جمعہ کے روز بٹ کوائن کی قدر میں ایک موقع پر 7.2 فیصد تک کمی آئی، اور یہ 78,226 ڈالر تک گر گیا، جو کہ جنوری میں ریکارڈ کیے گئے 109,241 ڈالر کے آل ٹائم ہائی سے 28 فیصد کی گراوٹ ظاہر کرتا ہے۔
تاہم، بعد میں کچھ استحکام آیا اور بٹ کوائن دن کے اختتام پر معمولی تبدیلی کے ساتھ ٹریڈ کر رہا تھا۔
فروری کے دوران بٹ کوائن میں 18 فیصد کمی دیکھی گئی، جو کہ جون 2022 کے بعد اس کی سب سے بڑی ماہانہ گراوٹ ہے۔
کرپٹو فنڈ “اسپِلٹ کیپٹل” کے شریک بانی زہیر ابتکار نے کہا کہ،
‘بڑے سرمایہ کاروں نے مارکیٹ سے نکلنے کا فیصلہ کر لیا، جس کی وجہ سے اس ہفتے غیر معمولی فروخت دیکھی گئی۔’
ٹرمپ کی نئی تجارتی پالیسی: کرپٹو مارکیٹ پر اثرات
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تجارتی اقدامات نے بھی عالمی منڈیوں کو متاثر کیا ہے، جن میں کرپٹو کرنسیز سرفہرست ہیںٹرمپ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ:
کینیڈا اور میکسیکو سے درآمدات پر 25 فیصد نئے ٹیرف عائد کیے جائیں گے، جو 4 مارچ سے نافذ العمل ہوں گے۔
چین سے درآمدات پر مزید 10 فیصد اضافی ڈیوٹی لگائی جائے گی، جس کے بعد بیجنگ نے “مکمل جوابی اقدامات” کی دھمکی دی ہے۔
بٹ کوائن کی گراوٹ نے ان سرمایہ کاروں کے لیے حیرانی کی لہر دوڑا دی ہے، جنہوں نے ٹرمپ کی کرپٹو-فرینڈلی پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے کرپٹو میں بڑی سرمایہ کاری کی تھی۔
بیس جنوری کو ٹرمپ کی حلف برداری کے دن بٹ کوائن 109,241 ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچا، مگر اب ٹرمپ کی جارحانہ تجارتی پالیسیوں نے کرپٹو مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
بٹ کوائن مزید کتنا گر سکتا ہے؟
کرپٹو پلیٹ فارم “یو ہوڈلر” کے چیف آف مارکیٹس، روسلان لینکھا کے مطابق، بٹ کوائن 70,000 ڈالر کے قریب تکنیکی سپورٹ پر آ سکتا ہے، مگر اگر اسٹاک مارکیٹ میں مزید منفی رجحان دیکھا گیا، تو اس سے بھی نیچے جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ:
“اگر امریکی اسٹاک مارکیٹ میں مزید مندی جاری رہی، تو بٹ کوائن پر بھی دباؤ برقرار رہے گا۔”
ٹرمپ نے کرپٹو کے حامی افراد کو اہم حکومتی عہدوں پر تعینات کیا ہے۔ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے حالیہ ہفتوں میں کئی کرپٹو کمپنیوں کی تحقیقات بند کر دی ہیں۔
ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ وہ امریکہ کو کرپٹو کیپٹل اور بٹ کوائن سپر پاور بنائیں گے۔”
کیا بٹ کوائن پھر اوپر جا سکتا ہے؟
بٹ کوائن پھر اوپر جا سکتا ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ تکنیکی عوامل اور سرمایہ کاروں کے رویے کریں گے۔ اگر عالمی معیشت میں مزید عدم استحکام آیا، تو کرپٹو کرنسیوں کی گراوٹ مزید شدید ہو سکتی ہے۔
تاہم، اگر سرمایہ کاروں نے ڈِپ بائنگ (Dip Buying) کا موقع دیکھا، تو بٹ کوائن مستحکم ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ کی پالیسیوں اور مارکیٹ کے ردِعمل پر سب کی نظریں جمی ہیں۔ اگلے چند ہفتے یہ طے کریں گے کہ بٹ کوائن کی مندی کا سفر کہاں رکتا ہے، اور کیا ٹرمپ اس بحران کو کرپٹو کے لیے مثبت سمت میں موڑ سکتے ہیں؟