رمضان المبارک کی آمد کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے 40 لاکھ گھرانوں کو فی کس 5 ہزار روپے دینے کا اعلان کر دیا ہے، رقم کی منتقلی ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے کی جائے گی۔
اسلام آباد میں رمضان پیکیج کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ایک سال کے دوران 2 کروڑ افراد میں رقم تقسیم کی جائے گی، رمضان پیکیج کے لیے رواں برس 20 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس یہ رقم 7 ارب روپے تھی، جس میں اس سال 200 فی صد اضافہ کر کے 20 ارب روپے مختص کی گئی ہے، ملک بھر کے لیے رمضان پیکیج کو بغیر کسی تفریق متعارف کروایا جا رہا ہے۔
وزیراعظم کے مطابق رمضان پیکیج 2025ء کی شفافیت کے لیے اسٹیٹ بینک، ٹیک ادارے اور نادرا کی کاوشیں قابل تحسین ہیں، ان اداروں کی محنت کا نتیجہ ہے کہ رمضان پیکیج مستحق افراد تک پہنچے گا۔
انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے قوم اور ادارے پُرعزم ہیں، اس ناسور کے لیے ایسی قبر کھودیں گے کہ اس کا دوبارہ نکلنا ناممکن ہوگا۔ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک دہشت گردی کا قلع قمع نہ کردیا جائے۔
شہباز شریف نے خودکش دھماکے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اکوڑہ خٹک میں مولانا حامد الحق سمیت دیگر افراد کی شہادت کا واقعہ غمزدہ ہے، جس پر پوری قوم افسردہ ہے۔
ہم اس دھماکے کی مذمت کرتے ہیں، دہشت گردی کا خاتمہ 2018ء میں ہو چکا تھا۔ ملک میں قیام امن کے لیے 80 ہزار پاکستانیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
وزیراعظم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ کھربوں روپے کے محصولات جو حکومت نے وصول کرنے ہیں، وہ عدالتوں اور مختلف فورمز میں التوا کا شکار ہیں۔
2022-23 تک ڈالر آسمان چھو رہا تھا، تب بینکوں نے ونڈفال پرافٹ بنایا، جس پر ٹیکس لگایا گیا تو انہوں نے اسٹے آرڈرز لے لیے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عدالت عالیہ سندھ نے ایک سٹے آرڈر کو ختم کیا، جس کے نتیجے میں گورنر اسٹیٹ بینک نے ایک ہی دن میں 23 ارب روپے بینکوں سے نکال کر قومی خزانے میں منتقل کیے۔
وزیراعظم کے مطابق ہم اب یوٹیلٹی اسٹورز سے جان چھڑوا رہے ہیں۔ ان کی نجکاری کی جائے گی، جس سے بہتری آئے گی۔ رمضان پیکیج کے تحت اب لوگوں کو قطار میں لگنا نہیں پڑے گا بلکہ باعزت طریقے سے ڈیجیٹل والٹ سے وہ ریلیف حاصل کر سکیں گے۔