کسی خبر کا 

چرچہ ہوتو وہ دل دہلانے کے لئے اور اداروں کی بے بسی کا ماتم کرنے کے لئے کافی ہوتی ہے۔

 نور مقدم کیس ہو یا ارمغان کا مصطفیٰ عامر کو گھر بلا کر بے رحمی سے قتل کر دینا ہو۔ ایک 23 سالہ طالب علم مصطفیٰ عامر کو قتل کردیا گیا، قاتل کوئی اور نہیں ہے اس کا اپنا دوست ہی قاتل نکلا ۔ 

چھ جنوری 2025 کو کراچی کے علاقے ڈیفنس سے مصطفیٰ عامر کو اغوا کیا گیا۔ ان کی والدہ کو دو کروڑ روپے تاوان کی کال موصول ہوئی، جس کے بعد کیس کی تحقیقات اینٹی وائلنٹ کرائم سیل (اے وی سی سی) کو منتقل کی گئیں۔

تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ مصطفیٰ کے قریبی دوست ارمغان قریشی اس واقعے میں ملوث ہیں۔ دونوں کے درمیان ایک خاتون، مارشا، کے باعث تنازعہ پیدا ہوا تھا۔ 

ارمغان نے مصطفیٰ کو اپنے گھر بلایا، جہاں اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بعد ازاں قتل کر دیا گیا۔ لاش کو حب کے علاقے میں لے جا کر جلایا گیا تاکہ شواہد مٹائے جا سکیں۔ 

 

ملزم ارمغان کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا گیا۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے ابتدائی طور پر جسمانی ریمانڈ دینے سے انکار کیا، جس پر پراسیکیوشن نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ سندھ ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزم کو پولیس ریمانڈ پر دینے کا حکم دیا۔

تفتیش کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ ملزم ارمغان کی سہولت کاری میں گزری تھانے کا ایک پولیس اہلکار ملوث تھا، جس کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔

یہ واقعہ ہمارے معاشرے اور نظامِ عدل کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔

اظہر تھراج

اظہر تھراج

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس