تمباکو نوشی ایک عام عادت ہے، لیکن اس کے بعد بچ جانے والے سگریٹ کے ٹکڑے زمین، ماحول اور اشیاء کو آلودہ کر دیتے ہیں۔
لوگ سگریٹ پینے کے بعد اسے کہیں بھی پھینک دیتے ہیں، جس سے آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے اور زمین کے کچرے میں غیر ضروری اضافہ ہوتا ہے۔
اسی مسئلے کو حل کرنے کے لیے ہم نے سگریٹ کے ٹکڑوں کی ری سائیکلنگ پر ایک منصوبہ شروع کیا ہے۔
کراچی کے نوجوانوں نے گرین ویشن ٹو پوائنٹ او کے نام سے ایک منصوبہ بنایا ہے جس میں وہ سگریٹ کے ٹکڑوں کی ری سائیکلنگ کر رہے ہیں۔
پروجیکٹ شروع کرنے والے احتشام احمد کا کہنا ہے کہ”ہم نے سگریٹ کے ضائع شدہ حصوں کو اکٹھا کرکے ان پر کام کیا۔
سب سے پہلے، ہم نے ان کا کاغذ الگ کیا، پھر ان کے فلٹرز کو الگ کیا اور ان میں موجود مختلف کیمیکلز، بشمول سوڈیم کلورائیڈ، کو الگ کرکے دوبارہ قابل استعمال بنانے کی کوشش کی۔
اس پراسیسنگ کے بعد ہم ایک نیا منصوبہ شروع کر رہے ہیں، جس کے تحت ہم ان مواد کو استعمال کرتے ہوئے مچھر بھگانے والا کاغذ بنا رہے ہیں۔
یہ ایک ایسا قدم ہے جو نہ صرف فضلے کو کم کرے گا بلکہ اس سے مفید اشیاء بھی تیار کی جا سکیں گی”۔