عروس البلاد شہر کراچی میں رمضان المبارک کی آمد کے موقع پر بڑی تعداد میں بھکاریوں نے ڈیرے جما لیے ہیں۔ مرکزی شاہراہوں، مساجد، شاپنگ مالز، فوڈ اسٹریٹ اور دیگر عوامی مقامات پر بھکاریوں کی کثیر تعداد موجود ہے۔
روزانہ کی بنیاد پر اندرون ملک سے بذریعہ ٹرین اور ٹرانسپورٹ بڑی تعداد میں لوگ اپنے گھر والوں کے ہمراہ کراچی کا رخ کر رہے ہیں، جن کا واحد مقصد رمضان المبارک کے موقع پر صدقات، زکوٰۃ اور خیرات کا حصول ہے۔ دن اور رات کے اوقات میں شہر کی فٹ پاتھ اور پیڈسٹیرین بریج کو بھکاریوں نے اپنا مسکن بنا لیا ہے اور اکثر کے ہمراہ خواتین اور بچے بھی موجود ہوتے ہیں۔
عام طور پر شہر کے مختلف علاقوں میں یہ لوگ گروہوں میں تقسیم ہو کر بھیک مانگتے ہیں، جب کہ بچوں کو الگ سے سگنلز یا مساجد کے سامنے بھیج دیا جاتا ہے۔ یہ معصوم بچے اپنے والدین کے کہنے پر دن بھر سڑکوں پر لوگوں سے پیسوں کا مطالبہ کرتے ہیں۔

‘پاکستان میٹرز’ کی تحقیق کے مطابق مصروف شاہراہوں اور سگنلز پر بھیک مانگنے والے بچے یومیہ 400 سے 500 روپے اکٹھا کر لیتے ہیں۔ یہ زبردستی سگنلز پر رکی ہوئی گاڑیوں کے شیشوں کو صاف کرنے لگتے ہیں، جس کے بعد لوگوں سے پیسوں کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہر فرد کم سے کم انہیں 20 روپے، جب کہ زیادہ سے زیادہ 100 روپے دیتا ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے ان بچوں کی اوسط تعداد 4 ہے اور یہ اپنے والدین کو روزانہ کی بنیاد پر دن بھر کی جمع پونجی لاکر دیتے ہیں۔ شہر کی مرکزی سڑکوں میں شامل طارق روڈ، بہادر آباد، گلشن چورنگی، جوہر موڑ، کشمیر روڈ، حسن اسکوائر، فائیو اسٹار چورنگی اور دیگر مقامات پر بھکاریوں کی بڑی تعداد موجود رہتی ہے۔
مزید پڑھیں: رمضان کے پہلے روز قیمتوں کے گراں فروشوں پر کریک ڈاؤن، 1.59 ملین روپے جرمانہ، 14 افراد گرفتار
عابد بیلی کراچی کے ایک بزنس مین اور سماجی کاموں کے لیے معروف ہیں۔ گذشتہ برسوں میں انہوں نے بھیک بند کرو مہم کا آغاز کیا تھا۔ اس مہم کے نتیجے میں انہوں نے شہر بھر میں پروفیشنل بھکاریوں کی مدد بند کرنے اور اس حوالے سے شعور کو اجاگر کرنے کے لئے بینرز اور اسٹیکرز گاڑیوں پر چسپاں کیے تھے، جب کہ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے ویڈیوز بھی اپلوڈ کی تھی جو آج تک لوگوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔
‘پاکستان میٹرز’ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے عابد بیلی کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر ہمیں پیسہ خرچ کرنا نہیں آتا نرم دلی اور رحمدلی کے جذبات میں آ کر ہم چند روپے بھکاری کو دے دیتے ہیں۔ ان پیسوں سے مستحق محروم رہ جاتا ہے اور غیرمحسوس انداز میں بھکاری مافیا کو تقویت مل جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ پورا ایک نیٹ ورک ہے، ان کے بھیک مانگنے کا طریقہ کار بھی حیران کن ہے، مثلاً ریسٹورینٹ کے باہر کوئی آدمی صرف روٹی ہاتھ میں لے کر آپ سے سالن کا مطالبہ کرے گا، میڈیکل اسٹور کے بعد کوئی خاتون بیمار بچے کو گود میں لیے دوائی کے پیسے مانگے گی یا کسی کپڑے کی دکان کے سامنے پرانے اور پھٹے ہوئے کپڑوں میں ملبوس بچے آپ سے پیسوں کا مطالبہ کریں گے۔
عابد بیلی کا کہنا ہے کہ عوام کو چاہیے کہ وہ اپنے ارد گرد موجود مستحق اور سفید پوش افراد تلاش کر کے ان کی امداد کریں، تاکہ حقیقی معنوں میں زکوٰۃ اور صدقات حقدار تک پہنچ سکیں۔
انہوں نے بتایا کہ آگاہی مہم کے دوران سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ایک بھکاری یومیہ ہزار روپے سے لے کر آٹھ ہزار روپے تک بھیک اکٹھی کر لیتا ہے، جب کہ بعض بزرگ بھکاری یومیہ 14 ہزار روپے بھی جمع کر لیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اس بار رمضان واقعی مختلف ہو!
اس ضمن میں اصل ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اس نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرے، روزگار اور خوارک فراہم کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ ملک میں ہزاروں کی تعداد میں این جی اوز موجود ہیں، بڑی تعداد میں فنڈز بھی جمع ہورہے ہیں، مگر پھر بھی ملک سے غربت کا خاتمہ نہیں، بلکہ اضافہ ہورہا ہے۔
عابد بیلی کے مطابق دنیا بھر میں این جی اوز حکومت کے ساتھ مل کر بہترین کام کرتی ہیں اور ان کا ڈیٹا بھی تیار کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی اس حوالے سے نادارا کے ساتھ مل کر یہ کام کیا جاسکتا ہے تاکہ ریکارڈ پر ہے کہ پیسہ کہاں خرچ ہوا اور اس سے کتنے لوگ مستفید ہوسکے۔

رمضان المبارک میں سماجی تنظیموں کی جانب سے سحر و افطار میں لگائے گئے دستر خوان پر بھی بیرون شہر سے آئے ہوئے افراد کی کثیر تعداد موجود ہوتی ہے، کیونکہ زیادہ وسائل نہ رکھنے والے افراد سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے لیے زیادہ تر محدود وسائل میں گزارہ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ البتہ کراچی میں لگائے گئے افطار کے دسترخوان پر عمومی طور پر نچلے طبقے کے ملازمین یا پھر دفتر سے گھر جاتے ہوئے کسی سبب تاخیر کا شکار ہونے والے افراد روزہ کھولتے ہیں۔
کراچی میں بڑھتی ہوئی بھکاریوں کی تعداد کے سبب شہر میں جرائم کی وارداتوں میں اضافے کا بھی خدشہ ہے۔ گذشتہ سال میئر کراچی نے بھی کہا تھا کہ کراچی میں یومیہ 10 سے 15 ہزار تک اندرون ملک سے نئے افراد روزگار کی تلاش میں آتے ہیں۔ انہوں نے بھی اس معاملے کو اہم مسئلہ قرار دیا تھا، مگر تاحال اس حوالے سے کوئی بھی اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے۔