کانگو میں چمگادڑ کھانے کے بعد ایک نامعلوم بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے، جس کی وجہ سے متاثرہ افراد صرف 48 گھنٹوں میں موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔ اس بیماری کی علامات وائرل ہیموریجک بخار سے ملتی جلتی ہیں، جو مختلف وائرسز کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔ مریضوں میں بخار، کمزوری، جوڑوں کا درد، خون بہنے اور جسمانی اعضاء کی خرابی جیسی علامات دیکھی جا رہی ہیں۔
ابھی تک بیماری کے پھیلاؤ کی اصل وجہ معلوم نہیں ہو سکی، لیکن ماہرین صحت کا خیال ہے کہ یہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والی بیماری ہو سکتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت اور مقامی حکام اس پر تحقیق کر رہے ہیں تاکہ اس کے ماخذ اور روک تھام کے طریقے معلوم کیے جا سکیں۔
چمگادڑ کھانے کے علاوہ اگر یہ کسی پھل کو چکھ لے تو اس کے ذریعے بھی وائرس انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہے۔ اس لیے خوراک کے حوالے سے احتیاط کرنا ضروری ہے۔ صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ چمگادڑ اور اس سے متاثرہ پھلوں سے دور رہنا بہتر ہوگا، جبکہ حکومت اور صحت کے اداروں کو اس حوالے سے فوری آگاہی مہم چلانی چاہیے۔